تبادلۂ خیال صارف:سید ارتضی حسن رضوی

    آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے

    الکحل اور اسلام موضوع[ترمیم]

    اسلام کی منتظمہ پوری دنیا کے معاشرے کا انتظام کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے ، جو انسانی سعادت کی گارنٹی لیتی ہے ۔اسلامی دعوت عقل ووجدان کی بنیادوں پر استوار کی گئی ہے ۔ قرآن کی بہت سی آیتیں اعتقادی و عملی معارف کو بہت ہی خوبصورتی سے بیان کرتی ہیں ۔اور معقول دلیلوں سے اپنے مقاصد کو فطرت انسانی پر پیش کرتی ہیں ۔درحقیقت اسلام آدمی کی قوت مدرکہ کی بہت زیادہ اہمیت کا قائل ہے ۔ اسلام کی خواہش ہے کہ وہ انسان جو قدرت کا عظیم شاہکار ہے اور جو اپنی عقل و خرد ہی کے ذریعے حیوان کی صفت سے جداہوا ہے اپنی فطری ادراک و شعور کے ذریعے اپنے اس مقصد کو پیش نظر رکھتے ہوئے جس کے لئے اسے خلق کیاگیا ہے اور عقل کے سپرد گی میں دے دیا گیا ہے ترقی کرے ۔ اسلام نے شخصی و اجتما‏عی زندگی کے امور کا انتظام عقل کے سپرد کیا ہے اور عقل کو اتنا عظیم عطیہ پروردگار قراردیا ہے کہ اس کو رسول باطنی قرار دیا ہے اور ہر اس چیز سے جو تلاش عقل کو ناکارہ بنائے اورخدا کی اس فطری عطیہ مختل کردے شدت کے ساتھ روکا ہے ۔حدیہ ہے کہ ایک لحظہ کے لئے بھی عقل کو معطل نہیں ہونے دیا ۔ الکحل میں ملے ہوئے جملہ مشروبات ڈائریکٹ عقل کو متاثر کرتے ہیں اور انسانی معاشرے میں روحانی و اخلاقی بدبختی کا سبب بنتے ہیں ۔اس لئے اسلام نے اس سے ممانعت کی ہے ، بھلا آدمی کے لئے اس سے بڑھ کر افسوس ناک حادثہ اور کیا ہو سکتا ہے کہ کئی ملین لیٹر مشروبات الکحل کے ذریعے پاک وصحیح ادراک و تعقل کو برباد کردیاجائے اور ناموس تکامل جہاں راستے سے انحراف پیدا کیاجائے کسی بھی ایسے معاشرے کی عمومی سعادت و خوش بختی کی امید نہیں کرنی چاہئے جو اپنی عقل وادارک کوالکحل استعمال کرکے برباد کردے ۔ مصلحت بین بانی اسلام نے نشہ آور چیزوں کے استعمال پر بہت سختی سے پابندی عائد کی ہے ، حدیہ ہے کہ ایک قطرے کا استعمال بھی ممنوع ہے ۔اسلام نے شراب خواری ایک ایسے معاشرے میں حرام قراددیاجو پورے کاپوراشراب خوار تھا، اور یہ بری عادت اس معاشرے میں مکمل طرح سے موجود تھی ۔ذرا سوچئے تو چودہ سوسال قبل جہاں جہالت و فساد نے لوگوں میں اپنے پنجے گاڑدئے ہوں، بدبختی ، خود خواہی ، شرارت ، تباہی لوگوں میں حکمرانی کرتی ہو وہاں پر ایک الہی نمائندہ اپنے ایمان وتقوی کے بھروسہ پر بشری سعادت کو مضبوط کردے اوراپنے پر مغز و عمیق دستورات معاشرہ کے شاہراہ حیات کے سامنے پیش کردے ۔ اس عمومی عادت کو ترک کرنا اور شراب کی حرمت کا حکم دینا اسلام کا نہایت ہی حیرت انگیز حکم ہے ۔ البتہ اس پلید عادت کو بیخ و بن سے اکھاڑ پھیکنے کےلئے اسلام نے مدارات کاراستہ اختیار کیاہے اور پہلی مرتبہ صرف شخصی وا جتماعی مقاصد کےلئے مضر بتاکر اس کو بنام " اسم " پہچنوایا(سورہ اعراف آیت 33 ) لیکن آخری مرتبہ بہت صاف اورواضح لہجے میں اسکےمفاسدونقصانات کوگوش زد کرایااورقطعی حرام قراردیدیا کہ لوگو! شراب تمہارے درمیان دشمنی اورکینہ پیدا کرتی ہے اوران دستورات کو بے بند و بار اوربے اعتنا بنا دیتی ہے ۔ جن کی پابندی ہی تمہارے لئے نیک بختی و سعادت ہے ۔(سورہ مائدہ آیت 91 ) جس وقت حرمت شراب کا حکم آیا ہے کچھ لوگ میگساری میں مشغول تھے لیکن حکم سنتے ہی سارے جام و مینا توڑ ڈالے اورخم کے خم شراب گلیوں کو چوں میں بہادی انس بن مالک کہتے ہیں جب شراب کی ممانعت کا حکم آیا تو اس وقت ہم لوگ ابی طلحہ کے گھر شراب خواری میں مشغول تھے اتنے میں رسول خدا (ص) کے منادی نے اعلان کیا مسلمانو ! آگاہ ہوجاؤ شراب حرام ہوگئی ہے ۔ شراب کو کوچے میں بہادو ، ابوطلحہ نے مجھ سے تقاضہ کیا کہ تم بھی شراب پھینک دو ۔ چنانچہ میں نے بھی پھینک دی ۔بعضوں نے تو شراب کے برتنوں کو بھی کوچوں میں توڑڈالااوربعضوں نے پانی سے پاک کرلیامدینہ کی گلیوں میں اتنی شراب بہائي گئی تھی کہ مدت تک یہ عالم تھا جب بارش ہوتی تھی تواس کی بواوراس کارنگ زمین پرظاہر ہوجاتا تھا ۔ یہ حکم مسلمانوں میں اتنا اثر کرگیا کہ جب بھی کوئی ملک فتح کیاجاتا تھا توکچھ ہی مدت کے اندر شراب خواری ختم کردی جاتی تھی ۔اس زمانے میں بھی جبکہ مسلمان مفاسد اور تباہ کاریوں کے مختلف اقسام میں مبتلاہیں جو شہری زندگی کی دین ہے لیکن اس کے باوجود بھی کئی ملین مسلمان دنیا کے گوشے ، کنارے میں ایسے ہیں جنھوں نے اپنی زندگی کی آخری سانس تک شراب نہیں پی ، بلکہ ان کے ذہن میں بھی شراب پینے کا تصور تک نہیں پیدا ہوا ۔ بشری قانون کے نقائص میں ایک بات یہ بھی ہے کہ انسانی تلون مزاجی کا اثر قانون پر بھی پڑتا ہے اور قانون کے تلون کی وجہ سے بشری زندگی بھی معرض دگرگونی میں پڑجاتی ہے ۔دوقابل توجہ تجربوں کو ملاحظہ فرمائیے ۔ (1) امریکہ (ایک زمانے میں ) چاہتاتھا کہ قانون کے بل بوتے پرنشہ آور چیزوں کو حرام قراردے اور جبر و زبردستی سے لوگوں کو اس موذی عادت کے چھوڑنے پر مجبور کردے کیونکہ یہ عادت شراب خواری بدبختی و تباہی کاسرچشمہ ہے اور اس کے ترک سے معاشرے کے اخلاق و رفتار میں سدھار پیدا کیا جاسکتاہے ۔ (2) دوسرا تجربہ صدراسلام میں شراب کی حرمت کا حکم آنے کے بعد ہو ا اب ان دونوں واقعات پر غور کرکے نتیجہ حاصل کیجئے ۔ امریکہ کے اساسی(اٹھارواں اصلاحی قانون کا مطلب یہ ہے کہ شراب بنانا ، بیچنا ، نشہ آور چیزوں کا ملک کے اندر لانا ، یا ملک سے باہر بھیجنا وغیرہ سب ممنوع قرار دیا تھا ) قانون میں اٹھارواں اصلاحی قانون شامل کئے جانے سے پہلے معاشرے کے خیر خواہ لوگوں کیطرف سے بڑے وسیع پیمانے پر شراب خواری کے نقصانات بیان کئے گئے اور پبلک کو شراب خواری کے چھوڑنے کی تبلیغ کی گئی ، یہاں تک کہ دس سال کے اندر اندر کتابیں رسالے ، پمفلٹ چھاپ کر ، سنیماؤں میں شرابیوں کی نکبت بار زندگی کو فلما کر تصویر کے ذریعے شراب خواری کے روحانی ، جسمانی ، اخلاقی ، اقتصادی مفاسد کواجاگر کیاگیا اورناقابل برداشت زحمتوں کے بعد ملت امریکہ کوترک شراب خواری پر آمادہ کیا گیا ۔ ابتداء سے لے کر مقصد کوحاصل کرنے تک تقریبا 65 ملین ڈالر کاخرچ آیا اور آخر کار امریکہ کی اکثریت کی خواہش پرمجلس قانون ساز کے سامنے یہ مسئلہ رکھا گیا کہ شراب خواری کو قانونا ممنوع قرادیا جائے اور پھر بڑی تحقیق اورنفع و نقصان پرتبصرے کے بعد مجلس سنائے امریکہ کی کانفرنس نے یہ قانون پاس کردیا لیکن ابھی قانون عملی طور پر نافذ نہیں ہونے پایا تھا کہ عادی شراب کی دوکانیں کھل گئیں اور باقاعدہ شراب کی خرید و فروخت شروع ہوگئی ۔اوریہ ڈھکی چھپی دوکانیں پہلے سے کئی گناہ بڑھ گئی شراب خواری ممنوع ہونے سے پہلے چار سو کارخانے شراب بنانے کے تھے ۔لیکن شراب خواری کے ممنوع ہونے کے سات سال بعد اسی ہزار شراب سازی کی دوکانیں کھل گئیں اور پھر رفتہ رفتہ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں ان دوکانوں میں آنے جانے لگے اور شراب بیچنے والے گروہ درگروہ خریدار بنانے کے لئے گھروں ، تفریح گاہوں ، مدرسوں ، مسافر خانوں میں آنے جانے لگے ، اور پھر رفتہ رفتہ یہ سلسلہ شہر سے نکل کر دیہاتوں تک پہونچ گیا اور جرائم کی تعداد روز افزوں ہونے لگی امریکائی عدالتوں کے بیان کئے ہوئے اعداد و شمار کے مطابق شراب خواری کے ممنوع ہونے کے تیرہ سال کے اندر اندر دوسو آدمی قتل کئے گئے ، نصف ملین قیدی بنائے گئے اور تقریبا چار سو ملین لیرہ برباد ہوا ۔ قانون شکنی کی وجہ سے ڈیڑھ ملین لیرہ سے زائد لوگوں سے جرمانہ وصول کیاگیا ۔ بچوں میں بھی جرائم کی تعداد بڑھ گئی حد یہ ہوگئی کہ عدالتوں نے اعلان کیا کہ ہماری ملکی تاریخ میں کبھی بھی اتنے بچے مستی کے عالم میں نہیں پکڑے جتنے اب پکڑے جارہے ہیں ذمہ داروں کے بیان کے مطابق 920ء سے آٹھ سال کے اندر شراب خواروں کی تعداد بہت بڑھ گئی تقریبا شراب حرام ہونے سے پہلے کے مقابلے میں تین گنابڑھ گئی اور کثرت شراب نوشی کی وجہ سےموتوں اور بیماریوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوگیا 1918ء میں شراب ممنوع ہونے سے نیویارک میں الکحل سے بیمار ہونے والوں کی تعداد3741 اورمرنے والوں کی تعداد 252 تھی لیکن شراب ممنوع ہونے کے بعد 1927 ء میں الکحل سے بیمار ہونے والوں کی تعداد گیارہ ہزار سے زیادہ اورمرنےوالوں کی تعداد ساڑھے سات ہزار تک پہونچ گئی ۔ مختصر یہ کہ امریکہ نے اس سلسلے میں جوجانی اورمالی نقصان برادشت کیا وہ تو برداشت ہی کیا لیکن مجبورہوکراس قانون ــــــــــــــ

    ممنوعیت شراب[ترمیم]

    ــــــــــــــ کو واپس لینا پڑا ،اور چودہ سال کے بعد حرمت شراب کی وجہ سے جو تکلیفیں لوگوں نے اٹھائی تھیں ان سے آزادہوئے اور ان کوآسودگی ملی ۔ ایک زمانے میں انگلستان کے اندر بھی ذمہ داروں نے چاہاتھا کہ ایسا ہی قانون نافذ کریں لیکن لوگوں نے سیاہ جھنڈیوں سے، ہڑتالوں سے اس کا استقبال کیا مجبورا حکومت نے ایسا قانون بنانے سے گریز اختیار کرلیا ۔ یہ اختلافات صرف اس لئے ہیں کہ جہاں معاشرے میں خیرو مصلحت کے عناصر ہیں وہیں خواہشات و جذبات بھی موجود ہيں ــــــــــــــ اب یہ بات ثابت ہوگئی کہ لوگوں کی خواہشات کااثرقانون پرپڑتا ہے کیونکہ قانون بھی تولوگ ہی بناتے ہيں ۔ مترجم : لیکن اسلامی قانون میں صرف معاشرے کی سلامتی و سعادت کا لحاظ رکھا گیا ہےاورلوگوں کی خواہشات سے کوئی واسطہ نہيں رکھاگیا،اس لئے اس کے قوانین بھی تغیر پذیر یا لوگوں کی خواہشات کے تابع نہیں ہیں ۔ علمی ترقی جتنی بڑھتی جائےگی تجربات ، تحقیقات کادامن جتنا وسیع ہوتا جائے گا الکحل کے نقصانات اتنے ہی واضح اور روشن ہوتے جائیں گے قتل، بے عفتی، خاندانی جھگڑے معاشرتی نقصانات سے قطع نظر کرتے ہوئے طبی نقطہ نظر سے بھی الکحل کے پیکر بشری پر نقصانات ناقابل انکار ہیں ۔ ادھر دو ایک صدی سے ہزاروں رسالے مختلف زبانوں میں الکحل کے نقصانات ظاہر کرنے کے لئے شایع کئے گئے ہیں اور ناقابل توجہ اقدامات بھی کئے گئے ہیں لیکن ان سب باتوں کے باوجود بھی اسلام کے صرف ایک حکم حرمت سے جو نتائج برآمد ہوئے ہیں اس کے مقابلے میں صدیوں کے اقدامات ہیچ ہیں ۔حدیہ ہے کہ یہ لوگ ایک شہر کےاندر بھی شراب بندی نافذ نہ کرسکے تمام ملک میں کیا کرسکیں گے ؟ لیکن صدر اسلام میں نہ تو کوئی مجلس قانون ساز تھی نہ شراب بندی کی تبلیغ کی گئی اورنہ اسلام نے قانون شراب بندی نافذ کرنےکے لئے ایک دینار خرچ کیا یہ سب کچھ بھی نہیں کیا گیا ۔صرف رسول خدا (ص)نے مسلمانوں کے درمیان اعلان کیا کہ : لوگو! خدا نے تمہارے اوپر شراب حرام قراردیدی ہے ! اور یہ حکم بھی ایسے وقت آیا جب عربوں میں شراب سے زیادہ کوئی چیز مرغوب نہیں تھی چند یہودیوں کو چھوڑ کر پورا معاشرہ مے نوش تھا اور لوگ اس مہلک مرض میں مبتلاء تھے رسول خدا (ص) کا ابھی اعلان ختم بھی نہیں ہوپایا تھا کہ لوگوں نے شراب چھوڑ دی اور ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اس لعنتی مرض کو وداع کردیا ۔ قانون الہی کو قانون بشری پر ایک اہم فوقیت یہ بھی ہے کہ بشری مقننہ انسانی احساسات وعواطف کا کوئی لحاظ نہیں کرتی اور قانون پر عمل کرنے کے لئے لوگوں کو کسی راستے کی رہنمائی نہیں کرتی قانون شکنی اوراس کے حدودسے تجاوزنہ کرنا صرف انتظامیہ کے ڈر سے ہے اورانتظامیہ کی سزاسے بچنے کی خاطر ہے اورظاہر ہے کہ جزادینے والا بھی انسان ہے۔برخلاف الہی قوانین کے کہ اسکا تمام تردارومدار انسانی عواطف پر ہے اور پہلی مرتبہ انسانی عالی صفات کے ذریعہ لوگوں کو قوانین پر عمل کرنے کے لئے ابھارا ہے اور انسان کے تمام اندرونی قوتوں سے احساسات کے حدود و قوانین پر عمل کے لئے استفادہ کرتاہے ۔ لوگ قانون سے اور اس کی جزاء سے ڈرتے ضرور ہيں مگر کچھ ایسے چوہے دان بھی بنالیتے ہیں جہاں تک قانون کی رسائی ہی نہیں ہوپاتی انسان فطری طور پر لذتوں کا دلدادہ ہے اس لئے محض حکومت کے ڈر سے لذتوں سے اجتناب نہیں کرسکتا بلکہ اس کی ساری کوشش یہ ہوتی ہے کہ قانون کے پردے میں دل کی بھڑاس نکال لے ۔ حکومت اخلاقی جرائم کی سزاعرفانی قانون کے بل بوتے پر دے نہیں سکتی کیونکہ حکومت کتنی ہی مضبوط ہو نہ تمام جرائم پرنظر کرسکتی ہے اور نہ تمام مجرموں کو سزا دے سکتی ہے اور اسی لئے بہت سےجرائم کا اثبات بھی ناممکن ہوجاتا ہےاور مجرم سزا سے بچ جاتے ہیں۔اسی لئے جب تک لوگوں کے دلوں میں انتظامیہ کا خوف نہ اوران کے جملہ خواہشات و جذبات انتظامیہ کی نظروں میں ہر وقت نہ ہوں ہر اصلاحی قدم ناکامیاب ہوجائے گا ۔ برخلاف اسلامی انتظامیہ کے، کہ اگر لوگ خداپرایمان رکھتے ہوں اورخلاق کائنات ہی کوجزاوسزا کا مالک سمجھتے ہوں ایسا خدا جس کے احکام زمین و آسمان میں نافذ ہیں اس سے ڈرتے ہوں تو اس سے کہاں بھاگ سکتے ہيں؟ اور اس سے چھپ کر کہاں گناہ کرسکتے ہیں ؟ اس لئے لوگوں کو بہت سے گناہوں سے بچانے کا طریقہ ارتباط بخدا کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے ۔خداپرایمان لانے سے زندگی کی تصویر میں رنگ بھرتا ہے کیونکہ جب آدمی یہ عقیدہ رکھےگا کہ اس زندگی کے ختم ہوجانے سے ہر چیز کا خاتمہ نہيں ہو جاتا تو اس کے دن میں ایک خاص قسم کا سکون پیدا ہوجاتا ہے اور وہ زندگی کے ہر ہر شعبے میں اعتدال برتنے لگتا ہے ۔ ان باتوں کے علاوہ بھی خدائی قانون انسان کے ہاتھوں میں ایک ثابت اورغیرمتزلزل دستور العمل دیتا ہے جس میں کسی قسم کا تلون نہيں ہوتا اور جو ہمیشہ تغیر و انقلاب کے طوفان سے کنارہ کش رہتا ہے۔یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ ایک چیز کل حرام رہی ہواورآج بلا کسی وجہ کے جائز ہوجائے ۔کیونکہ الہی قوانین واقع بینی کی بنیاد پر بنائے گئے ہيں ان میں حق کے علاوہ کسی بھی چیز کالحاظ نہیں رکھا گیااورجس طرح حق غیر متغیر ہے اسی طرح قانون الہی بھی غیر متغیر چیز ہے ۔ لوگوں کی خواہشات و جذبات سے اس میں کوئی تغیر و تبدل نہیں ہوسکتا ۔ آج کی متمدن دنیا اس بات پر نازاں ہے کہ اس نے انسان کی آزادی کومحفوظ کردیا ہے ۔اورقانون میں ارادہ ملت کی حکومت کو تسلیم کیاہے ــــــــــــــ لیکن ذرااس دعوی کا تحلیل وتجزیہ کیجئے تو خود پتہ چل جائے گا کہ ارادہ کی حکومت اور اکثریت کی آزادی خود ہی ارادہ کی محکومیت اور اقلیت کی آزادی کو سلب کرتی ہے مثلا 51فیصد لوگ کسی قانون کے حامی ہیں اور 49 فیصدمخالف ، تو اکثریت کی رائے کا اعتبارکرتے ہوئے اس قانون کو جاری و نافذکردیاجائے گااور اقلیت کو مجبورااس قانون کو قبول کرنا پڑے گا ۔ ظاہر ہے کہ یہ ایسا جبری حکم ہے جس کو اقلیت کسی بھی قیمت پرماننے کے لئے تیارنہیں ہے ۔اب ہم آپ سےسوال کرتےہیں کیا اقلیت انسان نہيں ہے جس کو آزادی رائے سے محروم کردیا گیا ؟ اس کے ارادے کی کوئی قدروقیمت باقی نہ رکھی ۔کیا کچھ لوگوں کوآزادی رائے سےمحروم کردینا خلاف حقیقت نہیں ہے ؟ کیا اکثریت کی رائے کو اقلیت پر ڈال دینا اسیری فکر ی کی علامت نہیں ہے ؟ کیااس کے علاوہ کوئی اور مفہوم ہوسکتا ہے ؟ بس مجھے کہنے دیجئے اس آزادی میں ‏غلامی پوشیدہ ہے ۔ اقبال نے کیا خوب کہا ہے : جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میں بندوں کو گنا کرتے ہيں تو لا نہیں کرتے اس کے برخلاف لوگ الہی قوانین میں اپنے ہمجنسوں کی غلامی سے قطعا محفوظ ہیں وہاں اکثریت و اقلیت کا کوئی مسئلہ نہیں ہے ۔وہاں تو تصرف عمومی مصلحت کو پیش نظر رکھا جاتا ہے جس کامقصد بشری معاشرے کی سعادت و نیک بختی کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے ۔ ایک دین دار شخص کی نظر میں چونکہ واضع قانون صرف خدا ہے اور اس کا عقیدہ ہے کہ الہی قوانین کی اطاعت وفرمانبرداری تمام نوع بشر کے لئے مفید ہے ۔اس لئے وہ اپنے تمام اعمال میں اطاعت الہی کے لئے کوشاں رہتا ہے اور کسی ظاہری قوت کے سرپر مسلط ہوئے بغیر بھی وہ قانون الہی کی مخالفت نہيں کرتا ۔ یہ بات تجربے سے ثابت ہوچکی ہے کہ بشری افکار کے سرچشمے سے فیض حاصل کرکے بننے والا قانون انسانی وجود کے اندر کبھی بھی اخلاقی علل کو ابھار کر، نا مطلوب شہوتوں سے انسان کو کبھی نہیں روک سکتا ۔ دنیائے انسانیت علوم و فنون میں چاہے جتنی ترقی کرلے اورقوموں کی سطح افکار چاہے جتنی بلند ہوجائے پھر بھی وہ خواہشات کے چنگل سے نجات نہيں پاسکتی ۔شہوانی جکڑ بند سے آزادی ، برائیوں سے اجتناب صرف ایمان باللہ کے سائے میں پروان چڑھ سکتی ہے ۔ فرقوں پر پھیلاہوا تجربہ اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ انسان تو خدائی ہدایت پر کار بند ہوگا اور یا پھر دریائے شہوت میں غوطہ خوری کرے گا ــــــــــــــ اسلام کی ایک خوبی میکشی کی حرمت بھی ہے ۔ کیونکہ فرزندان افریقہ اسی عادت کی بناء پر جنون سے قریب تر ہوگئے اور اہل یورپ کی عقلیں ان کے ہاتھوں سے اسی وجہ سے جاتی رہیں ۔افریقیوں کے لئے حرمت شراب ضروری ہے اور یورپین کو ان کے کیفر کردارتک پہونچنا ضروری ہے ۔ واقعہ یہ ہے کہ شراب شمالی حصوں میں انسان کو بے وقوف و نافہم بنا دیتی ہے اور جنوبی حصوں میں دیوانہ کردیتی ہے ۔ (تفسیر طنطاوی جلد 1 صفحہ 196) والٹیر کہتاہے کہ : محمد (ص) کا دین ایک معقول وواقعی و پاک اور بشریت کا دوست دار ہے ۔ معقول ہونے کی دلیل یہ ہے کہ جنون شرک میں کبھی گرفتار نہیں ہوا اور خدا کے لئے مثل کا قائل نہیں ہوا اور دور از کارو متناقض اور خلاف عقل باتوں پر ان کی بنیاد نہیں رکھی گئی۔ واقعی ہونے کی دلیل یہ ہے کہ جوا ، شراب ، لہوو لعب کوحرام قرار دیدیا گیا ہے ۔ ان کے بدلے پنج وقت نماز واجب قراردی گئی ہے ۔ پاک ہونے کی دلیل یہ ہے کہ بے حد و حساب عورتوں سے جنسی تعلقات جیسا کہ ایشیائی حکم کا طریقہ تھا ــــــــــــــ سے روک کر رشتہ ازدواج کو چار عورتوں میں محدود کردیا ہے۔ بشریت کا دوست دار ہونے کی دلیل یہ ہے کہ : ہم جنسوں کی مدد اور زکوۃ کو حج سے زیادہ واجب بتایاگیا ہے ۔ یہ ساری چیزیں اسلا م کی حقیقت کو ثابت کرتی ہيں ۔ (اسلام از نظر وا لٹر ) موسیو جولس لابوم کہتا ہے : عربوں نے شراب خواری کی انتہا کردی تھی ۔جوا پر فخر کرتے تھے ، مرد جتنی عورتوں کوچاہے رکھ سکتا تھا ۔اورجب چاہتا طلاق دے سکتا تھا۔بیوہ عورتیں مرد کا ترکہ سمجھی جاتی تھیں اور اس کے بعد اس کے بیٹوں میں تقسیم کردی جاتی تھیں اور بیٹے انکواپنی بیوی بنالیتے تھے اسلام نےان چیزوں کو جڑ سے اکھاڑ کے پھینک دیا ۔ (دائرۃ المعارف فریدو جدی ) پروفیسرایڈورڈ مونٹہ لکھتا ہے : لڑکیوں کےقتل ، نشہ آور چیزوں کے استعمال جوا وغیرہ سے اسلام نے روک دیا ، حالانکہ یہ چیزيں عربوں میں کثرت سے رائج تھیں اور اس روکنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ محمد (ص) کوبشریت کا عظیم رہبرمان لیاگیا ۔ (افکار و عقائد )



