اشاریہ بندی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
  • جے ایچ ہانسنJ H Hansan نے اشاریہ بندی کی تعریف یوں کی ہے۔”یہ افراط زر کے زمانے میں خوردہ قیمت کے اشاریہ کے مد مقابل متناسب آمدنی (جو خصوصأئ سرمایا کاری سے ہوتی ہو) کا ایک نظام

ہے، جس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ سرمایا کی قیمت میں جو کمی ہوتی ہے‘ اس کی تلافی کی جائے۔

  • کسی ملک میں جاری شدہ کرنسی نوٹ اس ملک کی اشیاء اور خدمات کے مقابلے میں زیادہ تعداد میں جاری ہوجائیں، تو اس کے نتیجے میں اشیاء اور خدمات کی قیمت بڑھ جانے سے ملک میں مہنگائی پیدا ہوجاتی ہے۔ اس لیے ملک میں جاری شدہ کرنسی اشیاء اور خدمات کی نمائندگی کرتی ہیں اور ملک میں میسر اشیاء و خدمات رسد کی نمائندگی کرتی ہیں۔ لہذا جب رسد کے مقابلے میں طلب زیادہ ہوجائے تو مہنگائی پیدا ہوجاتی ہے۔ ایسی صورت میں بعض معاشیات دانوں کا کہنا ہے کہ افراط زر کے وقت عدد کا اعتبار کرتے ہوئے سو روپیہ کے بدلے سو روپیہ کی ادائیگی واپس کرنا قرض خواہ پر ظلم ہے۔ کیوں کہ ایسی صورت میں قرض دار قرض خواہ کو اس کی نصف قوت خرید واپس کررہا ہے جو قرض دار کو دی گئی تھی۔
  • ’معاشی اتار چڑھاؤ کو ان تغیر پذیراشیاء کی حقیقی قیمت برقرار رکھنے کے لیے معیار عمل بنایا جاتا ہے، جن کی پیمائش کرنسی کی اکائیوں میں کی جاتی ہے۔ اس کی ترکیب یہ ہے کہ کسی تغیر پزیر شے کو ایک منتخب انڈیکس Indexسے مربوط کردیا جاتا ہے۔ جیسے اجرت کو خوردہ قیمت کے اشاریہ سے منسلک کردیاجائے۔ مقصدیہ ہوتا ہے کہ حقیقی اجرت کی سطح میں تبدیلیوں سے قطع نظر روکا جائے۔ اسی طرح سود کی شرح کو بھی کو انڈیکس Index کیا جاسکتا ہے۔ تاکہ سرمایا پر نفع کی مثبت شرح کو حقیقی معنوں میں تحفظ حاصل ہو سکے۔ نظام محاصل انڈیکشن Indextion کا ایک اہم میدان تخلیق کرتا ہے، تاکہ وضع کرتا آمدنی کے تناسب کو نسبتأئ یکساں رکھا جاسکے۔
  • چنانچہ بعض ماہرین معاشیات اس کے مستقل حل کے لیے یہ تجویز کرتے ہیں کہ کرنسی نوٹ کی قدر معلوم کرنے کے لیے قیمتوں کے اشاریہ کو معیار بنایا جائے اور تمام واجبات و حقوق کی ادائیگی کے لیے

قیمتوں کے ساتھ کرنسی نوٹ کی قیمت کے تعلق کو معیار بنایا جائے اور قیمتوں کے اشاریہ میں اہم اشیاء اور اجرتوں کا اندراج کیاجائے۔ پھر سال کے آخر میں جو قیمتیں رائج ہوں انہیں درج کیا جائے اور ان دونوں نرخوں یاقیمتوں کے درمیان جو فرق ظاہر ہوگا، اس فرق کا تناسب نکالیں اسی تناسب سے نوٹوں کی قیمت میں تغیر سمجھا جائے گا۔

  • مثلأ سال کے شروع میں جس چیز کی قیمت سو روپیہ تھی اور سال کے آخر میں اس کی قیمت ایک سو دس روپیہ ہوگئی۔ جس چیز کی قیمت دس روپیہ تھی، اب ا س چیز کی قیمت گیارہ روپیہ ہوگئی۔ گویا اب اشیاء کی قیمتیں دس فیصد بڑھ گئیں ہیں، اب کرنسی کی قیمت میں دس فیصد کمی سمجھی جائے گی۔ لہذا وہ حقوق و فرائض جو سال کے شروع میں واجب الادا تھے، سال کے آخر میں ان کی ادائیگی دس فیصد زیادتی کے ساتھ ادا کی جائے گی۔ اس لیے سال کے شروع میں سو روپیہ لیے ہوں تو اس کو ایک سو دس روپیہ واپس کرنے ہوں گے۔
  • قرضوں کو قیمتوں کے اشاریہ سے منسلک کرنے کا مقصد یہ ہے، کہ قرض دار قرض خواہ کو صرف قرض کے برابر روپیہ واپس نہ کرے، بلکہ قیمتوں کے اشاریہ میں جس تناسب سے اضافہ ہوا ہے اسی

