بحر العلوم واعظ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

بحر العلوم واعظ حافظ محمد عظیم پشاوری جوتخلص واعظ رکھتے تھے۔

ولادت[ترمیم]

بحر العلوم واعظ کی 1205ھ 1791ء کو ولادت ہوئی۔

نام و نسب[ترمیم]

آپ کا اسم شریف محمد عظیم، لقب بحرالعلوم، تخلص واعظؔ اور حافظ جی صاحب گنج والے کا نام سے مشہور ہیں، جامع مسجد گنج کے امام، خطیب اور مدرس تھے۔ آپ قدوۃ السالکین خواجہ نور محمد صاحب مہاروی کے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔

تعلیم و تصوف[ترمیم]

چونکہ آپ کا خاندان علم ظاہری و باطنی کا مرکز تھا۔ اس لیے آپ بہت تھوڑی عمر میں (یعنی 16برس کی عمر میں ) تکمیل علوم فرما کر مسند درس پر متمکن ہوئے۔ چند برس درس و تدریس فرمانے کے بعد اچانک طبیعت میں انقلاب آیا۔ درس کو چھوڑ کر سلوک و معرفت کے حصول کے لیے گھر سے نکل کھڑے ہوئے۔ آپ پنجاب سے نکل کر پشاور میں گنج دروازہ کے باہر سڑک کے کنارے پر ’’ تہ خانے والے ملا صاحب ‘‘ کے قبرستان میں ایک چھوٹی مسجد ہے اس میں ٹھہرے اور عبادت و ریاضت میں مصروف ہو گئے۔ یہاں پر آپ نے درس کا سلسلہ بھی شروع کر دیا۔ بحر العلوم حافظ محمد عظیم واعظ پشاوری حضرت جی صاحب کے خلفاء میں سے تھے۔

زہد وتقویٰ[ترمیم]

آپ کے زہد وتقوی اور علم کی شہرت پشاور اور اس کے گرد ونواح میں پھیلی، علما، مشائخ اور عوام میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو مقبول کر دیا۔ علاقہ گنج کی جامع مسجد (جو مسجد خواجہ معروف کے نام سے موسوم ہے) میں مدرس، امام اور خطیب بنائے گئے۔

نابینا اور علم[ترمیم]

بغیر بینائی کے معقول و منقول کی کتابیں پڑھاتے۔ ہر ایک استفتاء کا جواب املا فرماتے۔ کتاب کا نام، صفحہ اور سطر تک لکھواتے۔ صاحب تاریخ پشاور لکھتے ہیں۔ ’’ یہ صاحب (یعنی حافظ محمد عظیم) عالم باعمل تھے۔ ان کی نسبت لوگ اعتقاد ولایت رکھتے ہیں اور تمام عمرا ن کی تعلیم علوم میں باوجود نا بینا ہونے کے گزری ‘‘۔ آپ کو صحاح ستہ کی تمام اسانید زبانی یاد تھے۔ جناب مولانا غلام رسول مہر ؔ لکھتے ہیں ۔ ’بحر العلوم حافظ محمد عظیم علم وفضل اور زہد و تقویٰ میں شیخ وقت، صحاح ستہ کے اسانید زبانی یاد تھے ‘‘۔
خواجہ معروف کی مسجد دار العلوم اسلامیہ کی شکل اختیار کر چکی تھی۔ طلبہ کی روٹی، رہنے کی جگہ اور کپڑا بھی آپ خود مہیا کرتے۔ آپ کے ساتھ آپ کے اس دار العلوم میں مشہور و معروف دو عالم جناب آخوندزادہ عبد اللہ صاحب اور مولینا قاضی مسعود صاحب بھی علوم متداولہ کا درس پڑھاتے۔

شاگرد[ترمیم]

آپ کے شاگردان رشید میں سے مشہور و معروف شاگرد شیخ المشائخ شیخ الاسلام و المسلمین مجاہد اعظم حافظ عبد الغفور صاحب المشہور بہ آخوند صاحب سوات، عالم اجل فاضل اکمل عالم علوم اسرارالہٰی سید اکبر شاہ صاحب ساکن بھانہ ماڑی، علامہ وقت فھامہ عصر مولانا بالفضل مرید محی الد ین صاحب نوشہروی ،نیز بقول مولینا غلام رسول مہرؔ ،جناب مولانا مولوی سید امیر صاحب المشہور کوٹہ ملا صاحب بھی آپ کے شاگرد تھے۔

وفات[ترمیم]

24 جمادی الثانی 1275ھ بمطابق 26 دسمبر 1858ء جمعہ کی شب ہوئی صاحب حدائق الحنفیہ لکھتے ہیں۔ ’’ اس کثرت و ہجوم سے لوگ آپ کے جنازے پر حاضر ہوئے کہ شہر کے لوگ تعجب کرتے تھے کہ اس قدر بے شمار خلقت کہا ں سے آگئی ‘‘۔[1][2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. تذکرہ علما و مشائخ سرحد جلد اوّل، صفحہ 128 تا 138،محمد امیر شاہ قادری ،مکتبہ الحسن کوچہ آقا پیر جان یکہ توت پشاور
  2. حدائق الحنفیہ: صفحہ 468 مولوی فقیر محمد جہلمی : مکتبہ حسن سہیل لاہور