انگسٹورا ویرا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

دنیائے ہومیوپیتھی میں ڈاکٹر ولیم بورک کی کثیر المطالعہ تصنیف " بورک میٹریا میڈیکا " کلیدی حیثیت رکھتی ہے جس کے انگریزی میں نوایڈ یشن شائع ہو چکے ہیں اور یہ دوامیٹریامیڈ یکا میں (50) نمبر پر ہے،

alt text

علامات دوا[ترمیم]

انگس چورا کا اثر نکس وامیکا ،روٹا اور مرکیورس سے ملتا جلتا ہے مریض تھوڑی سی بات کو زیادہ محسوس کرتا ہے اور جلد غصہ میں آجاتا ہے معمولی سی بات سے نکس وامیکا کی طرح اس کی طبیعت پریشان ہو جاتی ہے اور اس میں چڑچڑاپن آ جاتا ہے روٹا کی طرح پٹھوں اور جوڑوں میں سختی اور اکڑن نیز کھنچاؤ ،تنگی کا احساس اور چوٹ لگنے کا سا درد ہوتا ہے بڑے جوڑوں کے دردوں اور فالجی شکایت میں بالخصوص مفید ہے جبکہ چلنے پھرنے میں سخت دقّت پیش آتی ہو، تمام جوڑوں میں کڑک کی آواز پیدا ہو تی ہے، قہوہ پینے کی نا قابل مزاحمت خواہش۔ لمبی ہڈیوں کے ناسور۔ فالج، کزاز (اکڑن ) پٹھوں و جوڑوں کی سختی۔ ذکاوتِ حِس۔ اس دوا کا خاص دائرہ اثر ہے، ریڑھ کے اعصاب اور بلغمی جھلیاں۔

دماغ:

بزدلی ،جلد ڈرنا،اپنے آپ پر بھروسا نہ ہونا ،بد مزاج ،بے صبر ،تھوڑی سی بات سے غصہ میں آنے والا .

سر :۔ نشہ بازوں کی سی حالت سر میں وحشت کا احساس ،[ترمیم]

نہایت ذکی المحِس، سر درد کے ساتھ ساتھ چہرے میں گرمی آئے رخساروں میں تیز درد، چہرے کے پٹھوں میں کھنچاو ہو، جبڑا کھولنے سے کنپٹیوں میں درد ہو جبڑے کی ہڈیوں اور چبانے کے پٹھوں میں درد ہو، جیسے وہ زیادہ چبانے سے تھک گئے ہوں، گال کی ہڈی میں اینٹھن کے ساتھ درد ہو۔

آنکھ:

آنکھوں میں بوجھ اور کھنچاؤ جیسے تیز روشنی سے ہو ،پپوٹوں میں خشکی اور درد کا احساس جیسے پپوٹے چیرے گئے ہوں ،آنکھوں میں جلن سرخی ،رات کو پپوٹے چپک جاتے ہیں ،آنکھوں کی پتلیاں ایک جگہ جم جاتی ہیں اور حرکت نہیں کرتی ،بینائی خراب ،ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مریض کہر میں سے دیکھ رہا ہے دور کی چیزوں کو نزدیک لا کر دیکھتا ہے

کان:

کانوں میں اینٹھن کا سا درد احساس جیسے کانوں میں کوئی چیز رکھ دی گئی ہے ،کانوں میں گرمی ،سننے کی طاقت میں کمی .

چہرہ:

چہرہ میں گرمی اور چہرہ کا رنگ نیلگوں سرخ ،چہرے کے پٹھوں میں کھنچاؤ اور چہرے کی ہڈیوں میں اینٹھن کا سا درد ،یہ درد آنکھوں کی پتلیوں اور کنپٹیوں میں جاتا ہے جس جھکنے سے ،چلنے سے یا دماغی تحریک سے تکلیف بڑھ جاتی ہے دانتوں کا بیٹھنا ،اس تشنج کے بعد چہرہ اور ہونٹ کچھ وقت کے لیے نیلے رہتے ہیں نیچے والے جبڑے کی ہڈی کا بڑھ جانا ،جبڑوں کو کھولتے وقت کنپٹیوں کے عضلات میں درد ،جبڑوں کے جوڑ میں درد جیسے بہت زیادہ تھک گئے ہیں

منہ: دانتوں میں کھنچاؤ ،زبان کا رنگ سفید ،زبان کا کھرکھراپن ،زبان میں جلن کا احساس ،کھوکھلے دانت میں درد ،لیس دار بدمزہ اور بدبودار بلغم اور مسلسل پانی میں پینے کی خواہش.

