اگاری کس مسکاری اس

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
alt text

اگاری کس مسکاری اس (انگریزی: AGARICUS MUSCARIUS) ایک نسخہ ہے جو ہومیوپیتھی کی مشہور تصنیف ہومیوپیتھک میٹریا میڈیکا (Homeopathic Materia Medica) از ولیم بورک (William Boericke) میں درج ہے۔

علامات دوا[ترمیم]

اس دوا میں یہ ایک عجیب بات ہے کہ شروع سے آخر تک اور سر سے پاؤں تک اعضاء میں تشنج اور لرزہ محسوس ہوتا ہے پٹھوں میں جھٹکے اور اعضاء میں کپکپی یعنی پھرکنا اور کانپنا جسم کے ہر حصہ میں محسوس ہوتا ہے۔ کوریا( رعشہ) اور تشنج پایا جاتا ہے جلد کے اندر گوشت میں نیز اندرونی جسم میں چیونٹیاں سی رینگ رہی ہیں

کھجلی میں یہ ایک عجیب بات معلوم ہوتی ہے کہ جہاں مریض نے کھجلایا دیا وہاں سے ہٹ کر دوسری جگہ ہونے لگتی ہے اس دوا میں کئی طرح کے زہریلے عنصر پائے جاتے ہیں، ان میں سے مسکارین سب سے زیادہ مشہور ہے۔ اس زہر کے اثرات فوراً ظاہر نہیں ہوتے بالعموم ابتدائی حملہ 12 سے 14گھنٹہ بعد آتا ہے۔ اس زہر کا کوئی تریاق نہیں ہے۔ علاج محض علامات کے سہارے ہوتا ہے۔ (شینڈر) اگیریکس دماغ میں نشہ لاتا ہے۔ اس کے زیراثر شراب کی نسبت سر زیادہ چکراتا ہے اور بڑبڑاہٹ بھی زیادہ آتی ہے، اس کے بعد گہری غنودگی طاری ہوتی ہے اور مدافعت کی قوت کم ہوجاتی ہے۔ جھٹکے آنا،کھنچاﺅ آنا ،کانپنا اور خارش اس کی زبردست علامتیں ہیں ابتدائی دور میں ٹی بی کے رجحان سے اس دوا کا زبردست تعلق ہے، خون کی کمی ،پٹھوں میں کھنچاﺅ یا جھٹکے آنا،سوجانے پر جھٹکے نہیں آتے ،مختلف طرح کے عصبی درد والا تشنج جلد کے عصبی امراض، یہ سب اس کی زبردست اور رہنما علا متیں ہیں، اس میں دماغ میں اجتماع خون کی نسبت مختلف طرح کا دماغی جوش پایا جاتا ہے، چنانچہ اس بناءپر بخاروں کی ہذیانی کیفیت اور شراب کے بڑے اثرات کے لیے استعمال ہوتی ہے،عام فالج ایسا محسوس ہو جیسے جسم میں برف جیسی سوئیاں چبھ رہی ہیں، دباﺅ ایور سرد ہوا برداشت نہ ہو، شدید درد جن کا رخ نیچے کو ہو، علامات آڑے ترچھے ظاہر ہوتے ہیں،مثلاً دائیں بازو اور بائیں پاﺅں میں درد کے ساتھ سردی، بے حسی اور سر سراہٹ پائی جاتی ہے۔

دماغ[ترمیم]

گانے گائے اور باتیں کرے، مگر سوال کا جوب نہ دے،بہت باتونی کام کاج سے جی چرائے، بے پروا،بے خوف ،بکواس کی خصوصیت یہ ہے کہہ مریض ازخود گاتا ہے، چینخ مارتاہے، بڑبڑاتا ہے، شعر پڑھتاہے،پیش گوئی کرتا ہے، اس کیفیت کے ساتھ جمائیاں آتی ہے ں۔ دوران تجربات ذہنی جوش کے مندرجہ ذیل چار درجے نمودار ہوئے 1۔ معمولی جوش :بشاشت ہمت:ازخود بولنا،وجد اور کیف کا میلان 2۔ نشے کی طے شدہ حالت بہت زیادہ دماغی ہیجان اور بے تکی باتیں کرنا ،خوشی اور افسردگی میں عدم اعتدال اور باری باری آئے اشیاکے مناسب اور قدرتی جم وشکل وصورت کو صحیح طور پر سمجھنے کی صلاحیت بگڑ گئی ہو، لمبے قدم لیتا ہو اور چھوٹی چھوٹی چیزوں کو کودتا پھاندتا ہو۔ جیسے وہ کسی درخت کے تنے ہوں،چھوٹے سے سوراخ کو خوفناک دراڑ سمجھنا ،ایک چمچہ بھر پانی کو جھیل سمجھنا ،جسمانی قوت کا بڑھنا ،بھاری بوجھ اٹھانے کی طاقت آنا ،جھٹکے آنا۔ 3۔ تیسرے درجہ میں غصہ میں غضبناک بڑبڑاہٹ مارنے لگنا اور وہ خود کو زخمی کرنے کی خواہش وغیرہ۔ 4۔ چوتھا درجہ:۔ ذہنی پستی،سستی ،تکان،بے پروائی اور۔ کام کاج سے بے رخی پائی گئی۔ ہمیں بیلاڈونا کی طرح شدید دہنی انتشار نہیں ملتا۔ بلکہ ایک عام اعصابی ہیجان مثلاً بڑبڑانا ،جھٹکے اور بخار کی ہذیانی کیفیت وغیرہ۔بچہ چلنا اور بولنا دیر میں سیکھے ،بد مزاج اور خود پسند ،مسلسل بکواس کرے.

