دیوتا (افسانہ)
دیوتا محی الدین نواب کا تحریر شدہ اردو افسانہ ہے جو کہ اردو ماہنامہ سسپنس ڈائجسٹ میں گذشتہ 33 سالوں سے بلا ناغہ شائع ہو رہا ہے اور اردو ادب میں جاری رہنے والا سب سے طویل ترین اور مقبول ترین افسانہ بن چکا ہے۔
فنی جائزہ[ترمیم]
کردار نگاری[ترمیم]
کردار نگاری کے حوالے سے اگر دیکھا جاءے تو دیوتا کرداروں سے بھرپور افسانہ ہے۔ چند اہم کرداروں کا جاءزہ پیش خدمت ہے۔
فرہاد علی تیمور آمنہ فرہاد, سونیا فرہاد, پارس, پورس, علی تیمور, اعلیِ بی بی, عدنان, انوشے
فرہاد علی تیمور[ترمیم]
ایک ایسے شخص کی کہانی بیان کی گئی ہے جو ٹیلی پیتھی کا علم اس وقت سیکھتا ہے جب یہ بہت پسمانہ تھا اور ابھی اپنی جہتوں کی تلاش میں تھا رفتہ رفتہ فرہاد اس علم میں قاپلیت ھاصیل کرتا ہے اور دوستوں کے لیے دوست اور دوشمنوں کے لیے وزاب بنتا ہے۔اسے ایک پاکستانی شخص کے طور پر بتایا گیا ہے جو محب وطن ہے لیکن ملک سے باہر ہی رہتا ہے زیادہ تر وقت اصل میں کسی جگہ اس کا ٹھکانہ نہیں ہے۔ فرہاد کی زندگی کی کہانی بیان کی گئی ہے جس میں دوست دشن اپنے بیکانے سبھی کا نہایت تفصیل سے بتایا گیا ہے