تبادلۂ خیال ویکیپیڈیا:اسلوب نامہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

جب وقت منہ پھیر لیتا ہے تو پھر کتا بھی شیر کو گھیر لیتا ہے

سوال[ترمیم]

کیا میں کچھ نئا لکھ سکتا ھو يهاں MWSK (تبادلۂ خیالشراکتیں) 16:41, 15 اکتوبر 2016 (م ع و)

جی ہاں Hamda imam (تبادلۂ خیالشراکتیں) 17:54, 2 فروری 2017 (م ع و)

کیا سیاست کو موضوع بنایا جا سکتا ہے Gujjar1123 (تبادلۂ خیالشراکتیں) 20:05, 28 مارچ 2017 (م ع و)

Yes Zia Urahmandd (تبادلۂ خیالشراکتیں) 05:00, 3 اپریل 2017 (م ع و)

Yes Muhammad Habeeb-ur-Rehman (تبادلۂ خیالشراکتیں) 05:54, 18 جون 2017 (م ع و)

جی آپ بالکل لکھ سکتے ہیں Ehtashamul Haque Afaqui (تبادلۂ خیالشراکتیں) 14:09, 17 نومبر 2017 (م ع و)

جی آپ بلکل لکھ سکتے ہیں اریبہ نور (تبادلۂ خیالشراکتیں) 17:44، 28 اکتوبر 2018ء (م ع و)

jwahrat sy ziyada kimiti[ترمیم]

shan o shokat sy bhago ye tmhary pichy

phiry GI...

Allaha tallah ko hr wqt apny sath smajhna ..afzal garden iman by ... Maqbool ahmad (تبادلۂ خیالشراکتیں) 14:44, 30 جنوری 2017 (م ع و)

malomat...[ترمیم]

suraj ka 65 fisad hisa hydrogen hillium gaeson sy bna hy ... Saudi Arab AK aysa mulk hy jhan koi drya nh hy .... sirilinka k paharon PR suraj ghroob hony sy sat rang lata hykbal 119.160.119.248 15:26, 30 جنوری 2017 (م ع و)

استرانہ قوم[ترمیم]

استرانہ قوم کا تعلق صوبہ بلوچستان کے شہر ژوب سے ہے 1570 میں ڈیرہ اسماعیل خان اکر آباد ہوئ اتحاد محبت اور سر بلندی انکی بنیادی وصف ہے یہ زیادہ تر تجارتی لوگے ہے ارو زیادہ تر پیشہ انکا ہوٹل کاروبار ہے یہ قوم مشہور 4 بستیوں پر مشتمعل ہے جسمیں کڑی شموزئ نمبر ون پر ہے ..مزید جاری Zia Urahmandd (تبادلۂ خیالشراکتیں) 05:09, 3 اپریل 2017 (م ع و)

علم سید ریاض الدین یوسفی (تبادلۂ خیالشراکتیں) 13:59, 15 اکتوبر 2017 (م ع و)

سیکھنا سکھانا[ترمیم]

اس دنیامیں ہمارے ساتھ مختلف صلاحیتوں کے مالک لوگ بستے ہیں اس لیے ہمیں ہر ممکن کوشش کرنا چاہئے کہ ہم سب ایک دوسرے سے کچھ نہ کچھ سیکھتے رہیں Ehtashamul Haque Afaqui (تبادلۂ خیالشراکتیں) 14:12, 17 نومبر 2017 (م ع و)

محمد علی جوہر یونیورسٹی[ترمیم]

محمد علی جوہر یونیورسٹی اترپردیش کے زرخیز مٹی دہلی سے تقریبا 200 کیلومیٹر دور رامپور ضلع میں واقع ہے۔ اس یونیور سٹی میں تمام طرح کے دنیاوی علوم و فنون حاصل کرنے کا موقع فراہم ہے۔ اس یونیورسٹی می تعلیمی سال کا آغاز 2012 سے ہوا ہے۔ جہاں تعلیم کا سلسلہ بدستور جاری ہے

 Ehtashamul Haque Afaqui (تبادلۂ خیالشراکتیں) 14:17, 17 نومبر 2017 (م ع و)