سر[ترمیم]

دھوپ سے اور چلنے سے سر چکرائے،متواتر ہلتا رہے،پیچھے کی طرف گر پڑے جیسے سر کے پچھلے حصہ پر بھاری بوجھ رکھا تھا۔ سر کے پہلوں میں جیسے کیل ٹھونکی جا رہی ہے(کافیا،اگنیشیا)زیادہ دیر تک دماغی محنت کرتے رہنے کے بعد سردرد ہو، سر میں برف جیسی ٹھنڈک جیسے وہاں برف کی مانند سرد سوئیاں رکھی ہیں،عصبی درد اور سر برف کی مانند سرد، سرگرم رکھنے کے لیے کپڑے سے لپیٹنا چاہے (سلیکا) سردرد اس کے ساتھ نکسیر آئے یا ناک سے گاڑی رطوبت خارج ہو ،کھلی ہوا میں نشہ بازوں کی طرح خمار ،چکر صبح کے وقت.

آنکھیں[ترمیم]

ایک جگہ نظر جمانا مشکل ہوتا ہے پڑھنے میں مشکل ہو جیسے حروف ناچ رہے ہوں،یا تیر رہے ہوں، بھنگے اڑتے دکھائی دیں،دوہری نظر یعنی ایک کے دو دکھائی دیں(جلسی میم) نگاہ دھندلی زیادہ دیر تک آنکھ پر زور پڑنے سے نگاہ کی کمزوری ،دور نزدیک کی اشیاءکو یکساں طور پر صاف دیکھنے کا نظام متشنج ہو، پیوٹوں اور ڈھیلوں میں اینٹھن ہو (کوڈین) پیوٹوں کے کنارے لالی ،ان مے ں خارش اور جلن ہو،جڑجائیں ،اندرونی کونے نہایت سرخ آنکھوں کے سامنے کالی مکھیوں کا اڑنا ،نزدیک کی نظر کمزور ،بھینگا پن.

کان[ترمیم]

جلن وخارش ہو جیسے برف مارگئی ہو،کان کے اردگرد کے پٹھوں میں اینٹھن ہو ،اور طرح طرح کی آوازیں آئیں ٹھنڈی ہوا لگنے سے کان میں درد ،کانوں کا پھوٹ جانا ،کانوں میں بھنبھناہٹ کی سی آوازیں.

ناک[ترمیم]

قوت شامہ بڑھی ہوئی ،زکام کے بغیر چھینکوں کا کثرت سے آنا ،اوربغیر زکام صاف پانی کا ناک سے نکلنا ،عصبی بیماریاں ،اندرونی وبیرونی خارش ہو، کھانسنے کے بعد تشنجی چھینکیں آئیں،ناک ذکی الحسن ناک سے پانی جیسی سادہ رطوبت گرے،اندرونی کونے نہایت سرخ، ناک سے بدبودار آلود اور گہرے رنگ کی طوبت خارج ہو،بوڑھوں کی نکسیر،ناک اور منہ مے ں دکھن کا احساس۔

چہرہ[ترمیم]

چہرے کے پٹھوں میں سختی کا احساس ،ان میں اینٹھن،خارش اور جلن ہو گالوں میں بھالا گڑنے یا چیرنے کی طرح کے درد ہوں،جیسے کھچی اٹکی ہوئی ہے ،عصبی درد جیسے برف جیسی سرد سوئیاں چبھ رہی ہوں۔

منہ[ترمیم]

ہونٹوں میں جلن،ہونٹوں کی دار ،پھڑکن ،ذائقہ میٹھا ،منہ کی چھت کے چھالے زبان میں درد جیسے وہاں کھچی اٹکی ہوئی ہے۔ ہر دم پیاس لگی رہے،زبان کا کانپے (لیکسس)زبان سفید۔

گلا[ترمیم]

