تبادلۂ خیال:خلافت عباسیہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

انہوں نے ساری ہسٹری ہی بدل دی ہے ۔۔۔۔۔ بعد رسول خدا جو کہ ایسی ہستی ہیں جن کو اللہ نے اپنے نور سے خلق کیا کیوں کہ ان کی خلقت اس وقت ہوئی جب صرف اللہ ہی تھا اور نہ کوئی چیز تھی اور ان کو سب نبیوں کا سردار بنا کے بھیجا۔ اللہ کی ہستی ایسی ہستی ہے جس کے آگے کوئی چیز ٹھہر نہیں سکتی پر رسول خدا کی زات ایسی ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کے درمیان ایک کمان جتنا فاصلہ تھا ۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ رسول خدا اللہ کے نور سے خلق ہوئے کیوں کے اگر ایسا نہ ہوتا تو آپ بھی ہیبت اللہ سے جل جاتے ۔ اب اللہ نے اپنی اطاعت اور اتباع رسول خدا کی اطاعت اور اتباع میں رکھی ہے اور رسول خدا نے فرمایا ہے میرے بعد 12 امام ہیں جو مسلم کی ہدایت کے لئے ہیں اب بعد رسول خدا لوگوں نے سقیفہ بنو ساعدہ میں حکومت کی جنگ کی اور آپس میں صدارت اور وزارتیں بانٹ لیں اور ان میں سے کوئی بھی رسول خدا کے کفن دفن میں شامل نہیں ہوئے اور باقی لوگ رسول خدا کے خکم سے مدینہ سے باہر ایک لشکر کی صورت میں تھے کیوں کہ نبی پاک نے ان کو روانہ کیا تھا اور ان کو حکم نہیں تھا مدینہ میں پر جو لوگ اس حکومت کی جنگ میں شامل تھے وہ لوگ لشکر چھوڑ کر مدینہ آ گئے ۔۔۔۔ اب لوگوں کی بنائی ہوئی حکومت کا آغاز ہوا اور حق کو چھوڑ دیا گیا جو رسول خدا کا راستہ تھا پھر اس لوگوں کی بنائی ہوئی حکومت حاصل کرنے کے لئے اور لوگوں نے بھی جستجو کرنی شروع کر دی اور حق کو قتل کرتے رہے ۔ یہاں تک کہ مولا علی سے جنگ کی گئی جو کہ اللہ کی نظر میں کفر ہے اور ان کو قتل کروا دیا گیا پھر امام حسن سے جنگ کی اور ان کو زہر دے کر شہید کر دیا گیا پھر امام حسین کو بھی شہید کر دیا گیا ۔ جب لوگوں کو واقعہ کربلا کا پتہ چلا تو ان میں لوگوں کے بنائے ہوئے حکمرانوں سے نفرت ہوئی کیوں کہ وہ حکمران اب ذبردستی کے حکمران بن گئے تھے اور لوگ ایک غلام کی طرح تھے کے وہ حکومت کے خلاف بول نہیں سکتے ورنہ قتل کر دیے جاتے بعد کربلا لوگوں نے امام زین العابدین سے کہا کہ ہم خوروج کرتے ہیں پر آپ نے منع کر دیا اس وقت جو ان کے شیعہ اور محب تھے ۔ پر بنو عباسیہ کے لوگوں نے ہوا دی کہ امام کربلا کے کشت و خون کو نہیں بھولے اس لئے وہ قتل و غارت سے منع کر رہے ہیں ۔ ہم مل کر بنو امیہ کو ختم کرتے ہیں ۔ پھر جب حالات ٹھیک ہوں گے تو امام کو ان کے مقام پر بٹھا دیا جائے گا اور ان کی ہدایت میں ہم زندگی گزاریں گئے ۔ جب سب کچھ ہو گیا تو لوگوں نے کہا کہ اب خلافت سے اتر اور امام کی بیت کر اس نے کہا ابھی ملکی حالات ٹھیک ہو جائیں تاکہ امام کو دقت نہ ہو بغاوتوں کی تو پھر امام کا ان کی سیٹ پر بٹھا دیں گئے ۔۔۔۔ جب اس نے اپنی طاقت منظم کر لی تو اس نے لوگوں سے پوچھا کون کون چاہئتے ہیں کہ امام زین العابدین کو حکومت کی بھاگ دور دی جائے اور جن لوگوں نے امام کی حمایت کی سب کو قتل کر دیا گیا اور پھر اس نے محمد و ال محمد اور ان کے اصحاب کو اتنا قتل کیا کہ لوگ اپنے اپ کو محمد و ال محمد کا شیعہ تو کیا محب بھی نہیں کہتے تھے ۔۔ اگر کسی پر شک ہوتا اس کو قتل کر دیا جاتا۔ اگر لوگ امام کی مان لیتے تو اتنی قتل و غارت نہ ہوتی ۔۔۔۔۔ جو امامت کا کہا گیا ہے اس مضمون میں کے بنو ہاشم سے نکل کر بنو عباسیہ میں چلی گئی کیوں کہ امامت اللہ کا عطا کردہ عہدہ ہے لوگوں کا نہیں ۔۔۔ بعد رسول خدا مولا علی امام تھے اور ابن عباس یا عباس نے کبھی دعوی نہیں کیا تھا کہ رسول کے وارث ہم ہیں بعد مولا علی ان کے بیٹے محمد کو ان لوگوں نے اکسایا کہ اب امام آپ ہو اور انہوں نے دعوی بھی کیا پر امام حسن نے ان کو بتلایا کہ امام کون ہوتا ہے تو وہ ان کی اطاعت میں آ گئے بعد امام حسن اور حسین کسی نے امامت کا دعوی نہیں کیا اور نہ ہی امام باقر علیہ اسلام کے وقت ۔ بعد امام باقر علیہ اسلام کے امام جعفر صادق کے دور میں یہ بات ہوئی ۔ لوگ یہ سمجھتے تھے کہ جو بڑا بیٹا ہو گا وہ امام ہو گا پر امام وہ ہوتا ہے جو اللہ نے بنایا ہوتا ہے ۔ کیوں کہ باب نبوت بند ہوا ہے ۔ ہدایت بند نہیں ہوئی اور اللہ نے باب نبوت بند کرنے کے بعد باب امامت کو کھولا ہے جو ختم نبوت کی نشانی ہے ۔ اسی طرح وقت کے ساتھ اور لوگ بھی مختلف گروپس کی شکل میں حکومت کے حصول کے لئے کوشاں رہے اور کسی بھی بندے کو امام کہہ کر لوگوں کو گمراہ کرتے رہے ۔ جس طرح اللہ نے نبی پاک کی بیویوں کو گھروں میں رہنے کا حکم دیا ہے پربی بی عائشہ کو لوگ ورغلا کر میدان جنگ میں لے آئے ۔ اور نبی نے بھی بی بی عائشہ سے فرمایہ تھا کہ عائشہ تم پر حواب کے کتے بھونکیں گئے اور اس وقت تم علی سے ناحق لڑنے جا رہی ہو گئی ۔۔۔ ادھر بھی ان کو پتہ چل گیا کہ یہ مقال حواب کا ہے اور کتے بھی بھونکے ان کو یاد بھی آ گیا پر لوگوں نے ان کو مولا علی سے لڑانا تھا ان کو گمراہ کرتے رہے نہیں یہ وہ مقام نہیں ہے جس کا رسول خدا نے فرمایا تھا۔ اسی طرح مسلم کو گمراہ کیا جا رہا ہے اور ان کو غلط انفرمیشن دے کر ان کو حق سے ہٹایا جا رہا ہے اور آج بھی حکومت کے حصول کے لئے لوگ ویسا ہی کر رہے ہیں اور بدنام اسلام ہو رہا ہے ۔۔۔۔۔ سورہ حمد میں ہم ہر نماز میں پڑھتے ہیں ۔۔۔ اے اللہ ہم تیری حمد کرتے ہیں اور تجھ سے مدد مانگتے ہیں تو ہم کو ان لوگوں کے راستے پر چلا جن پر تیری نعمتیں ہیں غضب نہیں ۔۔۔۔ اور قرآن کی آخری ایت میں فرمایا گیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ آج کے دن ہم نے آپ پر اپنی تمام نعمتیں پوری کر دیں اور آپ کے لئے دین اسلام کو پسند کیا ۔۔۔۔۔۔۔ آج کا مسلم نبی کے راستے پر چلنے کی بجائے ان لوگوں کے راستے پر چل رہا ہے جن پر اللہ کا غضب ہے ۔۔۔ جو زمین پر فساد مچاتے ہیں ۔۔۔۔۔ حکومت حاصل کرنے کے لئے سب نے قتل و غارت کی اور سب کے نشان تک مٹ گئے اور امامت آج بھی قائم ہے ۔۔۔۔۔ سب جانتے ہیں اور سب کے نشان ہیں ۔۔۔ اور جو نبی کے دشمن اور محمد و ال محمد و اصحاب محمد کے قاتل ہیں ان کا کوئی نشان نہیں اور نہ ہی کوئی دعوی کرتا ہے کہ جن لوگوں کی حکومتیں تھیں ہم ان کے اولاد ہیں ۔۔۔۔۔ Ali Hussain Mir (تبادلۂ خیالشراکتیں) 12:16, 23 جون 2016 (م ع و)علی میر