گورنمٹ ایلیمنٹری سکول مردانہ روٹلہ[ترمیم]

گورنمنٹ ایلیمنٹری سکول مردانہ روٹلہ ایک تاریخی سکول ہے جس کا رقبہ تقریبا دو ایکڑ ہے یہ پل شیر شاہ کے قریب ہے اور شہر تلمبہ سے دس کلومیٹر مشرق کی طرف ہے اس کے ارد گرد سیاسی لوگ رہتے ہیں جن میں نمایاں نام پیر عباس علی شاہ اور پیر شہباز قلندر کے ہیں اس سکول میں تمام اساتزہ بچوں کو محنت اور لگن سے پڑھاتے ہیں جس کی وجہ سے ہر سال رزلٹ شاندار آتا ہے . اس میں تمام بچوں کو برابر کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے پڑھایا جاتا ہے۔ یہاں پر کم وبیش ارد گرد کی تمام قوموں کے بچے پڑھتے ہیں اور تعداد میں ہر سال اضافہ ہوتا ہے اس سکول کے ساتھ ارد گرد کے لوگ بہت تعاون کرتے ہیں Shahbaz Haider (تبادلۂ خیالشراکتیں) 15:27, 11 فروری 2018 (م ع و)

مولانا حافظ محمد صدیق مدنی[ترمیم]

مولانا حافظ محمد صدیق مدنی پاکستان کے شہر چمن میں سات جنوری 1982 میں پیدا ہوئے. ابتدائ تعلیم مدرسہ بحرالعلوم گھوڑا ہسپتال روڈ چمن اور مدرسہ تعلیم القرآن مال روڈ چمن میں حاصل کیا . بعد 2001 میں گورنمنٹ ماڈل ہائ سکول چمن میں میٹرک تک اور 2003 سے 2005 تک گورنمنٹ ڈگری کالج چمن میں ایف اے اور بی اے تک تعلیم حاصل کیا. بعد ازاں بلوچستان یونیورسٹی کوئٹہ سے 2007 میں ایم اے اسلامیات کو اچھے نمبروں سے پاس کیا. مولانا محمدصدیق مدنی نے دینی علوم کی تکمیل الجامعة الاسلامیة علامہ ٹاون بائ پاس روڈ چمن سے کیا اور دستارفضیلت کی سعادت حاصل کیا. موصوف جمعیت علماء اسلام کے ساتھ وابسطہ رہا ہے وہ تنظیم کے مختلف عہدوں پر بھی فائز رہے Chamanupdates (تبادلۂ خیالشراکتیں) 18:46، 22 اپریل 2018ء (م ع و)

مولانا حافظ محمد صدیق مدنی پاکستان کے شہر چمن میں سات جنوری 1982 میں پیدا ہوئے. ابتدائ تعلیم مدرسہ بحرالعلوم گھوڑا ہسپتال روڈ چمن اور مدرسہ تعلیم القرآن مال روڈ چمن میں حاصل کیا . بعد 2001 میں گورنمنٹ ماڈل ہائ سکول چمن میں میٹرک تک اور 2003 سے 2005 تک گورنمنٹ ڈگری کالج چمن میں ایف اے اور بی اے تک تعلیم حاصل کیا. بعد ازاں بلوچستان یونیورسٹی کوئٹہ سے 2007 میں ایم اے اسلامیات کو اچھے نمبروں سے پاس کیا. مولانا محمدصدیق مدنی نے دینی علوم کی تکمیل الجامعة الاسلامیة علامہ ٹاون بائ پاس روڈ چمن سے کیا اور دستارفضیلت کی سعادت حاصل کیا. موصوف جمعیت علماء اسلام کے ساتھ وابسطہ رہا ہے وہ تنظیم کے مختلف عہدوں پر بھی فائز رہے Chamanupdates (تبادلۂ خیالشراکتیں) 18:46، 22 اپریل 2018ء (م ع و)

برٹرینڈ رسل کا ایک مختصر اقتباس اور اس ممکنہ تفہیم[ترمیم]

برٹرینڈ رسل کا ایک مختصر اقتباس اور اس ممکنہ تفہیم

[[ Men fear thought as they fear nothing else on earth - more than ruin, more even than death. Thought is subversive and revolutionary, destructive and terrible, thought is merciless to privilege, established institutions, and comfortable habits thought is anarchic and lawless, indifferent to authority, careless of the well-tried wisdom of the ages. Thought looks into the pit of hell and is not afraid. Thought is great and swift and free, the light of the world, and the chief glory of man ]]

ترجمہ : {{ انسان دنیا میں سب سے زیادہ سوچ سے خائف رہتا ہے، ہلاکت سے بھی زیادہ، حتیٰ کہ موت سے بھی زیادہ!