کان کی درمیانی نالی میں کان سے لیکر گلے تک سوئی گرنے جیسا درد، سکڑاﺅ کا احساس ،بلغم کے چھوٹے چھوٹے گولے پھینکے،حلق خشک ،نگلنے میں دقت ہو،گلے میں خراش ہو،جس کے باعث گا بھی نہ سکے۔

معدہ:۔[ترمیم]

خالی ڈکار آئے جس میں سیب کا ذائقہ ہو۔ عصبی خرابیاں جن کے ساتھ تشنجی کھنچاﺅ اور ہچکی آئے۔ غیر قدرتی بھوک، معدے اور پیٹ کا اپھارہ ،بہت سی ہوا خارج ہو جس میں کسی قسم کی بو نہ ہو،کھانا کھانے کے 3گھنٹے بعد معدے میں جلن ہو جو بعد میں دباﺅ کی شکل میں تبدیل ہو جائے، معدہ کی خرابی اور جگر میں سوئی گڑنے جیسا درد۔

پیٹ[ترمیم]

جگر تلی میں (سیانوتھس) اور پیٹ میں سوئی چبھنے جیسا درد اور چھوٹی پسلیوں کے نیچے سوئی گڑنے جیسا درد بالخصوص بائیں طرف ،دست ہواور اس میں بہت سی بدبودار ہوا خارج ہو، پاخانہ بھی بدبودار ہو۔

پیشاب[ترمیم]

پیشاب کی نالی میں سوئی گڑنے جیسا درد ،پیشاب کرنے کی فوری اور زبردست حاجت باربارہو ،پیشاب صاف یا لیموں کے رنگ کا ،پیشاب میں لیس دار مواد کا نکلنا.

زنانہ[ترمیم]

حیض مقدار میں زیادہ ہو،وقت سے پہلے ہو،اعضاءپوشیدہ اور کمر میں چیرنے پھاڑنے والا درد اور خارش ہو،تشنج کے ساتھ پر درد حیض ،نیچے کے رخ دباﺅ والا درد، بالخصوص سن یاس کے بعد، شہوت کا غلبہ،بھٹنیوں میں جلن وخارش ہو۔ بچہ جننے اور مبرشرت کے بعد ہونے والی تکلیف ،لکوریا جس میں سخت خارش ہو۔

سانس[ترمیم]

کھانسی کے سخت دورے جنہیں قوت ارادی کے ذریعے روکا نہ جا سکے ،کھانا کھانے کے بعد ایسے دورے شدت اختیار کریں جب تک کھانستا رہے سر درد بھی جاری رہے،رات کو نیند آتے ہی تشنجی کھانسی کے دورے ہوں جن میں کف کے چھوٹے چھوٹے گونے نکلیں،سانس گھٹے بمشکل آئے،کھانسی چھینک آنے کی شکل میں ختم ہو۔

دل[ترمیم]

دھڑکن بے قاعدہ اور پر زور بالخصوص تمباکو پینے کے بعد،نبض رک رک کر چلے اور بے قاعدہ ،دل کے آس پاس گھٹن ہو جیسے چھاتی تنگ ہو گئی ہے اس کے ساتھ چہرہ سرخ۔

کمر[ترمیم]

کمر درد اور ریڑھ نہایت زور حس حتٰی کہہ چھواجانابھی برداشت نہ، کمر درد جو کھلی ہوا میں شدت اختیار کرے،کمر میں کڑک کی آواز ہو گردن کے پٹھوں میں اینٹھن ۔

شاخہائے وجود[ترمیم]

سارے جسم میں اکڑن،کولہوں میں درد ،گٹھیا ،حرکت کرنے سے کم ہو، کمر کا زیریں حصہ کمزور ،چال غیر یقینی ہو،کانپے،پیروں اور ان کی انگلیوں میں خارش ہو۔ جیسے برف مار گئی ہو، تلوﺅں میں اینٹھن ہو، ران کی لمبی ہڈی میں درد ،گھٹنوں سے چل نہ سکے اور عصبی درد ،ٹانگوں کا فالج اور بازﺅں تشنج ،ٹانگ ٹانگ پر چڑھا کر بیٹھے تو وہ بے حس ہو جائیں، بائیں بازو میں فالج جیسا درد اور اس کے بعد دھڑکن ہو۔ پنڈلیوں میں پر درد کھنچاﺅ اور چیرنے پھاڑنے کی طرح کا درد۔

جلد[ترمیم]

جلن، کھجلی ،سرخی اور سوجن جیسے برف مارگئی ہو، سخت کیل جیسے مکھی نے ،ڈنک مارا ہو، باجرے جیسے دانے جن میں ناقابل برداشت خارش اور جلن ہو،بوائیاں ،عصبی درد اور پانی اتر آئے ،گلابی دانے نکلیں ،رگیں پھولی ہوئی اور جلد سرد، گول سرخ داغ چھالے ،استسقائی خرابیاں۔

نیند[ترمیم]