معدہ :۔[ترمیم]

منہ کا ذائقہ کڑوا، قہوہ پئے بغے ر نہ رہ سکے، ناف لسی جوف سے نہ تک درد ہو۔ نقاہت کے باعث بدہضمی، ڈکاریں آئیں، کھانسی ہو (امبرا)

پیٹ :۔[ترمیم]

دست اور قولنج، مروڑہو کر نرم پاخانہ آئے، دستوں کی پرانی شکایت جس میں کمزوری زیادہ ہو اور جسم کا گوشت سوکھتا چلا جائے۔ مقعد میں جلن ہو۔

آلات تناسل مردانہ:

تمام آلات تناسل پر زیادہ کھجلی ،بعض وقت خواہش نفسانی پیدا کرنے والی منی کا اخراج .

آلات تناسل زنانہ:

داہنے خصیہ الرحم کی تکلیف اس امر کا احساس کہ رحم داہنے خصیہ الرحم اور داہنے چوتڑ کے ساتھ لگ جائے .

سینہ:

تنفس تکلیف سے سانس کے دورے پھیپھڑوں کے اوپر والے حصوں میں سکڑن جیسے دوڑنے سے ہوتی ہے جلد چلنے اور سیڑھی چڑھتے ہوئے سینہ میں تنگی کا احساس . معمولی ہاتھ لگانے سے بھی سینہ میں تکلیف.

قلب:

دل کے حصہ میں اور سینہ میں کانٹے کے طرح جھٹکے اور دھماکے ،دل میں شدید تپکن ،بیٹھے ہونے پر یا آگے کی طرف جھکنے پر یا رات کو بستر میں بائیں کروٹ لیٹنے پر ،دھڑکن پریشانی کے ساتھ ،دل کا ایکدم متورم ہونے کا احساس ،مرنے کے خوف کے ساتھ ،بائیں کروٹ لینے سے کمی دل میں درد اور سکڑن.

پُشت :۔[ترمیم]

کمر کے ساتھ ساتھ خارش، گردن کے مہروں میں درد، گردن میں کھنچاو آئے۔ ریڑھ کی ہڈی، گردن کی جڑ اور تکونیہ ہڈی میں درد ہو جو دباو پڑنے سے زیادہ ہو، کمر کے ساتھ ساتھ پھڑکن آئے۔ اور جھٹکے آئیں، جسم پیچھے کی طرف جُھک کر اکڑ جائے۔

ہاتھ پاؤں :۔[ترمیم]

پٹھوں اور جوڑوں میں اکڑن اور کھنچاو آئے، چلے تو ہاتھ پاؤں میں درد ہو، بازو تھکے ہوئے بھاری بھاری، لمبی ہڈیوں کے ناسور، ہاتھ کی انگلیاں درد، گھٹنوں میں درد ہو، جوڑوں میں کڑکڑاہٹ ہو۔

جلد :۔[ترمیم]

ناسور، تکلیف دہ زخم جو ہڈیوں کو متاثر کریں۔

تعلقات :۔[ترمیم]

مقابلہ کریں : نکس، روٹا، مرک، بروسیا ( یہ نکس وامیکایا انگسٹورا فالسا کی چھال ہے ) کزاز ے عنی جسم کمان کی طرح اکڑ جات، جبکہ اس کے ساتھ بے ہوشی نہ آئی ہو اور تکلیف شورغل اور سیال اشیاءسے شدّت اختیار کرتی ہو، نچلے دھڑ کا فالج، معمولی سا چھوا جانا بھی برداشت نہ ہو، مبادا کوئی چھو نہ دے مریض اس خوف سے ہی چیخ اٹھتا ہے، ٹانگوں میں درد کے ساتھ جھٹکے آنا، گھٹنوں کا تشنجی درد، فالج میں ہاتھ پاؤں کی سختی، پیشاب میں پتھری نکلتے وقت درد ہونا۔

طاقت :۔[ترمیم]

6x سے 30 اور اونچی طاقت

حوالہ:

بورک میٹریا میڈیکا اینڈانسائیکلوپیڈیا آف میڈیسن