    --رضوی 09:34, 1 نومبر 2006 (UTC) (تبیاں سے اقتباس)

    الکحل کے نقصانات موضوع[ترمیم]

    شراب ونشہ آور چیزوں کا روز افزوں بکثرت استعمال روح معاشرے کوتباہ اور برباد کررہا ہے اور اسی لئے منحوس و ناہنجار قسم کی مسلسل خرابیاں جواز روئے اخلاق دین ، روح ، مذہب ، افراد اورمعاشرے کو نقصان پہنچارہی ہیں ان کا انکار نہیں کیا جاسکتا ۔ کوئی بھی عقلمند ان برائیوں کی طرف سے چشم پوشی نہیں کرسکتا ۔ کوئی ایسا سال نہیں گذرتا جس میں الکحل کے رسیا ہزاروں کی تعداد میں اسپتال نہ پہنچتے ہوں اور ہزاروں افراد قتل ، خود کشی، خیانت ، چوری ، رسوائی جیسے عظیم جرم کا ارتکاب نہ کرتے ہوں ۔ بہت سے افراد کا نظریہ ہے کہ شراب پینے سے رنج و غم سے چھٹکارا حاصل ہوجاتا ہے ۔ لیکن درحقیقت یہ لوگ اس طرح زندگی کی مشقتوں اورسختیوں کےمقابلے میں اعتراف شکست و ناتوانی کرتے ہیں اور زندگی کی نامناسب سختیوں کے سامنے گھٹنےٹیک دیتے ہیں ۔جب بھی نامناسب و مشکلات زندگی کی وحشت انگیز صدا ان کے کانوں سے ٹکراتی ہے یہ بادہ نوشی کی پناہ لینے لگتے ہیں تاکہ زندگی کے ان غموں سے عالم خیال میں ہی سہی کچھ دیر کے لئے سکون تومل جائے ۔ یہ بہانے جن کی بنا پر انسان میگساری کی طرف مائل ہوتا ہے ان سے شراب خواری کا جواز نہیں ثابت ہوسکتا ۔ جام و شراب کا وجود ہی معاشرے کے بیمار ہونے کی دلیل ہے اور یہ ایسی ہستی سوز بیماری ہے جس کا علاج ترتیب روحی و فکری کے بغیر ممکن نہیں ہے عقل مند انسان کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ بادہ علم و دانش سے سرمست ہو ، نہ یہ کہ جام ومینا سے ٹکرائے ۔ جس کا نتیجہ دیوانگی اور انسان کو درجہ بہائم میں پہنچانا ہوتا ہے ۔ ایک مرتبہ مجھے ہمبرگ میں یہودیوں کی ایک بہت خوبصورت عبادت گاہ دیکھنے کا اتفاق ہوا ۔ ہلکی پھلکی پرشکوہ عمارت ہردیکھنے والے کی توجہ اپنی طرف مبذول کرلیتی تھی سر پرست عبادت گاہ کے ذریعہ اس کے مختلف حصوں کو دیکھنے کا موقع ملا ۔ جس چیز نے مجھے متحیر کردیا وہ یہ تھی کہ شراب نوشی کے لئے مخصوص ہال بنایا گیا تھا میں نے بہت ہی تاثر کے ساتھ پوچھاکیا عبادت خانوں میں بھی شراب نوشی کی جاتی ہے ؟ اس نے جواب میں کہا ! ہاں لیکن یہ عام لوگوں کےلئے نہیں ہے بلکہ مخصوص افراد جب یہاں آتے ہیں تو ان کے لئے سہولت مہیا کی جاتی ہے ۔ شراب نوشی کی کثرت نے معاشرے کے رہبروں اوردانش مندوں کو وحشت زدہ کر دیا ہے اس کا مقابلہ کرنے کے لئے بہت سی انجمنیں بنائی گئی ہیں مثلا " سازمان مبارزہ باالکل " لیکن ایسی موذی بیماریوں کا علاج اس قسم کی انجمنوں کے بس کی بات نہیں ہے ۔کیونکہ اس بات کاخطرہ لاحق ہوگیاہے کہ کہیں متحرک طبقہ اورنسل جوان ، طبقہ شراب خواراں میں نہ بدل جائے ۔ ذیل کے اعداد و شمار بد بختی کی روشن مثالوں میں سے ایک ہیں ۔ بین الملل چوبیسویں کانفرنس کے اطباء کی تحقیقات کے مطابق فرانس میں شراب نے مندرجہ ذیل افراد کی عقل و روح کو متاثر کیا ۔ اسپتالوں میں داخل ہونے والی عورتوں میں 20 فیصد ، اور مردوں میں 60 فیصد الکحل کے عادی تھے ۔ 70 فیصد دیوانوں اور40 فیصد بیماروں میں الکحل کی آمیزش تھی ۔ انگلستان کی تحقیقاتی کمیٹی کے نزدیک یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ 95 فی صد دیوانے الکحل کے عادی ہوتے ہیں فرانس کے وزیر صحت نےوہاں کے الکحل سے مرنےوالوں کی تعداد جب نشر کی ہے تو اخباروں نے کہا کہ یہ تعداد جھنجھوڑ دینے والی ہے ۔