ادریس بابر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

ادریس بابر {{{مضمون کا متن}}}

حوالہ جات[ترمیم]

Midori Extension.svg یہ ایک نامکمل مضمون ہے۔ آپ اس میں اضافہ کر کے ویکیپیڈیا کی مدد کر سکتے ہیں۔

اردو شعراء كي فہرست

1۔ تعارف ادریس بابر گوجرانوالہ پاکستان میں غالباً 1973 میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق علمی گھرانے سے ہے۔ معروف شاعر جان کاشمیری ان کے چچا ہیں۔ جان کشمیری کا ایک شعر اردو دنیا میں بہت گونجتا رہا ہے پسِ پردہ بھی تکلّم سے گریزاں رہنا لوگ آواز سے تصویر بنا لیتے ہیں ادریس بابر کا تعلیمی کیریئیر انتہائی شاندار رہا۔ ادبی دنیا میں ان کی موجودگی کا نوٹس 1990 کے بعد لیا گیا جب وہ انجنئیرنگ یونیورسٹی لاہور ( یو ای ٹی) کی لٹریری سوسائٹی/لریکل فورم میں فعال ہوئے۔ اس لحاظ سے ان کا تعلق 1990 کی دہائی میں منظر عام پر آنے والے شعرا سے ہے۔ ان کی شناخت کا سفر 1992 میں فنون میں ان کی غزلوں کی اشاعت سے آگے بڑھا۔ 2000 تک وہ اردو غزل کے شعری منظر نامے میں اپنا مکمل تعارف پیدا کر چکے تھے تاہم ناروے چلے جانے کے سبب ان کا پہلا شعری مجموعہ "یونہی" 2012 میں شائع ہو سکا جیسے فیض احمد فیض ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اس مجموعے میں ان کا 2000 تک کا کلام شامل ہے۔ ادریس بابر عالمی ادب سے تراجم کے سلسلے میں بھی معروف ہیں۔ اس کے علاوہ وہ نظم اور حمد ونعت بھی کہتے رہے ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے دس مصرعی نظم " عشرہ" متعارف کرائی ہے۔ ادریس بابر 2012 میں پاکستان واپس آ گئے اور تا حال یہیں مقیم ہیں۔ ادریس بابر کا کلام دنیا کے تمام اہم اردو جرائد میں چھپتا رہا ہے اور اہم اردو ویب سائٹس پر بھی دستیاب ہے

2۔ رحمان حفیظ کے ایک مضمون سے ا قتباس

{کتاب : "غزل زندہ رہے گی ( 20 شعرا کا غزلیہ انتخاب 1990 تا 2015 از نعمان فاروق)، اشاعت 2015، انحراف پبلیکیشنز، اسلام آباد، مقدمہ : رحمان حفیظ}

ادریس بابر کا نام ذہن میں آتے ہی اس جدید ترین غزل کا تصوّ ر ذہن میں لپکتا ہے جو آج کی نئی نسل سے منسوب ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ادریس نے اپنے تازہ لب و لہجے اور متنوّع موضوعات کے ذریعے نو جوانوں میں وہ مقبولیت حاصل کی ہے جو شاید اس ایج گروپ میں کسی اور حاصل نہ ہوئی ہو۔ ادریس بابر شاعری میں ایک عمدہ، منفرد اور نیا طر زِ احساس متعارف کروانے میں کامیاب رہا ہے اور یہی اس کی سب بڑی کامیابی ہے۔ معروضی طور پرشاعری میں جدّت سے ایک مراد روایت کی نفی کیے بغیر کلیشے سے نجات بھی ہے جو اگلے مر حلے میں نئے الفاظ و مرّکبات اور علامات تک پھیل جاتی ہے جو مضامین میں نئی دلچسپی کا موجب بن سکیں، پھر یہ اس سے کہیں آگے بڑھ کر لسانی تشکیلات تک بھی جا سکتی ہے جس کا ڈول بہت پہلے ڈالاگیا تھا تاہم فوری کامیابی کی بجائے اس کے ثمرات وقت کے ساتھ ساتھ سامنے آ رہے ہیں۔ زبان کے معاملے میں ادریس بابر فرسودہ نظریات کو مسترد کرتا ہے کیونکہ وہ ہر طرح کے ا لفاظ میں اپنی تخلیقی توانائی کی مدد سے شعریت پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یوں ادریس بابر دورِ حاضر میں اپنے منفرد انداز بیان سے ایک نئے لہجے کی تشکیل کر رہا ہے۔ اس کی ایک خوش قسمتی یہ بھی ہے کہ نئے لکھنے والوں کی ایک کثیر تعداد اس کے ساتھ ہے جو ایک تحریک کا سا تاّثر پیدا کر رہی ہے پہلے مجموعے " یونہی" کی اشاعت کے بعد اس کے ہاں شعری تبدیلی کی یہ رفتار بڑھتی نظر آ رہی ہے اور وہ نئے راستوں کی تلاش میں چٹانیں تراشتا جا رہا ہے باوجودیکہ وہ "یونہی" کی اشاعت سے شاعری میں بغاوت کا تاّثر دیے بغیر نیا اور منفرد شعر کہہ کر عصری غزل میں اپنا ایک مقام پہلے ہی بنا چکاتھا۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ کچھ عرصہ پہلے ادریس بابر کے تازہ کلام کے مسودات گم ہو گئے یا چوری کر لیے گئے اور ان کی کوئی کاپی ابھی اتک بازیاب نہیں ہو سکی۔