تناسب سے قرض میں اضافہ کرے۔ مثلأئ کسی نے ایک ہزار روپیہ قرض لیا اور قرض کو وہ واپسی کے وقت قیمتوں کے اشیاریہ میں دس فیصد کے تناسب سے اضافہ ہوچکا ہے۔ تو قرض خواہ کو دس فیصد کے تناسب سے ہز ار کے گیارہ سو روپیہ واپس کرے۔

  • ڈاکٹر حسن الزمان ’کا کہنا ہے دنیا کے ۱۲ ملکوں میں اشاریہ بندی رائج ہے۔ مختلف ملکوں میں اجرتوں، پینشنوں اور سماجی ادائیگیوں کے نظام کو اس کے تابع کر دیا گیا ہے۔ بعض دوسرے ملکوں نے صرف

بانڈزکو انڈیکسIndex کیا ہے، جب کہ بہت سے ملکوں میں سرمایا کاری کی مختلف صورتوں کو بھی انڈیکس Indexکیا ہے۔ برازیل واحد ملک ہے جس نے اس عمل کو جامع انداز میں اپنایا ہے۔ ان اختلافات کی بنا پر ہم کہ سکتے ہیں کہ انڈکشن Indextionکا طریقہ مختلف ملکوں میں مختلف ہے۔ اشاریہ بندی کی سب سے عمومی ترکیب اجرت یا صارف کی قیمتوں میں سرمایاکاری یا مصارف زندگی سے اس کا ربط جوڑنا ہے۔ بعض ممالک قیمتوں کے نظام کے ساتھ پیشگی تطابق قائم کرلیتے ہیں، جبکہ اکثرممالک بعد میں ایسا کرتے ہیں۔ تطابق کی یہ مدت ایک مہینے سے ایک سال تک اور بعض صورتوں میں تین برس تک طویل ہوتی ہے۔

  • بنیادی تجربہ میں اشاری بندی سے مراد یہ ہے کہ کسی شخص کو نقصان اٹھانے والے کے اس نقصان کی تلافی کرنا ہے، جو سرمایا کی قیمت خرید کو پہنچا ہو یا اس کی قدر میں جو کمی واقع ہوئی ہو اس کی تلافی کرنی ہے۔ یہ تلافی حکومت آجر،مقروض یا بینکار پر عائد ہوتی ہے۔
  • اشاریہ بندی کی سب سے عمومی ترکیب اجرت یا صارف کی قیمتوں میں سرمایاکاری یا مصارف سے سرمایا رائج ہوا ہے کبھی یکساں نہیں رہی ہے۔ یہ ا س و قت بھی ایسی ہی تھی جب سرمایا کلیتأئ کرنسی نہیں

مروج تھا۔ یہ اشاریہ بندی اوسط آدمی کی صرفی عادت کی نمائندگی کرتا ہے اور اصل اشخاص کی بھاری اکثریت کی نمائندگی نہیں کرتا ہے۔ اس لیے یہ بہتوں کے لیے نامصفانہ اور دوسروں کے لیے ناجائز رعایت ہے۔

  • اشاریہ بندی کا تصور اب تک عام ہیں بن سکا ہے۔ چنانچہ دنیا کے اکثر ممالک قرضوں کو قیمتوں کے ساتھ مربوط کرنے کے نظریہ سے متفق نہیں ہیں۔ یہ نظریہ صرف چند ممالک میں ہی رائج ہوسکا ہے۔

مثلأ برازیل، آسٹریلیا اور اسرائیل وغیرہ میں۔ پھر ان ممالک نے اس نظریہ کو پوری طرح اپنایا نہیں ہے اور نہ ہی تمام مالی معاملات میں اس کو اختیار کیا، بلکہ اس نظریہ کو معاشیات کے صرف خاص شعبوں میں اختیار کیا ہے۔ اس لیے اس نظریہ کو عام اصول کے طور پر تمام معاشی مسائل میں جاری کرنا ممکن بھی ہیں ہے۔ حتیٰ خود معیشت دان بھی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں۔ چنانچہ بین ہور اور ایچ لیوی کا کہنا ہے کہ ’قیمتوں کے اشاریہ کو تمام مالی معاملات میں پورے طور پر کام لانا ایک ایسا فعل ہے جس کا حصول عملأئ نا ممکن ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]