سوچ شورش اور انقلاب پسند ہے، تباہ کن اور ہولناک ہے۔ سوچ بے رحم ہے مرتبے پر، معیّن اداروں پر، آرام دہ عادات پر۔ سوچ بے نظم اور بے قانون ہے، حکومت کی ماتحت نہیں، عمر کی مجرب دور اندیشی سے بے پروا ہے۔ سوچ جہنم کی گہرائی میں جھانکتی ہے اور ڈرتی نہیں۔ سوچ عظیم ہے، سریع ہے، آزاد ہے۔ اس جہان کا نور ہے۔ اور انسان کی سب سے بڑی شان ہے۔ }}


برٹرینڈ رسل کا یہ مختصر اقتباس اپنے اندر مکمل کتاب رکھتا ہے، اس کے اگر اجزاء کیے جائیں تو ایک کتاب کے ابواب بن سکتے ہیں، اور ابواب کی بھی درجہ بندی کی جائے تو یہ فصول میں متشکل ہو سکتے ہیں

مذکورہ بالا پیراگراف میں سوچ اور انسان کے قریبی ملائمات، اس کا محور، ممکنہ رسائی، سرعت، آزادی، انقلابی ردّ عَمَل، پرواز، عَمَلی انطباق اور تسخیری زاویوں کا اجمالاً ذکر موجود ہے

سوچ اور انسان کا جو تعلق *رسل* نے بیان کیا، وہ بہت دلچسپ بھی ہے اور فکر انگیز بھی، اس سے جہاں فکر و خیال کی بلندی کا ادراک ہوتا ہے، وہیں پر اس کی ماہیت اور ہیئت کا نقشہ بھی کھنچتا چلا جاتا ہے، *رسل* ایک مفکر تھا، *وہائٹ ہڈ* کے استثناء کے ساتھ *رسل* اپنے عہد کا سب سے بڑا مفکر اور فلسفی تھا، اس کی زندگی تقریباً ایک صدی کو محیط ہے، تمام عمر اس کی سوچ کا مطمحِ نظر دو باتیں رہیں کہ ہمارے علم کا کتنا حصہ یقینی Guaranteed ہے اور کتنا حصہ غیر یقینی Insubstantial،

سوچ کیا ہے؟ بہتر ہے کہ پہلے Mysticism یعنی علم باطن اور Encephalology علم دماغ کا مختصر خاکہ کھینچوں تاکہ سوچ کی تخلیق Creation of imagination میں جو عوامل کارہائے پنہاں سرانجام دیتے ہیں، وہ ظاہر و بارز ہو جائیں!

