برصغیر کے خانہ بدوش قبائل

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

سیلانی اور جرائم پیشہ قبائل کے درمیان کوئی خط امتیاز کھیچنا مشکل ہے ۔ یہ زیادہ تر اچھوت قبائل ہیں اور اکثر محنت و مزدوری کرکے روزگار گماتے ہیں اور گھاس ، بھوس ، نرسل ، زراعتی مزدور اور مچھرے و شکاری ہیں ۔ مگر یہ کسی جگہ مستقل رہاش کی بجائے در بدر پھرنا پسند کرتے اور ان کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ یہ قدیمی روایات و اعتقادات کو بدستور قائم رکھے ہوئے ہیں ۔ ان میں بعض لومڑ ، گیڈر ، چھپکلیاں ، کچھوے اور اس طرح کے دوسرے جانور ان کی خوراک میں شامل ہیں ۔ یہ اپنی مخصوص بولیاں بولتے ہیں اور مقامی بولیوں کی کچھ ترمیم شکل ہے ۔ ان میں بیلدار ، اوڈھ ، چنگڑ ، تھوری ، پکھی وار ، جھیل ، کہیل ، گاگڑا اور بدون شامل ہیں ۔ یہ جنگلوں ، دریاؤں اور شہر سے باہر خانہ بدوش زندگی بسر کرتے ہیں ۔

بیلدار[ترمیم]

بیلدار ایک پیشہ کا نام ہے جو بیل یعنی کدال سے مشتق ہے اور اس کے ساتھ کام کرنے والوں کی طرف اشارہ کرتی ہے ۔ لیکن قابل ذکر یہ بات ہے پہلے عام مزدور کھدائی کے کام میں ہاتھ نہیں ڈالتے تھے ۔ اس لیے اس کا مطلب پیشہ ور تعمیراتی مزدور ہیں اور بیلدار ایک قبائلی نام کی حثیت سے شاذ ہی کسی اور ذات کے لیے بولا جاتا تھا ۔ تاہم یہ مشرق میں عام تھا اور مغرب میں اوڈھ کو عموماً بیلدار کہا جاتا تھا ۔

اوڈ[ترمیم]

اوڈ برادری ایک قدیمی برادری ہے جو کہ قیام پاکستان میں اہم کردار کی حامل ہے اور ہجرت کرکے آنے والی بڑی قوموں میں سے ایک قوم ہے ۔ ایک ایسی قوم جس نے پاکستان اور اسلام کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کیا ۔ اوڈ برادری کے بزرگ اشخاص اور راجپوت برادری کے بزرگان سے حاصل کردہ معلومات کے مطابق اوڈ برادری نے بہت مالی جانی نقصان اٹھایا اور پاکستان کے بننے میں اپنا کردار ادا کیا ۔

اوڈ برادی انڈیا سے ہجرت کرکے آئی ۔ اوڈ برادری کا پورا نام راجپوت اوڈ ہے ۔ یہ راجپوت نسل کی ایک اہم قسم زات ہے ۔ اوڈ برادری کی دو قسمیں ہیں ۔ ایک ہندو اوڈ جو صوبہ سندھ اور اور انڈیا میں کثیر تعداد میں قیام پذیر ہیں ۔ پاکستان میں موجود اوڈ برادی 95% مسلمان اور محب وطن ہے ۔

اوڈ راجپوت برادری کے لوگ اوڈ نام سے زمانہ اول سے مشہور ہیں پاک و ہند میں انہیں اپنے لقب سے پکارا جاتا ہے ۔ انڈیا میں اوڈ برادی سرکاری و غیر سرکاری محکموں میں بڑے پیمانے پر کام کرتی ہے اور کچھ اب بھی قدیمی آرٹس پر کام کرتے ہین جو کہ ٹوٹل ہندو ہیں ۔

اوڈ برادی کی اکثریت انڈین راجھستانی قوم سے ملتی ہے ۔

اور اوڈ قوم کا رہن سہن سنسکار تمام تر رانگڑھ راجپوت برادری سے مماثلت رکھتا ہے ۔

اوڈ برادی کی زبان پاکسان میں موجود تمام زبانوں سے مختلف ہے ۔ اوڈ زبان کو ہندی میں اوڈی کہتے ہیں اور پاکستان میں پنجاب میں یہ زبان اوڈوں والی بولی کے نام سے جانی جاتی ہے ۔ اس زبان کو ایک رانگڑھ یا ایک بزرگ راجپوت ہی سمجھ سکتا ہے ۔ بھارت میں بولی جانے والی زبان اوڈی تمام تر ہندی الفاظات پر مشتمل ہے جو پاکستان کے صوبہ سندھ میں اب بھی بولی جاتی ہے جس کو مسلمان اور بھی تقریبا نہیں سمجھ سکتے ۔

