بلوا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

بلوا یا جنونی ہجوم کا تشدد اس غیر قانونی کارروائی کو کہتے ہیں جس میں کوئی گروہ (قانونی اصطلاح میں کم از کم تین) کسی شخص یا گروہ کو سزا دیتا ہے جو اس کی نظروں میں مذموم ہوتا ہے۔ اس تشدد سے متاثرہ افراد شدید زحمی یا ہلاک ہو جاتے ہیں۔

ہجوم کی نفسیات میں عمومی طور پر کوئی بھی عمل مل کر کرنے کا رجحان ہوتا ہے۔ نعرے مل کر لگائے جاتے ہیں۔ پولیس کی کارروائی کا جواب بھی مل کر دیا جاتا ہے۔ مل کر رکاوٹیں ہٹائی جاتی ہیں۔ مل کر ساتھیوں کو پولیس کے ردعمل سے بچانے کی سعی کی جاتی ہے۔ ہجوم پر قابو یا تو ہجوم کی سربراہی کرنے والے پا سکتے ہیں یا ہجوم ان لوگوں کے جوش و غیض کی بھینٹ چڑھ جاتا ہے جو مائل بہ تشدد ہوتے ہیں جسے دوسرے معنوں میں مائل بہ انتقام کہا جا سکتا ہے۔[1]

پاکستان میں ہجوم کا تشدد[ترمیم]

پاکستان میں نسلی اور فرقہ وارانہ حملے، فسادات، سرکاری اور عوامی ملکیت کا نقصان، اور مسلم اور غیر مسلم اقلیتوں کے قتل کے واقعات بڑھتے نظر آرہے ہیں۔ 2012ء میں ویڈیو فلم کے خلاف تحریک، 2013ء میں لاہور کے بادامی باغ میں رہائش پزیر مسیحی برادری کے گھر وں پر حملہ، اور 2014ء میں عاشورہ کے موقع پر راولپنڈی میں ایک مسجد اور کئی دکانیں جلا دیا جانا، یہ سب پاکستان میں ہر جگہ حاضر ہجوم کے سیاسی اظہار کی چند مثالیں ہیں۔[2]

بھارت میں ہجوم کا تشدد[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]