انسان کی فکری استعداد کا مختلف زاویوں سے مطالعہ علم الباطن Phrenology کہلاتا ہے اور سوچنے اور غور کرنے کی قوت کا اساسی مطالعہ Bumpology کہلاتا ہے ان دونوں کو ملایا جائے تو کوئی سوچ جنم لیتی ہے، اس کا مرکز اور مسکن معلوم ہوتا ہے اور علم الفکر میں سوچ کے مشمولات کا اشتراکی و انسلاکی Annexes تجزیہ کیا جاتا ہے، المختصر! سوچ اور وجدان دونوں کا تعلق انسانی قوتِ متخیلہ Idealities سے براہِ راست ہے، سوچ ایک طاقت ہے، ایک طائر ہے جو لامحدود بلندیوں پر اپنی اڑان بھرتا ہے، ایک توسنِ تیز گام ہے جو عناں تابئ راکب کا محتاج نہیں، رسل نے کہا کہ انسان سوچ سے اس قدر خائف رہتا ہے کہ اس سے بڑھ کر کائنات میں کوئی چیز بھی اسے نہیں ڈراتی، Thought سے ڈرنا کس اعتبار سے ممکن ہے؟ اس پر روشنی ڈالنے سے قبل یہ دیکھنا ہے کہ انسان سوچتا کیوں ہے؟ وہ کیا قوت ہے جو انسان کو فکر کے قعرِ حضیض میں جھونک دیتی ہے اور نتیجۃً انسان اس سے خارجی عوامل کے زیرِ اثر سہم جاتا ہے، وہ کہا کیفیت ہوتی ہے جب سوچ کا کا سمندر ساحلِ وجود سے ہمکنار ہوتا ہے، تو میرے خیال میں سوچ تب جنم لیتی ہے جب انسان پر داخلی یا خارجی کوئی عامل اپنا اثر مرتب کرے، مثلاً ایک آسودہ انسان ہے، سوچ سے تہی دماغ اور فکر سے دست کش، لیکن جونہی اس پر کوئی داخلی امر مثلاً حزن و فرحت یا خوف و خیال، اور خارجی عامل، مثلاً موسم، مناظر، ضرب و حرب اور لمسی محسوسات مسلط ہوتے ہے تو فوراً ایک مثبت یا منفی سوچ پیدا ہوتی ہے جس کے تانے بانے ان عوامل سے جا ملتے ہیں اور ایک سوچ پردۂ باطن پر ظاہر ہوتی ہے

انسان چونکہ فطرتاً ڈرپوک Poltroonish واقع ہوا ہے بلکہ خود قرآن کی سورۂ نساء آیت نمبر 28 میں اس پر شہادت Testification موجود ہے، فرمایا کہ :

  • خُلقَ الإنسانُ ضعیفاً*

انسان کو کمزور پیدا کیا گیا ہے، اور ظاہر ہے کمزوری بے ہمتی کو مستلزم ہے، انسان کی جبلت Connature ہی دراصل اس کا طریقۂ عَمَل ہوتا ہے، انسان سوچ سے اسی لیے ڈرتا ہے کہ وہ کبھی منفی طور پر انسان پر مسلط ہو جاتی ہے سوچ ایک اہم ذہنی عمل ہے. اس سے ہمیں تجربات، منصوبہ، تعلیم، عکاسی اور تخلیق کرنے اور منظم کرنے کے لیے مدد ملتی ہے. لیکن کبھی کبھی ہماری سوچ شاید مختلف وجوہات کی بناء پر غیر جانبدار ہوجائے اور اس کے ساتھ ساتھ ہماری خوبی پر منفی اثر پڑے

انسان موت سے بھی زیادہ ڈرتا ہے : موت کا وقوع بلحاظِ وقت جلد ہوتا ہے اور انسان ایک ہی دفعہ حیات کے زندان سے آزاد ہو کر ایک اور منزل کا راہی بن جاتا ہے، جبکہ سوچ آکاس بیل Aerophyte کی طرح انسان کی روح کا آزار ہو کر تمام عمر یا عمر کا اکثر حصہ اسے مضمحل Shrivelled و ناچار بنا کر رکھ دیتی ہے، گویا کہ : اس خوش نگہ کے عشق سے پرہیز کیجو میرؔ جاتا ہے لے کے جی ہی یہ آزار، دیکھنا!

سوچ فاسد Felonious اور انقلاب پسند ہے : سوچ ارتقاء کا وجود جنم دیتی ہے، اور ظاہر ہے جب ارتقاء اسی کی کوکھ Flank سے نمود پاتا ہے اور عَمَلی تحریکات سے اپنے افقِ مراد کو پہنچتا ہے تو سوچ انقلاب پسند ہوگی ہی، سوچ فَقَط انقلاب پسند ہی نہیں بلکہ اس کی محرِّک بھی ہے، فاسِد اس جِہَت سے کہ ہر ارتقائی عَمَل کہنہ نظریات و عوامل کو یکسر نہ سہی مگر بیشتر روند ڈالتا ہے، اور یہ روندنا ہی دراصل فساد Aberrance ہے اور رسل کا یہ کہنا کہ Thought is Destructive and Terrible تو یہ بھی اسی زُمرے میں شامل ہے جسے میں نے اوپر ارتقاء کے حوالے سے ذکر کیا

