بچوں کی وکالت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

بچوں کی وکالت یا بچوں کے حقوق کی وکالت جامع طور ان افراد، پیشہ ور لوگوں اور اس خاص مقصد کے لیے بننے والی تنظیموں پر اطللاق کرتا ہے جو بچوں کے بہتر مفاد میں بولتے ہیں۔ ایک فرد یا تنظیم جو اس وکالت سے جڑی ہے عام طور سے بچوں کے حقوق کے تحفظ کی کوشش کرتی ہے جو ممکن ہے کہ مختصرًا کئی علاقوں میں سماج کے مظلوم بچوں کے لیے آواز اٹھانے کا کام کرتی ہو۔

حقوق[ترمیم]

بچوں کے حقوق کی وکالت کرنے والے کیا کرتے ہیں[ترمیم]

بچوں کے حقوق کی وکالت کرنے والے عام طور سے کسی فرد یا زمرے کی نمائندگی کرتے ہیں یا ان کی آواز آگے بڑھاتے ہیں جن کے مفادات اور فکر کا کوئی سننے والا نہیں ہوتا ہے۔ بچوں کی وکالت ایک بہت ہی چھوٹے پیمانے پر (کسی ایک بچے یا کچھ بچوں کے لیے)، بڑے پیمانے پر (کسی زمرے کے بچوں یا کسی برادری کی سطح پر) یا وسیع پیمانے پر (ایک ایسے زمرے کے بچوں کے لیے جو کسی سماجی مسئلے سے دوچار ہیں)۔[1] ایک بچوں کی وکالت کرنے والا بچوں کو نقصان سے متاثر ہونے سے بچانے کی کوشش کر سکتا ہے اور وہ یہ کوشش کر سکتا ہے کہ ان لوگوں کو انصاف ملے جو پہلے سے کسی طرح سے زخمی ہوئے ہیں۔ یہ لوگ اس بات کی بھی کوشش میں لگے ہوتے ہیں کہ بچوں کو مثبت اثرات تک رسائی ہو یا ایسی خدمات ملیں جو ان بچوں کی زندگیوں کو نفع پہنچائیں جیسے کہ تعلیم، دیکھ ریکھ اور مناسب ماں باپ کی پرورش۔ قلت تغذیہ نقصان کی ایک دوسری شکل ہے - ایسے کئی بچے ہیں جو رات میں کچھ پیے بغیر سو جاتے ہیں اور اس بات کو بچوں کے رفاہی ادارے اور پولیس بھی دیکھنے اور اس کی روک تھام کرنے سے قاصر ہیں۔

بچوں کی وکالت کی ایک دوسری شکل پالیسی کی سطح پر ہے اور اس کا مقصد حکومتوں کی پالیسیوں میں ترمیم یا ما ورائے سرحد پالیسیوں کی تیاری بھی ہو سکتا ہے۔ یہ لوگ لابی کرنے، پالیسیوں پر تحقیق، مقدموں کے دائر کرنے یا پالیسیوں کی تبدیلی کی دوسری کئی اقسام سے جڑے ہو سکتے ہیں۔[2] کئی لوگ تو موجودہ دور کی انٹرنیٹ پر مبنی تکنیکوں کو بہ روئے کار لاکر فیصلہ سازوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔[3]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Wright, A. C., & Jaffe, K. J. (2013). Six Steps to Successful Child Advocacy: Changing the World for Children. SAGE Publications.
  2. DeVita, C.J. & Mosher-Williams, R. (Eds.) (2001). Who speaks for America’s children?. Washington, DC: The Urban Institute.
  3. McNutt, J.G. (2007). Adoption of New Wave Electronic Advocacy Techniques by Nonprofit Child Advocacy Organizations. Cortes, M. & Rafter, K (eds.), Nonprofits and Technology: Emerging Research for Usable Knowledge. Chicago, IL: Lyceum Books