جمائیاں آئیں، سخت جلن وخارش کے باعث بے قراری ،نیند آتے ہی چونکے، جسم میں جھٹکے آئیں اور بار بار جاگے ،صاف خواب،جیسے جاگ رہا ہو ،دن میں غنودگی ،جمائیاں آئیں اور پھر بے اختیار ہنسے۔

بخار[ترمیم]

ٹھنڈی ہوا برداشت نہ ہو، شام کو گرمی کے سخت دورے پڑیں ،پسینہ بکثرت آئے ،جلن والے داغ پڑیں۔

کمی بیشی[ترمیم]

شدت کھلی سرد ہوا میں ،کھانا کھانے کے بعد، مباشرت کے بعد سرد موسم میں بجلی وبادل کا طوفان آنے سے پہلے ،ریڑھ کے مہروں پر دباﺅں پڑنے سے اس کے باعث بے اختیار ہنسی آئے۔ کمی :۔ چہل قدمی۔

تعلقات[ترمیم]

مقابلہ کریں : مسکارین (یہ اگارسی کس کا کھار ہے۔ اخراج رطوبت پر اس کا زبردست اثر ہے، آنسو بکثرت آتے ہیں۔ رال اور پت کا اخراج بھی بڑھ جاتا ہے مگر پیشاب کی مقدار کم کرتی ہے ) اٹروپن اس کا سر سر برعکس ہے۔ اثر کے لحاظ سے یہ ” پلوکاریس “ کے مطابق ہے ”امانٹا ورنس “ اثر کے لحاظ سے یہ بھی مسکارین کے مشابہ ہے ” امانٹا فلائیڈیس“ یہ زہر سانپ کے زہر کے مانند ہے۔ یہ البومن کو زہر یلا بنا دیتا ہے، یہ اس زہر سے بھی مشابہت رکھتا ہے جو ہیضہ اور ڈپتھیر یا کے جراثیم پیدا کرتے ہیں۔ یہ خون کے لال ذرات میں تحلیل پیدا کرتا ہے۔ اس طرح خون خوراک کی نالی میں چلا جاتا ہے اور جسم سے نکل جاتا ہے، اس زہر کی مقدار نہایت قلیل ہے بعض نازک طبیعتوں میں نمونے کو چھونے سے ہی نا پسندیدہ اثرات ظاہر ہوجاتے ہیں، یہ ان پر جلد کے ذریعہ اثر کرجاتا ہے، اس زہر کے اثر ات نہایت سستی سے آتے ہیں، یہ زہر کھالینے کے بعد 12 سے 20 گھنٹہ تک کھانے والا بالکل بھلا چنگا رہتا ہے، تب سر چکراتا ہے، ہیضہ کی طرح سخت ترین دست آتے ہیں، یکایک حالت نزع آجاتی ہے، غشی آتی ہے اور پھر تشنج آتا ہے، مریض دوسرے یا تیسرے دن مرجاتا ہے، اس زہر کے باعث دل گردہ اور جگر میں چر بیلی خربیاں واقع ہو جاتی ہیں۔ پھیپھڑوں ان کی جھلیوں اور جلد میں اخراج خون ہوتا ہے ( ڈاکٹر جے شیئر) قے اور دست، رفع حاجت متواتر بنی رہتی ہے، مگر پیٹ، معدہ یا معاءمستقیم میں کسی قسم کا درد نہیں ہوتا۔ ٹھنڈے پانی کے لیے زبردست پیاس آتی ہے اور اس کے ساتھ جلد خشک ہو جاتی ہے۔ جسمانی طور پر سست مگر ذہنی طور پر صاف، سانس میں سستی سے شدت کی طرف اور شدت سے سستی کی طرف تبدیلی بڑی سرعت سے آتی ہے، بے حدع نڈھال، پیشاب دب جاتا ہے مگر ہاتھ پاؤں ٹھنڈے نہیں ہوتے اور نہ ہی اینٹھن آتی ہے۔ اگاری کس ایمے ٹک، بدترین چکر، سبھی علامتوں میں ٹھنڈے پانی سے راحت ملتی ہے۔ برف سے سرد پانی کے لیے خواہش، سوزش معدہ، سرد پسینہ آئے، قے اور یہ معلوم ہو کہ معدہ کسی دھاگے سے لٹک رہا ہے ” ٹامس“بوائیاں، داغ، سی می سی فیوگا، کینابس انڈیکا، ہائی اور سیا مس، ٹیرنیٹو لا۔ واقع اثر :۔ ابسنتھیم، کافیا، کیمفر۔

خوارک: 3۔ 30 اور اونچی طاقت پوٹینسی، جلدی امراض اور دماغی تکان میں نیچی طاقتیں دیں۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. بورک میٹریا میڈیکا اور انسائیکلوپیڈیا آف ہومیو پیتھک میڈیسن