شکاری قرضے

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

شکاری قرضوں Predatory lending سے مراد ایسے قرضے ہیں جو دھوکہ دینے کی نیت سے دیے جاتے ہیں اور قرض دیتے وقت ہی طے ہونے والی شرائط بد دیانتی پر مبنی ہوتی ہیں۔ امریکہ میں شکاری قرضوں کی کوئ واضح قانونی تعریف موجود نہیں ہے۔ کم پڑھے لکھےلوگ ،غریب افراد، اقلیتی طبقے اور عمر رسیدہ لوگ زیادہ تر اسکا شکار ہوتے ہیں۔

ان شکاری قرضوں کے لیئے کوئ چیز رہن (گروی) رکھی جاتی ہے مثلاً کار یا مکان۔ قرض دینے والے ادارے یہ اچھی طرح جانتے ہوئے بھی کہ قرض لینے والا یہ قرض ادا نہیں کر سکے گا اسے قرض دے دیتے ہیں۔ جب مقروض بروقت قسطیں ادا نہیں کر سکتا تو گروی شدہ چیز کو بیچ کر قرض دہندہ بینک یا کمپنی اپنا تو منافع حاصل کر لیتی ہے جبکہ قرض لینے والا اکثر کنگال ہو جاتا ہے۔ شکاری قرضوں میں پھنسانے کے بے شمار طریقے ہیں مثلاً قرض کی شرائط کو غیر واضح رکھنا یا چھپانا، شرح سود کو نہایت مناسب بتانا، خفیہ معاوضوں کو بعد میں ظاہر کر کے انکا مطالبہ کرنا، دستاویزات میں ردو بدل کرنا وغیرہ۔

  • امریکہ کے مشہور بنک HSBC Finance پر شکاری قرضے دینے کا الزام لگایاگیا تھا جسکے بعد اس مالیاتی ادارے نے اپنی پالیسیوں میں کچھ تبدیلی کی۔
  • امریکہ میں sub-prime mortgages اسکینڈل میں ایسے لوگوں کو قرض پر مکانات دیے گیئے جن کے بارے میں قرض دینے والوں کو اچھی طرح معلوم تھا کہ یہ لوگ ایسا قرضہ نہیں چکا سکتے۔
  • Ameriquest Mortgage نامی ایک ادارے پر جب یہ ثابت ہو گیا کہ اسنے دھوکہ دہی سے کام لیتے ہوے قرض خواہوں کو شکاری قرضوں میں پھنسایا ہے تو اس کمپنی نے 32.5 کروڑ ڈالر ہرجانہ دینے پر آمادگی ظاہر کر دی۔

IMF اور پاکستان[ترمیم]

24 فروری 2012 کو پاکستان نے 40 کروڑ ڈالر IMF کو قرض کی پہلی قسط کے طور پر ادا کیئے۔ اس سال کی دوسری قسط 25 مئی،تیسری قسط 24 اگست اور چوتھی قسط 23 نومبر کو ادا کرنی ہے۔ اس سال لگ بھگ سوا دو ارب ڈالر پاکستان نے ادا کرنے ہیں جس سے روپیہ کی قدر میں بہت کمی اور مہنگائ میں زبردست اضافہ ہو گا۔The News

مزید دیکھیئے[ترمیم]

بیرونی ربط[ترمیم]