مندرجات کا رخ کریں

ایوا پیرون

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
ایوا پیرون
Eva Perón, 1947
ذاتی تفصیلات
پیدائشEva María Ibarguren
7 مئی 1919(1919-05-07)
وفات26 جولائی 1952ء(1952-07-26) (33 سال)
جائے تدفینLa Recoleta Cemetery بیونس آئرس
جماعتJusticialist Party
Peronist Feminist Party
زوجیتJuan Perón (1945–1952)
 

ایوا پیرون 1946ء سے 1952ء تک ارجنٹائن کی خاتون اول رہیں۔ جو آن پیرون کی بیوی تھی اور مزدور اور صحت کی وزارتیں سنبھالے رکھیں انھوں نے ایوا پیرون فاؤنڈیشن کی بنیاد رکھی۔ جس نے ارجنٹائن میں خواتین کے ووٹ کے حق کی تحریک چلائی۔ ایوا پیرون نے ارجنٹائن کی پہلی نسائی سیاسی جماعت کی بنیاد رکھی۔

1951ء میں اس پارٹی کے 36 سو ہیڈکوارٹر اور پانچ لاکھ ممبر بن چکے تھے انیس سو اکاون میں نائب صدر کی امیدوار بننے کا اعلان کیا مگر صحت کی خرابی اور فوج اور عوام کے احتجاج کی وجہ سے اپنا نام واپس لے لیا۔ ایوا کو قوم کی روحانی پیشوا یعنی سپر چوئل لیڈر آف دی نیشن کا خطاب دیا گیا۔ خود کو کبھی نسائیت کی تحریک سے نہیں جوڑتی تھیں۔ مگر ارجنٹائن میں عورتوں کی سیاست اور حق رائے دہی کے حوالے سے ان کے کام کے اثرات بہت نمایاں ہیں۔

وفات

[ترمیم]

ایوا پیرون کی وفات 1952ء میں ہوئی۔ بعد وفات ان کی شہرت، ان کی نعش کو حنوط کرنے سے ساری دنیام یں ہوئی۔[1][2]

حنوط

[ترمیم]

ارجنٹینا کے صدر کی اہلیہ کو حنوط کیا گیا لیکن پچاس کی دہائی میں فوجی بغاوت کے بعد حکمران ان کی لاش کو ہٹانا چاہتے تھے۔ بیونس آئرس میں ٹریڈ یونین ہیڈکوارٹر سے ان کی لاش آدھی رات کو نکالی گئی۔ ہیڈکوارٹر سے لاش نکالنے کے بعد اس لاش کو ایک وین میں رکھا گیا جو کئی روز تک شہر کی سڑکوں پر کھڑی رہی، پھر سینما کی ایک سکرین کے پیچھے رکھی گئی اور یہاں تک کہ ملٹری انٹیلیجنس کے دفاتر میں بھی رکھی گئی۔ سنہ 1957 میں ویٹیکن کی جانب سے خفیہ مدد سے ایویٹا کو اٹلی کے شہر میلان میں نقلی نام سے دفن کیا گیا۔ بیونس آئرس میں دیواروں پر لکھا جانے لگا ’ایویٹا پیرون کی لاش کہاں ہے؟‘ سنہ 1971 میں لاش کو سابق صدر جوان پیرون کے میڈرڈ میں نئے مکان میں منتقل کیا گیا۔ دو سال بعد پیرون ارجنٹینا کے دوبارہ صدر منتخب ہوئے لیکن ان کا جلد ہی انتقال ہو گیا۔ پیرون کی تیسری اہلیہ نے اس بات کو یقینی بنایا کہ ایویٹا کی لاش ارجنٹینا واپس لائی جائے۔ ان کی تدفین خاندانی مزار میں کی گئی ہے جو ایک ایٹمی بنکر طرز کی جگہ ہے۔

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. David Robson (10 جولائی 2015)۔ "The gruesome, untold story of Eva Peron's lobotomy"۔ BBC News
  2. DE Nijensohn (جولائی 2015)۔ "Prefrontal lobotomy on Evita was done for behavior/personality modification, not just for pain control."۔ Neurosurgical Focus۔ ج 39 شمارہ 1: E12۔ DOI:10.3171/2015.3.FOCUS14843۔ ISSN:1092-0684۔ PMID:26126398