اقلیتون كے حقوق (پاکستان)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے

پاكستان كے 1973 عیسوی كے آئین كی رو سے سیاسی اور مذھبی اقلیتوں كو ھر قسم كا تحفظ حاصل ھوگا- تمام شھری قانون كی نظر میں برابر ھوں گے - ریاست اقلیتوں كے جائز حقوق اور مفادات كی حفاظت كرے گی- انھین وفاقی اور صوبائی ملازمتوں میں مناسب نمائندگی دی جائے گی- صوبائی اسمبلیوں میں اقلیتوں كو نمائندگی دینے كے لیے اضافی نشستیں بھی مخصوص كی گئی ہیں - آئین میں وه تمام ضمانتیں موجود ہیں جو ایك جمھوری ملك میں اقلیتوں كے حقوق اور مفادات كے تحفظ میں دی جا سكستی ہیں،

اقلیت کی ابادی[ترمیم]

پاکستان میں اب تک چھے بار مردم شماری ہو چُکی ہے۔ پہلی مردم شماری 1951ء میں ہوئی، جس کے مغربی پاکستان کے نتائج کے مطابق، مُلک میں 4 لاکھ، 34 ہزار عیسائی، 3 لاکھ، 69 ہزار شیڈول کاسٹ سے وابستہ افراد اور ایک لاکھ، 62 ہزار اونچی ذات کے ہندو تھے۔شیڈول کاسٹ کی آبادی کے تعیّن کے لیے کوئی الگ سے فارم یا خانہ نہیں تھا، بلکہ ماہرین نے اس کا اندازہ مختلف اعداد وشمار کی بنیاد پر لگایا۔ 1961ء کی مردم شماری میں پاکستان میں5 لاکھ، 884 عیسائی، 4 لاکھ، 18 ہزار، 11 افراد کا تعلق شیڈول کاسٹ سے تھا، جب کہ اونچی ذات کے ہندو 2 لاکھ، 3 ہزار، 794 تھے۔ 1972ء میں ہونے والی مردم شماری میں عیسائیوں کی تعداد 9 لاکھ، 7 ہزار، 861 تھی، شیڈول کاسٹ 6 لاکھ، 3 ہزار، 369 اور اونچی ذات کے ہندو 2 لاکھ، 96 ہزار، 837 تھے۔1981ء کی مردم شماری کے فارم میں شیڈول کاسٹ کا خانہ ختم کرکے اُنہیں بھی ہندو ڈکلئیر کردیا گیا، جس کے مطابق مُلک میں 13 لاکھ، 10 ہزار 426 عیسائی اور 12 لاکھ، 76 ہزار، 116 ہندو موجود تھے۔1998ء میں ہونے والی مردم شماری کے فارم میں شیڈول کاسٹ کا خانہ بحال ہوا۔نتائج کے مطابق، 20 لاکھ، 92 ہزار 902 عیسائی، 21 لاکھ، 11 ہزار، 217 ہندو اور 3 لاکھ 32 ہزار 343 شیڈول کاسٹ سے تعلق رکھنے والے تھے۔جب کہ 2017ء کی مردم شماری کے مذہب کی بنیاد پر اکٹھے کیے گئے نتائج اب تک سامنے نہیں آئے۔

حوالہ جات[ترمیم]