اس نشریہ میں بتایا گیا ہے کہ الکحل کے کثرت استعمال سے 1956 ء میں مرنے والوں کی تعداد بیس ہزار تھی ۔ شراب کے سلسلے میں بین المللی کمیٹی کے چیرمین نے بتایا: فرانس میں 25 فیصد کار سے ہونے والے حادثات اور 57 فیصد موٹروں کے حادثات الکحل کی کثرت استعمال کانتیجہ ہوتے ہیں ۔(مجلہ تندرست شمارہ 12 سال 5) " پائن کارے " فرانس کے رئیس جمہوریہ نے جو الکحل کے تحقیقاتی کمیٹی کے صدر بھی ہیں بین المللی جنگ کے موقع پر ایک اعلان اس طرح کیا : اے فرانس کے بیٹو ! تمہارا سب سے بڑا دشمن الکحل کا استعمال ہے ۔ جرمنی سے جنگ کرنے سے پہلے تم کو ان نشہ آور چیزوں سے جنگ کرنی چاہئے۔ 1870ء میں شراب خواری کے نتیجے میں جو جانی و مالی نقصان ہوا تھا وہ اس جنگ سے ہونے والے نقصانات سے کہیں زیادہ تھا ۔ تمھارے نزدیک جو شراب لذیذ ہے وہی تمہارے لئے زہر قاتل ہے ۔ یہ تم کو وقت سے پہلے بوڑھا کردے گی ۔تمہاری آدھی عمر کو بربادکردے گی ۔ تمہارے بدن پر کمزوریوں اور بیماریوں کے مسلسل حملے ہونے لگیں گے ۔ فرانس کے اسپتالوں میں 40 فیصد بیماریوں کوالکحل کا نتیجہ بتایا جاتا ہے ۔ نرسنگ ہوموں کے 50 فیصد دیوانے نشہ آور چیزوں کےاستعمال سے دیوانے ہوئے ہيں ۔ فرانس کے بچوں کے اسپتالوں میں بھی 50 فیصد بچوں کی بیماری ان کے ماں باپ کے الکحل کے عادی ہونے کی وجہ سے ہے ۔ فرانس کی عدالتوں کا 60 فیصد خرچ الکحل سے متعلق ہوتاہے ۔ حکومت فرانس کے خزانوں پر ہر سال اسپتالوں ، نرسنگ ہوموں ، بینکوں کی وجہ سے 325 میلیارد کا بار الکحل کےاستعمال کی وجہ سے پڑتا ہے ۔ الکحل انسانی اموات کی کثرت کا سبب بنتا ہے ۔مردوں میں 55 فیصد عورتوں میں 30 فیصد موتیں الکحل کی وجہ سے ہوتی ہیں ۔ 95 فیصد بچوں کے قاتل الکحل کےعادی ہوتے ہيں ۔ 60 فیصد ناکارہ و بدکارجوان الکحل کےعادی والدین سے پیدا ہوتے ہیں ۔(خواندینہا شمارہ 7 سال 26 ) جرمنی کی عدالت میں ایک سال کے اندر ایک لاکھ پچاس ہزار مجرم محض نشہ آور چیزوں کے استعمال کی بدولت پہنچے ۔ اسی طرح 1878ء میں گناہ گار عورتوں کے بارے میں ــــــــــــــ جن کے گناہ کی وجہ الکحل کا استعمال تھا ــــــــــــــ جرمنی کی عدالت سے 54348 قطعی حکم لگایا جبکہ یہی تعداد 1914ء میں ساٹھ ہزار اکتیس تک پہنچ گئی ۔ اتازونی کے ایک وزیر نےاپنی تقریر میں کہا : امریکہ نے دن سال کی مدت میں 18 ہزار ملیون مشروبات پرخرچ کیا۔ جس کے نتیجے میں تین ہزار جوانوں کو دارالمساکین ، ڈیڑھ لاکھ کو قید خانہ ، ڈیڑھ ہزار کوقتل ، دوہزار کو خودکشی ، دولاکھ عورتوں کو بیوہ ، اور ایک ملین بچوں کو یتیم ہونا پڑا ۔ مختلف ملکوں کے مخصوص نمایندگان کی تحقیقاتی کمیٹی نے اعلان کیا ، اقتصادی لحاظ سے بھی الکحل کے نتائج خطرناک ہیں تحقیق سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ (شخصی نقصانات کے علاوہ ) 128 ملیاردکا خرچ حکومت پر پڑتا ہے ۔ اس طرح اسپتالوں پردس ملیارد ، تعاون پر40 ملیارد ،عدالتوں و قیدخانوں پر60 ملیارد، پولیس پر17 ملیارد ، اس کے علاوہ بھی حکومت کے خزانے پر 11 ملیارد کا خرچ آتا ہے جو خام انگور کے مصرف سے کم ہوجاتاہے اور الکحل کے فروخت سے صرف53 ملین فرانک کی آمدنی فرانس کوہوتی ہے آپ خود سوچئے ، حکومت کو اقتصادی لحاظ سے کتنا نقصان ہوتا ہے ۔(مجلہ تندرست سال 5 شمارہ12 ) چند روز قبل روس میں شراب خواری کی روک تھام کے لئے شدید اقدامات کرنے کا اعلان کیا گیا۔یہ اقدام روس میں بڑھتی ہوئی شراب خواری کے اثرات کو دور کرنے کے لئے کیا گیا ہے ۔ دو ہفتے قبل روس کے نائب وزیر اعظم نے اعلان کیا ، روس میں شراب خواری کو روکنے کے لئے بہت جلد اقدام کیا جائے گا ۔ روس کا اخبار " پراودا " لکھتا ہے : الکحل کے کثرت استعمال نے روس میں جرائم ڈیوٹی پر نہ پہنچنے ، کارخانوں کے نظم و ضبط کی خرابیوں کی تعداد میں اضافہ کردیا ہے ۔ امید کی جاتی ہے کہ شراب خواری کے خلاف آئندہ اس سے زیادہ سخت اقدامات کئے جائیں گے ۔(اطلاعات شمارہ 13108 ) حسب تحقیق فضائی حادثے زیادہ ترخلابازوں ، پائیلٹوں کی مستی کی وجہ سے ہوتے ہيں ، ڈاکٹر کلیمنٹ کارن گولڈ نے تحقیق کرکے ایک اعداد و شمار جمع کیا ہے جو ہوائی حادثوں کے بارے میں نشاندہی کرتا ہے ڈاکٹر گولڈ کہتے ہیں : امریکہ میں ہونے والے فضائی حادثے خصوصی ہوائی جہازوں ، ہیلی کاپٹروں میں بکثرت ہوتے ہيں ۔ ڈاکٹر گولڈتحقیقی مطالعہ ، فنی ماہرین کی رائیں ، تجارتی و مسافربردار جہازوں کے گرنے کے اسباب و علل کی بناء پر اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ : ہوائی حادثے زیادہ تر ناگہانی فنی نقص ، یاپائلٹوں کی مستی کی وجہ سے ہوتے ہیں ۔یہ نظریہ امریکی پائلٹوں پر ساری دنیا کے پائلٹوں کےبہ نسبت زیادہ صادق آتا ہے کیونکہ اب تک جتنے بھی جہاز گرے ہیں ان کے پائلٹ زیادہ تر امریکی تھے ، گرنے والے جہازوں کے پائلٹوں کے باقی ماندہ جسم کے تجزئے سےپتہ چلا ہے کہ اکثر الکحل کے عادی تھے ۔ جب سے ہوائی حادثوں میں اضافے ہونے شروع ہوئے ہیں ذمہ داروں نے اس کی اصل وجہ معلوم کرنے کی کوشش بھی شروع کردی۔ آخر کار اس راز سے پردہ اٹھا کہ آخری سالوں میں جوجہازگرے ہیں انکی اصلی وجہ پائلٹ کی مستی یاعشق بازی تھی۔اس لحاظ سے آخری سالوں میں ہوائی حادثے الکحل کے استعمال اور عورتوں کی فریب کاری کی وجہ سے زیادہ ہوئے ہيں ۔ الکحل کے نقصانات زمین ہی پر کیا کم تھے کہ اب اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ وہ بیچارے بھی جنھوں نے زندگی میں کبھی بھی الکحل کا استعمال نہیں کیا ، شکار ہورہے ہیں ۔ --رضوی 09:34, 1 نومبر 2006 (UTC) (تبیاں سے اقتباس)

    حضرت فاطمہ[ترمیم]

    آپ سے درخواست ہے کہ حضرت فاطمہ پر نئے مقالے شروع کرنے کی بجائے ان پر پہلے سے موجود مضمون کو بہتر بنائیں۔ حیدر 11:50, 1 نومبر 2006 (UTC)

    گذارشات[ترمیم]

    • دیکھیں ہر بات کو انگریزی ویکی سے موازنہ نہ کریں اردو کا اپنا الگ مزاج ہے۔ اسلام کی اولین شخصیات (وہ جو براہ راست پیغمبر اسلام سے منسلک ہیں) کی زندگی اتنی ہمہ جھت ہے کہ ان پر ایک مضمون ناکافی ہی نہیں احمقانہ حرکت کے زمرے میں آتا ہے۔ اگر کوئی حضرت فاطمہ پر دو یا چار نہیں دس مضامین بھی لکھ دے توکم ہیں ، ایسی صورت میں اس شخصیت کا الگ زمرہ بنا کر تمام مضامین کو اس میں رکھیۓ۔
    • حذف شدگیوں کے الانتباہ الاحمر (red alert) لگانے کے بجاۓ پہلے صرف تبادلہ خیال پر اپنا موقف لکھیۓ۔ ایسی حرکات سے لکھنے والوں کی حوصلہ شکنی نہ کیجیۓ
    • اگر کوئی مولوی کے انداز میں کوئی مضمون تحریر کرتا ہے تو اسکا یہ مطلب نہیں کہ اسکو حذف کردیا جاۓ ، یہ بھی اردو کا ایک انداز ہے جو کہ مولوی کی کتابوں سے نکل کر شمارندے کی دنیا میں بھی آنا چاہیۓ۔ افراز

    سب سے اھم کمی[ترمیم]

    ارتضی صاحب آپ کے مضامین میں سب سے بڑی کمی --- سرخیوں --- کی ہوتی ہے۔ اگر کوئی چاہے بھی تو اسکے لیۓ آپ کے مضامین میں کوئی ترمیم کرنا ممکن نہیں ہوتا کیونکہ ایک لحیم شحیم متن کا انبار دیکھ کر ہی پسینے آجاتے ہیں۔ بہت کم ایسے لوگ ہوں گے جو کہ آپ کی علمی صلاحیت سے فائدہ اٹھا سکیں ، اگر آپ اپنی تحریر کے صرف اہم نقاط سرخیوں کے ساتھ تحریر فرما دیا کریں تو بہت خوب ہو۔ افراز ارتضیٰ صاحب کیا آپ " قرآن روحانی اور جسمانی بیماریوں کا علاج ہے" کے مضمون پر احادیث یا تاریخ اسلام سے واقعات بهجوا سکتے ہیں۔بہت ممنون ہوں گا۔ میرا ای میل ایڈریس ہے jameelanwer@yahoo.com