اقدار (اخلاقیات)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

اخلاقیات میں اقدار سے مراد کسی شے یا کسی عمل کی اہمیت ہے، جس کا مقصد یہ متعین کرنا ہے کہ کیا کیا کام کرنا سب سے افضل ہے یا کیا طریقہ ہے جس سے معمول کی اخلاقیات اپنائی جا سکتی ہیں یا یہ واضح کرنا کہ مختلف کاموں کی کیا اہمیت ہے۔ اس کا بیان کاموں کے کرنے کو مجہول اشیا سے تشبیہ دینا اور ان اقدار کو منسوب کرنے کے طور پر ہو سکتا ہے۔ یہ اخلاقی عمدگی اور اچھی زندگی سے تعلق رکھتا ہے، اس طرح سے کہ یہ اعلٰی سطحی یا کم از کم نسبتی اعلٰی سطحی قابل قدر عمل کو اخلاقی طور پر "اچھا" کہا جاتا ہے اور ایضًا گھٹیا سطح یا کم از کم نسبتی اطور پر گھٹیا سطح بہ لحاظ قدر و منزلت کام کو اخلاقی طور پر "برا" کہا جاتا ہے۔ [حوالہ درکار] کسی شے کو کیا قابل قدر بناتی ہے، اس بات کا انحصار بھی ان اخلافی اقدار پر منحصر ہو سکتا ہے جو اس شے کی قدر و منزلت کو بڑھاتی، گھٹاتی یا اس قدر کم کرتی ہیں۔ اخلاقی قدر سے جڑی شے کو حسن اخلاق یا حسن فلسفہ کہا جاتا ہے۔

اقدار کی تعریف کاموں کے کرنے یا نتائج کے حصول کے ضمن کی وسیع ترجیحات میں تعریف کی جا سکتی ہے۔ اقدار اپنے آپ میں کسی شخص کی اچھائی یا برائی سمجھنے کی حس کا درجہ رکھتے ہیں یا پھر یہ بتاتے ہیں کہ کیا ہونا چاہیے۔ "سب کے لیے مساوی حقوق"، "عمدہ کارکردگی پر مدح سرائی لازم ہے" اور "لوگوں کے ساتھ عزت و وقار کے ساتھ پیش آنا چاہیے" اقدار ہی کی مختلف مثالیں ہیں۔ اقدار لوگوں کے رویوں پر اثر انداز ہوتے ہیں جو اخلاقی اقدار، نظریاتی، مذہبی، سیاسی، سماجی اور فن کارانہ اقدار ہیں۔ اس بات پر کافی بحث کی گئی ہے کہ کیا کچھ اقدار جو واضح طور پر جسمانی طور پر متعین نہیں ہیں، جیسے کہ بے لوث خیرخواہی اندرونی ہیں اور کیا کچھ جیسے کہ خود سے کسی شے کو جوڑے رکھنا، بھی شر یا خیر کے طور زمرہ بند ہو سکتے ہیں۔

حوالہ جات[ترمیم]

مزید مطالعات[ترمیم]

  • The political algebra of global value change. General models and implications for the Muslim world. Arno Tausch; Almas Heshmati and Hichem Karoui. Hauppauge, New York; Nova Science Publishers, 2015