تاج محمود امروٹی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(تاج محمد امروٹی سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search
تاج محمود امروٹی
Maulānā Sayyid Taj Mahmūd Amrōtī.jpg 

معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش سنہ 1857  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
تاریخ وفات سنہ 1929 (71–72 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ مصنف  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر

مولانا تاج محمود امروٹی سندھ کے اکابر صوفیا میں شمار ہوتے ہیں۔

شجرہ نسب[ترمیم]

تاج محمود امروٹی خانوادہ سادات سے تعلق رکھتے تھے، ان کا شجرہ نسب شیخ عبد القادر جیلانی کے چوتھے فرزند سید محمد رضا سے ملتا ہے، مولانا امروٹی کے والد گرامی کا نام سید عبد القادر عرف بھورل شاہ تھا۔

پیدائش[ترمیم]

آپ کی ولادت باسعادت سندھ کے ضلع خیر پور کے شہر پر یالو کے نزدیک ایک چھوٹے سے گاؤں دیوانی میں ہوئی۔ ان کی تاریخ ولادت کا تعین نہیں ہو سکا۔ البتہ کچھ روایات کے مطابق ان کی ولادت سن 1857ء یا 1858ء میں ہوئی تھی، مولانا نے ابتدائی تعلیم اپنے والد ماجد سے حاصل کی، اس کے بعد اعلیٰ دینی تعلیم کے لیے سندھ کے مشاہیر علما سے کسب فیض کرتے رہے۔ مولانا امروٹی اعلیٰ دینی تعلیم کے حصول کے لیے پنجاب کے کچھ نامور علما کرام کے پاس گئے اور عالمانہ اسناد حاصل کیں۔

بیعت و خلافت[ترمیم]

درسی کتب سے فراغت کے بعد وہ اپنے والد سے سلوک کی راہ و رسم حاصل کرنے لگے، مگر ان کی وفات کے بعد وہ اس دور کے قطب الاقطاب حافظ محمد صدیق بھرچونڈی کی خدمت میں حاضر ہو کر اکتساب فیض کرتے رہے، حافظ صاحب جنید وقت تھے، وہ تو راشدی قادری طریقت کے شیخ تھے حافظ صاحب کی وفات 1308 میں ہوئی۔ ان کی وفات کے بعد مولانا تاج محمود بھرچونڈی سے منتقل ہوکر سکھر سندھ کے چھوٹے سے گاؤں، امروٹ، میں مقیم ہوکر طالبان کو اپنے روحانی فیض سے سیراب کرتے رہے۔ مولانا امروٹی کے خلفاء میں مولانا احمد علی لاہور، مولانا عبد العزیز صاحب تھریچانوی، مولانا میاں محمد صالح بائجی والے اور مولانا حماد اللہ ھالچوی شریف والے نہایت مشہور بزرگ گزرے ہیں جن کا فیض سندھ اور پنجاب تک پھیلا ہوا ہے۔ امروٹی کے دور میں سندھ میں ہندو نہایت مالدار اور تعلیم یافتہ طبقات سے تعلق رکھتے تھے۔ اس لیے نے سندھ کے ہندوؤں میں تبلیغ دین کے کام کو منظم کیا، اس سلسلے میں انہوں نے قرآن مجید کا صرف سندھی ترجمہ الگ طور پر شائع کروایا، تاکہ وہ غیر مسلمانوں کو آسانی کے ساتھ مطالعہ کے لیے دیا جاسکے، تحریک آزادی میں کام کرنے والے ہندو کارکن بھی اس آزادی کے مرکز، امروٹ شریف آتے رہتے تھے اور ان میں کافی تعلیم یافتہ لوگ حضرت کی تبلیغ اور اخلاق سے متاثر ہو کر مسلمان ہو گئے جن کی تعداد بعض روایات میں 7000 تک بتائی گئی ہے۔

وفات[ترمیم]

مولانا امروٹی کی وفات 5 نومبر 1929ء کو ہوئی۔[1][2]

حوالہ جات[ترمیم]