کچھ درخت اپیے جڑیں ساتھ لیے پھرتے ہیں اسے مجبوری سمجھ لیجیے، ہجرت کیسی

کہانیوں نے مری عادتیں بگاڑ دی تھیں میں صرف سچ کو ظفریاب دیکھ سکتا تھا

وہ مجھے دیکھ کر رہا خاموش اور اک شور مچ گیا مجھ میں

تیری آنکھوں پہ مرا خوابِ سفر ختم ہوا جیسے ساحل پہ اْتر جائے سفینہ مرے دوست

میں راہ سے بھٹکوں تو کھٹکتی ہے کوئی بات جس طرح کوئی سمت نما ہے مرے دل میں

کبھی تو اس کے گھر بھی جا کے دیکھیے یہ خواب اس کا مستقل پتا نہیں

اس نے ڈھونڈا تو گروپ فوٹو میں تھوڑا ہٹ کے نظر آنے لگا ہوں

اب جو بار میں تنہا پیتا ہوں کافی کے نام پہ زہر

اس کی تلخ سی شیرینی میں اس کے لب کا حصہ ہے

یہاں چراغ سے آگے چراغ جلتا نہیں فقط گھرانے کے پیچھے گھرانا آتا ہے

اُجڑ کے دل کبھی آباد ہو نہیں سکتا کہیں یہ پھول کھِلا تو دوبارہ اُس کا ہے

3۔ حماد نیازی کے الفاظ میں

ّّ{حماد نیازی کے طویل مضمون اکیسویں صدی کی غزل کا انفرادی و اجتماعی منظر نامہ سے اقتباس اور انتخاب کلام}

