بچہ ہائے آسمان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
بچہ ہائے آسمان
Children of Heaven
Children of heaven.jpg
US release poster
ہدایت کار مجید مجیدی
پروڈیوسر
تحریر مجید مجیدی
ستارے
  • امیر فرخ ہاشمیان
  • بہار صدیقی
موسیقی کیوان جہانشاہی
سنیماگرافی پرویز ملکزادہ
ایڈیٹر حسن حسندوست
پروڈکشن
کمپنی
ادارہ ذہنی فروغ بچہ و نوجوان (The Institute for the Intellectual Development of Children & Young Adults)
تقسیم کار مرامیکس فلمس
تاریخ اشاعت
دورانیہ
89 منٹ
ملک ایران
زبان فارسی
بجٹ امریکی ڈالر$180,000[1]
باکس آفس امریکی ڈالر$1.6 ملین[1]

بچہ ہائے آسمان ایک ایرانی فلم ہے۔ اس فلم کا ہدایت کار مجید مجیدی ہے۔ یہ خاص طور پر بچوں کے لیے بنائی گئی فلم ہے۔ اس فلم نے اپنے انگریزی عنوان چلڈرن آف ہیون (Children of Heaven) کے نام سے زیادہ شہرت پائی۔ 1997ء میں یہ فلم منظرِ عام پر آ گئی۔ اس فلم کے قصہ کا محور ایک بھائی اور اس کی بہن کے ارد گرد گھومتا ہے۔

قصے کا خلاصہ[ترمیم]

ایران کی اس فلم کے آغاز میں علی نامی ایک لڑکا اپنی بہن زہرا کے جوتے کی موچی سے مرمت کرانے کے بعد آلو خریدنے کے لیے دکان پر رکتا ہے۔ جوتے کا کیسہ ایک جگہ پر رکھ کر وہ آلو خریدتا ہے۔ اسی وقت پرانی چیزیں لینے والا آدمی کا گزر ادھر سے ہوتا ہے۔ دکان سے بے کار چیزیں لیتے وقت وہ کیسہ بھی لیتا ہے جس میں علی کی بہن کا جوتا رکھا ہوتا ہے۔ علی بڑے غم کے ساتھ گھر جاتا ہے اور اپنی بہن سے جوتا کھونے کی خبر سناتا ہے۔ جب ماں اور باپ گھریلو باتوں میں مصروف ہوتے ہیں تو علی اور زہرا اپنی نوٹ بک میں لکھنے کے بہانے سے جوتا کھونے کے بارے میں باتیں کرتے ہیں۔ علی اپنی بہن زہرا کو یہ بتاتا ہے کہ جوتا کھونے کے بارے میں اگر ابا کو پتا چلے گا تو دونوں کو مار پڑے گی۔ علاوہ ازیں دونوں اس بات سے خوب واقف ہے کہ نیا جوتا خریدنے کے لیے ابا کے پاس پیسہ نہیں ہے۔ زہرا کے مدرسے کا وقت صبح ہے اور علی کا دوپہر ہے۔ اس لیے صبح کو زہرا علی کے جوتے پہن کر اسکول جاتی ہے اور دوپہر کو دوڑ کر واپس آتی ہے تاکہ اپنا بھائی جوتے پہن کر اسکول جا سکے۔

حوالہ جات[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]