پاکستانی اوڈ زبان پنجابی و سرائکی پر مشتمل ہے جو کہ ٹوٹل اردو سے اخذ کی گئی ہے ۔

اوڈ برادی کو پاکستان میں زیادہ پذیرائی حاصل نہیں ہے۔ پاکستان میں اوڈ برادی تقریبا نا معلوم قوم ہے ۔ پاکستان کی ایک تہائی آبادی اوڈ برادری کو نہیں جانتی ! اس کی وجہ اوڈ خد کو راجپوت کہتے ہیں اور جب ایک اوڈ کسی راجپوت کے سامنے کہتا ہے کہ میں راجپوت ہوں تو آج کا راجپوت کوئی بھی راجپوت ہو تو وہ تسلیم نہیں کرتا کیوں کی وہ ہم سے واقف نہیں ماضی معلوم نہیں ۔

اوڈ قوم ایک سمجھدار قوم ہے ان کا زیادہ تر پیشہ زراعت،بھیڑ بکریوں کی اون اتارنا اور مزدوری رہا تھا آج کے اوڈ راجپوت سعودی عرب و دنیاں دنیا کے بہت سے مختلف ممالک میں ہے اور آدھی سے زیادہ غریب آبادی یے ۔ اوڈ قوم زیادہ تر غیر پڑھی لکھی ہے اور محنت مزدوری کرتی ہے تعمیراتی کاموں میں ۔ اوڈ راجپوت برادری قیام پاکستان کے وقت سے پاکستان میں کسی ایک جگہ پر نہیں ٹھہری جہاں کام ملتا وہاں چلے جاتے ۔ بہت مشکل حالات سے گزر کر آئے اور گزار رہے ہیں ۔ اور اسی وجہ سے چند بےوقوف لوگ انہیں مسلی پکھی واس اور مانگنے والے سمجھتے ہیں ۔ اوڈ برادری کی ایک خطیر تعداد اچھی زندگی گزار رہی ہے۔ اوڈ برادری بہت بہادر سمجھدار اور قدیمی قوم ہے ۔

چنگڑ[ترمیم]

یہ قدیمی نسل کے اچھوت ہیں اور مشرقی پنجاب کے علاقہ میں یہ کثیر تعداد میں آباد ہیں ۔ اشن کا کہنا ہے کہ ان آبا اجداد جموں کے پہاڑوں سے آئے تھے ۔ یہ کام کی تلاش میں ادھر ادھر گھومتے پھرتے ہیں اور بڑے شہروں کے نواح میں آباد بھی ہیں ۔ یہ تقریباً ہر طرح کا کام کرلیتے ہیں ۔ لیکن زراعتی کام زیادہ کرتے ہیں ۔ خصوصاً فضل کی کٹائی کا اور ان کی عورتیں اناج کے تاجروں کے لیے اناج صاف کرنے اور چھانٹنے کا کام کرتی ہیں ۔ یہ سب مسلمان ہیں اور ان کے مطابق انہیں شمس تبریز نے انہیں مسلمان کیا ہے ۔ ان کی عورتیں اب تک پیٹی کوٹ پہنتی ہیں اور شلوار نہیں ۔ یہ پیٹی کوٹ نیلے رنگ کے ہوتے ہیں ۔ ان کی اپنی بولی ہے اور یہ خود چنگڑ نہیں چوبنا کہتے ہیں ۔ جو ان کے مطابق جھاننا سے مشتق ہے ۔ ایک رائے کے مطابق چنگڑ زنگاری کی ایک شکل ہے ۔

تھوری[ترمیم]

پہاڑی علاقوں میں سامان تجارت جانوروں پر لے جانے والے تھوری کہلاتے ہیں ۔ ان تعلق بنجاریوں سے لگتا ہے اور ان کے اور بنجاروں سردار ناءک کہلاتے ہیں ۔ جمیس ٹاڈ انہیں راجپوتانہ کے حمال بتاتا ہے ۔ ایبسن کا کہنا ہے کہ ان کا بنجاروں سے تعلق ہونا ممکن ہے ۔

جھیل[ترمیم]

جھیل یا چھیل ۔ یہ غالباً پنجابی جھمپ سے ماخوذ ہے ۔ یہ ایک مچھیروں کا قبیلہ ہے اور کہا جاتا ہے کہ سندھ سے آئے ہیں اور اب بھی آپس میں سندھی میں گفتگو کرتے ہیں ۔ یہ مسلمان ہیں اور کہیلوں اور دوسرے مچھیرے قبائل کی طرح مگر مچھ اور کچھوے نہیں کھانے کی وجہ سے انہیں راسخ القیدہ سمجھا جاتا ہے ۔