ادریس بابر اگر دیکھا جائے تو پچھلے بیس پچیس سالوں میں اپنے شعری سفر کا آغاز کرنے والوں میں امکانات،تجربات اور تخلیقی وفور کے اعتبار سے ایک بہت ہی اہم اور نمایاں شاعر کے طور پر جانے جاتے ہیں ادریس بابر کی غزل کو اگر بغور دیکھا جائے تو اسلوبیاتی سطح پر اس کی غزل کے اشعار ہمعصر منظر نامے میں شناخت کیے جا سکتے ہیں اور اس کی بنیادی وجوہات میں ایک اہم وجہ اس کے مصرعے کی منفرد اور مخصوص بنت ہے اس کے مصرعے ٹوٹ کر وقفے اور ٹہرااؤ سے ترتیب پاتے ہیں پھر ایک ہی مصرعے میں ایک سے زیادہ امیجز کو بافت کا حصہ بنانا اور ان سے ایک ہی مصرعے میں استفہامیہ تخلیق کر کے ان کا جواب بھی فراہم ہوتا نظر آئے یہ چیز معاصر غزل میں ادریس بابر کے علاوہ شاذ و نادر ہی دیکھنے میں ملتی ہے ادریس بابر کی غزل کا دوسرا اہم پہلو جو اس کی پہلی کتاب یونہی اور اس کے بعد زیر ترتیب کتاب ایک ہزار ایک دن کی چند مطبوعہ غزلوں سے بر آمد ہوتا ہے وہ داستانوی رنگ ہے اس کی غزل ہماری روایتی غزل کی روایت سے ہٹ کر ایک الگ داستانوی فضا تخلیق کرتی نظر آتی ہے جس کی ایک جہت میری ذاتی رائے میں کس حد تک حالیہ جدید افسانوی اسلوب میجیکل ریلزم کے علاقے سے بھی سیر کراتی محسوس ہوتی ہے ادریس کے ہاں ماضی کی بازیافت کا عمل اس کے تخلیقی کرب سے نمو پزیر ہوتا ہے اور یہ تخلیقی کرب آگے چل کر اسے ما بعد جدید عہد کی نمائندہ غزل میں ایک ایسے کلامیہ کی طرف قاری کو متوجہ کرتا ہے جو خالص تخلیقی واردات سے بحث کراتا ہے موجودہ مابعد جدید عہد میں زندگی اور کلچر کے نقوش کو اپنی تخلیق کا حصہ بنا کر اس میں لسانی اور شعری جمالیات کی تجریدی ،ابہامی اور امکانی صورتوں میں اس قدر تنوع آپ کو ادریس بابر کے علاوہ معاصر عہد میں کسی کے ہاں نہیں ملے گا۔ ملال اور احساسِ تنہائی آج کے انسان خصوصا ایک حساس تخلیق کار کے ہاں جس شدتِ اظہار کا متقاضی ہے ادریس بابر کی غزل اس کا ایک عمدہ اظہاریہ ہے ایک اور چیز جو ادریس بابر کی حالیہ غزلوں میں دیکھی جا سکتی ہے کہ وہ دو متوازی اسالیب کو ساتھ ساتھ لے کر چل رہے ہیں ایک طرف ان کی مخصوص داستانوی فضا جہاں قاری کو گرفت میں لیتی ہے وہیں وہ ما بعد جدید عہد کی لفظیات کو بھی غزل لاتا ہے اور کہیں نہ کہیں ہماری نئی غزل کو ایک نئے ذائقے سے روشناس کرا تا ہے کہانی ،خواب، وقت ،یاد، رائیگانی اور تنہائی سے مزین اس کی شعری فضا جہاں ہمارے تہذیبی زوال پر تبصرہ ہے وہیں ہمارے عصری رویوں اورآج کے انسان جو کہیں معاشرہ کہیں مذہب کہیں قومیت اور کہیں سرمایہ دارانہ نظام میں جکڑا ہوا ہے اس کی بے بسی کا نوحہ ہے ادریس بابر کی ان متنوع جہات سے مہمیز اسلوب جدید اردو غزل کے افق پر اس کی الگ شناخت بنانے اور اسے زندہ رکھنے میں کافی حد تک کامیاب لگتا ہے دریا وہ کہاں رہا ہے ،جو تھا اس شہر میں ایک ہی قصہ گو تھا جیتی رہو کہانیو! ملتے ہیں یار ایک دن ایک ہزار ایک رات ،ایک ہزار ایک دن گاؤں سے گاؤں ڈاکیے،لوگوں کے خط پڑھا کیے میر امن ہوا کیے،باغ و بہار ایک دن تم نے تو حکایات ہی سن رکھی ہیں ورنہ وہ شہر، وہ خیمے، وہ سرا ہے،مرے دل میں میں بھی ہوں، تو بھی ہو،اک جگہ پہ اور وقت بھی ہو اتنی گنجائشیں رکھتی نہیں دنیا ،مرے دوست کشادہ راستے،خوش لوگ،نیک دل حاکم میاں!وہ شہر کہاں ہے جہاں کی بات ہے یہ اگر وہ کشتیاں جلنی تھیں جل گئیں بابا! ثمر بہشت تو ہوتے نہیں تھے اندلس میں سو کے اٹھیں گے جب،تھکے ہارے وقت کیا ہو گا تب ،نہیں معلوم خون،بستوں میں،جیبوں میں لرزتے ہوئے فون موت سے کال ملی ننھی پری سے پہلے فون ملائیں گے نہیں،بات کرائیں گے نہیں ہیلو! ہیلو! یہ اندھیرا مجھے کچھ کہتا ہے کل بچوں کو چاہیے ہو گا اک ریموٹ کنٹرول خدا بیٹری سے چلنے والا سورج،چابی سے چلنے والا چاند یہ دل اک آدھ ثانیے کو بھی رکا تو بس،گیا مشین چل پڑے گی پھر،مشین کی تو خیر ہے دن کا فوٹو تو لو اندھیرے میں دیکھا جائے گا،روشنی ہے کیا بم پھٹا،ساٹھ چینلوں میں بٹا لوگ سارے گلی کے کام آئے آج تو جیسے دن کے ساتھ،دل بھی غروب ہو گیا شام کی چائے بھی گئی موت کے ڈر کے ساتھ ساتھ سوچیے کیا کوئی کر سکتا ہے وہ بھی جب سوچنے کا وقت نہ ہو


ادریس بابر کی پہلی کتاب یونہی ۔۔۔ فیض احمد فیض ایواڑ یافتہ ہے ہے نیز تمام اُردو کی بڑی ویب سائیٹس پر[1] آپکا کلام بہت شوق سے پڑھا جاتا ہے اردو شعراء كي فہرست ّ[1] ٌٌٌٌٌٌ[2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ادریس بابر کی شاعری