دیو جانس کلبی

وکیپیڈیا سے

:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

Diogenes of Sinope یونان کا فلسفی جو فلسفہ کلبیت کا پیرو تھا۔ سینوپ میں پیدا ہوا۔ ایتھنز میں سکونت اختیار کی ۔ کہا جاتا ہے کہ ماتا دیوی کے مندر میں ایک ٹب میں بیٹھا رہتا تھا۔ ایک بار بحری قزاقوں کے قبضے میں آگیا ۔ انھوں نے اسے کورنتھ کے ایک دولت مند آدمی کے ہاتھ فروخت کر دیا۔ آخر اس کے بچوں کو تعلیم دی اور آزادی پائی۔ دیانتدار آدمی تلاش میں روز شہر میں روشن چراغ لیے ، شہر میں پھرا کرتا تھا۔

(قدیم یونان کا ایک مشہور فلسفی ہے جس کا نام دیوجانس ہے۔ اس کا زمانہ 323-412 ق م ہے، کہاجاتاہے کہ سردی کے موسم میں وہ دھوپ میں زمین پر لیٹاہوا تھا۔ شاہ الیکزینڈر خود اس کے پاس آیا۔ اس نے کہا کہ آپ کو جو کچھ مانگنا ہے مانگیں،اس کو پورا کیاجائے گا۔دیوجانس نے شاہ کی طرف رحم بھری نظروں سے دیکھا اور کہا: میں تم سے کیا مانگوں، تمہارے پاس مجھے دینے کے لائق کوئی بھی چیز نہیں۔ جو کچھ تم دے سکتے ہو وہ مجھے نہیں چاہیئے، بس تم میرے اتنی مہربانی کرو کہ سامنے سے ہٹ جاؤ ،میری دھوپ نہ روکو۔ یافت آدمی کو بلند ترکرتی ہے،دیوجانس کا احساس تھا کہ اس کی فکری یافت بادشاہ کے خزانوں سے زیادہ بڑی ہے۔ اسی احساس نے اس کے اندر وہ استغناء پیدا کیا جس کا ایک نمونہ اوپر کے واقعہ میں نظر آتاہے۔)[1]

[ترمیم] حوالہ جات

  1. ^ مولانا وحید الدین خان ڈائری جلد اول (1984-1983) ص:171

[ترمیم] مزید دیکھیے