ان کا تعلق ملتان کے نواح سے ہے ۔ جہاں وہ سیلانی عادت والی خالصاً مچھیروں اور شکاریوں کی ذات ہے ۔ یہ ستلج سے لے کر فیروز پور تک ملتے ہیں اور دریا کے بالائی حصوں میں بطور ملاح کے کام کرتے ہیں ۔ تاہم وہ مچھلیاں بھی پکڑتے ہیں اور بہت بڑے شکاری ہیں ۔ کہا جاتا ہے سرسا کے علاقے کے ملاح بھی انہی کی نسل ہیں ۔ یہاں تک کہ مشرقی پنجاب میں ان کی بہت سے چھوٹی چھوٹی آبادیاں تھیں ۔ جہاں یہ مچھیرے ، غوطہ خور اور کنواں کھودنے والے ہیں اور کہیں کہیں ان کی کچھ زمینیں ہیں ۔ یہ ملاح کے پیشے کو حقیر سمجھتے ہیں ۔ اور ستلج کے جھیلوں کے ساتھ رشتہ نہیں کرتے ہیں ۔ پنجاب کے بعض علاقوں پر دلدلی زمینوں پر مزدوری بھی کرتے ہیں ۔

کہیل یا مور[ترمیم]

یہ زیریں ستلج ، چناب اور سندھ کے کناروں پر آباد ایک سیلانی مچھیروں کا قبیلہ ہے ۔ یہ بعض علاقوں میں کہیل اور خاص کر شمال میں یہ مور کہلاتے ہیں ۔ اگرچہ مسلمان ہیں لیکن مگر مچھ اور کچھوے کھاتے ہیں ۔ مگر جنوبی علاقوں کہ کہیل یا مور مگر مچھ اور کچھوے نہیں کھاتے ہیں ۔ شمالی کہیلوں کا اچھا نہیں سمجھا جاتا ہے اور ان سے تعلقات نہیں رکھتے ہیں ، مگر جنوب کے کہیل اچھے مسلمان سمجھے جاتے ہیں ۔ جب شمال کے کہیلوں کا کہنا ہے کہ وہ شافعی فقہ سے تعلق رکھتے ہیں اس لیے ان جانوروں کا کھاتے ہیں ۔ کیہل رینگنے والے جانور پکڑتے اور کھاتے ہیں ۔ مشہور ہے کہ مگر مچھ ان کی بو پا کر بھاگ جاتا ہے ۔

ان میں سے کچھ نے زراعت کا پیشہ اختیار کر لیا ہے اور دریائی کچڑ میں ایک اناج سموکا کاشت کرتے ہیں ۔

گاگڑا[ترمیم]

یہ زیادہ تر مسلمان ہیں ادھر ادھر گھومتے پھرتے جھوٹے موتے جانور پکڑتے اور کھاتے ہیں ، پہلے ان کا خاص پیشہ جونکیں پکڑنا ، پالنا اور لگانا تھا ۔ اس وجہ سے انہیں اکثر جوکیرا کہا جاتا تھا ۔ اب یہ عموماًً گھاس اور پیال کا کام کرتے اور چٹائیں بناتے ہیں ۔ مسلمان گاگڑے نکاح کرتے ہیں ۔ یہ شادی کے موقع پر خاص تقریبات ادا کرتے ہین ۔ یہ کہا جاتا ہے ہندو گاگڑے چوہڑوں کے گرو بالا شاہ کی پوجا کرتے ہیں ۔

بدون[ترمیم]

یہ مسلمان خانہ بدوش قبیلہ ہے اور مگر مچھ ، کچھوے اور مینڈک وغیرہ کھاتے ہیں اور اس کے لیے شافعی فقہ کا حوالہ دیتے ہیں ۔ دوسرے مسلمان انہیں اس لیے اچھوت سمجھتے ہیں ۔ یہ گھاس اور پیال کی چیزیں بنا کر فروخت کرتے ہیں اور ان کی عورتیں سینگی کے ذریعے خون نکالتی تھیں ۔ یہ ریچھ لے پھرتے ہیں اور حمال کا کام بھی کرتے ہیں ، یہ عربی نسل کے دعویدار ہیں ۔

ماخذ[ترمیم]

پنجاب کی ذاتیں ۔ سر ڈیزل ایپسن

ذاتوں کا انسائیکلوپیڈیا ۔ ای ڈی میکلین ، ایچ روز