ممتاز اکبر خان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
ممتاز اکبر خان

ممتاز اکبر خان بریڈفورڈ کا ایک پاکستانی تاجر ہے۔ اس کی کہانی کچھ یوں ہے کہ یہ صاحب 1980 تک ایک فیکٹری میں مزدوری کیا کرتے تھے۔ فیکٹری جاتے ہوئے وہ بریڈفورڈ کی معروف سڑک گریٹ ہارٹن روڈ پر ایک میل کی مسافت پیدل طے کرتے۔ ایک روز انہوں نے سوچا کہ کیوں نہ کوئی دوکان کھولی جائے ۔ ممتاز کی والدہ نے 4 ضرب 6 فٹ کے ایک کھوکے سے کام کا آغاز کیا۔ ممتاز اپنی والدہ کے ہمراہ سموسے اور پان تیار کرتا اور پھر مزدوری کے لئے چلا جاتا۔ وہ دکان چلتی رہی تا وقتیکہ ان کےوالد نے ایک ہوٹل یا پب خرید لیا جس میں ایشیائی کھانے کے علاوہ شراب بھی فروخت کی جاتی تھی۔

کاروبار کی ترقی[ترمیم]

ممتاز کا ہوٹل کچھ خاص کاروبار نہیں کررہا تھا۔ اپنے قیام کے کچھ دن بعد اس کے ہوٹل مین بی بی سی لندن کی ایک ٹیم کھانا کھانے آئی۔ ممتاز نے ان کی خوب آؤ بھگت کی اور انہیں اچھی سروس و کھانا فراہم کیا۔ صحافیوں کی وہ ٹیم اس کے رویئے اور کھانے سے خوش ہوئی مگر انہیں اس پر حیرت اور افسوس ہوا کہ اس فرد کا ہوٹل کیوں نہیں چل پا رہا ہے۔ بی بی سی کی وہ ٹیم اس روز شہر کے ایک میلے کی افتتاحی تقریب کی کوریج کے لئے لندن سے آئی تھی۔ بی بی سی کے ان نمائندوں نے ممتاز کے ریسٹورنٹ کی بھی ویڈیو بنائی اور اگلے روز بریڈفورڈ کا پہلا ایشیائی میلہ جب ٹی وی پر نشر ہوا تو اس نے اہل برطانیہ کی توجہ حاصل کرلی۔ اسی کے ساتھ شہر ممتاز کے ریسٹورنٹ کو شہر کا ایک بہترین ایشیائی ریسٹورنٹ بتایا گیا۔ وہی دن ممتاز کی زندگی کا اہم ترین موڑ تھا۔ برطانیہ بھر سے لوگ میلہ دیکھنے بریڈفورڈ آتے اور ساتھ ہی اس ریستوران کا بھی دورہ کرتے۔ یوں اس کاروبار نے خوب ترقی کی اور اب یہ برطانیہ کا سب سے بڑا ایشیائی ریستوران گروپ ہونے کا دعوہ کرتا ہے جس کا سالانہ کاروبار کئی ملین پائونڈ کا ہے۔

مثبت تبدیلی[ترمیم]

کاروبار کی ترقی کے بعد ممتاز نے محسوس کرلیا کہ اس کا زیادہ کاروبار مسلمانو ں کے ساتھ ہیے لہٰذا اس نے شراب ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔ خدا کی قدرت کہ اس فیصلے نے مسلم کمیونٹی کو مزید اس کی جانب متوجہ کرلیا اور کاروبار نے مزید ترقی کی۔