تبادلۂ خیال:حسین بن منصور حلاج

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

If any one has any doubt about Mansoor Hallaj were Sufi Haq pls contact me kuchnahee@yahoo.com He was purley on Toheed, As Allah Said in Quran "Main tumhari sheh-rag say ziada qareeb hoon." means he is with in our body not outside, Another Example Hdiaye , Rasool Allah said, Momin ka Qalb Allh ka ghar hota hay" mean again Allah address is only main heart or blood, Another Example, Quran Allah Said, Meray Mehboob yeh tumnay muti nahee phaykee yeh humnay phekee hay, another, Mian thumray hath bunjata hoon, main tumharay paaoon bunjata hoon. These all very much perfect example given by the Allah Allmighty and has to understand it .

"!? He was purely on tauheed" ? do you know what is tauheed

 please do not (ab)use Quranic verses to lead others astray  if Allah says "Main tumhari sheh-rag say ziada qareeb hoon." it means he knows well all you do AND NOT that he is physically near us. allothr examples you have referred show the same message. if any one says HE is Allah by himself, he is not on h right path, whatever his thoughts are.

حلاج کے کفر کی نفی​[ترمیم]

حضرت علی ہجویری انہیں میں سے مستغرق معنیٰ ابوالغیث حضرت حسین بن منصور حلاج رضی اللہ عنہ ہیں۔ آپ سرمستان بادۂ وحدت اور مشتاقِ جمالِ احدیث گزرے ہیں اور نہایت قوی الحال مشائخ تھے۔[1] مولانا روم گفت فرعونے اناالحق گشت پست گفت منصورے اناالحق گشت مست لعنة اللہ ایں انارا درقفا رحمة اللہ ایں انارا درقفا اردو ترجمہ : عبد الرحمٰن کیلانی فرعون نے "انا الحق" کہا تو ذلیل ہو گیا اور منصور نے "انا الحق" کہا (عشق و محبت میں) تو مست قرار پایا۔ فرعون کی خودی کے لیے تو بعد میں اللہ کی لعنت ہی رہ گئی اور منصور کی خودی کے لیے بعد میں اللہ کی رحمت رہی ہے۔ [2] خواجہ نظام الدین اولیاء، دہلی خواجہ نظام الدین اولیاء (م:725ھ) حلاج کی بزرگی کے اس قدر قائل تھے کہ آپ نے فرمایا : ذکر مشائخ کا ہو رہا تھا۔ بندہ نے عرض کیا کہ سیدی احمد (سید احمد رفاعی) کیسے تھے؟ آپ نے فرمایا : وہ بزرگ شخص تھے۔ عرب کا قاعدہ ہے کہ جب کسی کو بزرگی سے یاد کرتے ہیں تو اسے سیدی کہتے ہیں۔ وہ شیخ حسین بن منصور حلاج کے زمانے میں تھے۔ جب کہ ان کو جلایا گیا اور ان کی خاک دجلہ میں ڈالی گئی۔ سیدی احمد نے ذرا سی خاک اس میں سے تبرکاً اٹھا کر کھالی تھی۔ یہ ساری برکتیں اسی سبب سے انہیں حاصل تھیں۔ [3] احمد رضا خان فاضل بریلوی فاضل بریلوی صاحب سے سوال کیا گیا : حضرت منصور و تبریز و سرمد نے ایسے الفاظ کہے جن سے خدائی ثابت ہے، لیکن وہ ولی اللہ گنے جاتے ہیں اور فرعون، شداد، ہامان و نمرود نے دعویٰ کیا تھا تو مخلد و النار ہوئے، اس کی کیا وجہ ہے؟ جواب : " ان کافروں نے خود کہا اور ملعون ہوئے اور انہوں نے خود نہ کہا۔ اس نے کہا جسے کہنا شایاں ہے اور آواز بھی انہی سے مسموع ہوئی۔ جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے درخت سے سنا ' انی انا اللہ' میں ہوں رب اللہ سارے جہاں کا، کیا درخت نے کہا تھا؟ حاشا بلکہ اللہ نے۔ یونہی یہ حضرات اس وقت شجرِ موسیٰ ہوتے ہیں۔"

[4]

  1. کشف المحجوب، ص:300~~~~awais
  2. مثنوی روم
  3. فوائد الفواد، ملفوضات نظام الدین اولیاء صاحب، مرتبہ: خواجہ حسن دہلوی، ص:471
  4. احکام شریعت، ص:93