سوچ بے رحم Relentless ہے انسان چاہے کسی بھی عہدے کا مالک ہو، آسائشوں کے میناروں پر رقصاں ہو، آسودگی کے محلات میں محوِ استراحت ہو، سرور و فرحت کے بادۂ جانفَزا سے اس کے لب عُنّابی ہو چکے ہوں، فضائے مسرت سے اس کا نَفَس نَفَس عطر کش ہو، لیکن!! کبھی اچانک قلبی، اضطراری اور غیر ارادی سوچ بے محابا در آتی ہے اور وہ بھی یوں کہ انسان مستقلاً اس کے لیے مستعد بھی نہیں ہوتا، اس لیے کہا کہ سوچ ظالم ہے، بے رحم ہے، سفّاک ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کسی بھی عہدے، عمر، عادت اور قانون کی پروا نہیں کرتی، اسی لیے رسل نے سوچ کو Anarchic and Lawless کہا ہے، مزید رسل نے کہا کہ یہ کسی حکومت کے حیطۂ حکمرانی سے بھی ماوراء ہے Indifferent to Authority کا یہی مفہوم بنتا ہے،

آزمودہ دور اندیشی سے بے پروا ہے : سوچ کا معیار اور انفرادیت عمر کے ساتھ ساتھ تبدیل ہو جاتی ہے، یہ بحث بھی ایک فلسفیانہ نکتے کی مرہونِ منت ہے جسے فلسفۂ فکر کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا، میر تقی میر کہتے ہیں کہ : شیب میں فائدہ تامل کا سوچنا تب تھا جب جوانی تھی اس شعر میں وہی بات مذکور ہے جو ابھی میں نے بیان کی، مزید ایک اور جگہ کہتے ہیں کہ : اب کیا کریں کہ آیا آنکھوں میں جی ہمارا افسوس پہلے ہم نے ٹک سوچ کر نہ دیکھا نیز غالب کا کہنا ہے کہ : مجھے معلوم ہے جو تو نے میرے حق میں سوچا ہے کہیں ہو جائے جلد اے گردشِ گردونِ دوں، وہ بھی! مذکورہ بالا تینوں اشعار میں سوچ کا ربط کسی نہ کسی زمانے کے ساتھ جُڑا ہوا ضرور ہے

رسل کا یہ کہنا کہ Thought looks into the pit of hell and is not afraid، بہت اہمیت کا حامِل ہے، سوچ جہنُّم میں دیکھتی ہے لیکن کسی طرح کا ڈر محسوس نہیں کرتی، ‌سوچ کا دیکھنا دراصل سوچنا ہی ہے، جہنُّم مہالک و مضرات سے استعارہ بھی ہو سکتی ہے، جیسے راقم کا شعر ہے کہ : دنیا جہنم کرنے والے خُلدِ بریں کے ہیں سب خواہاں یہاں جہنُّم سے مراد دنیا میں دنگا فساد برپا کرنا ہے، ایسے ہی رسل کے مذکورہ بالا اقتباس میں بھی Pit of hell کا معنیٰ یہی ہے، اس کے علاوہ Thought is not afraid کا معنیٰ بھی واضح ہے

سوچ عظیم ہے، سریع ہے، آزاد ہے : کسی بند کی پروا نہیں کرتی، ایک لمحے میں پائے سَمَک سے بامِ فَلَک تک رسائی پا لیتی ہے اور اگلے ایک لمحے میں وہاں سے وراء اور پھر وراء الوراء پہنچ جاتی ہے، سوچ کی سریع السیر ایسی کہ مکاں کیا، لامکاں پر بھی حکومت کرتی ہے، آزادی ایسی کہ دنیا کی کوئی طاقت اسے محکوم نہیں کر سکتی، اس جہان کا نور ہے اور انسان کی سب سے بڑی شان ہے، یعنی متاع ہے، اس کی عظمت ایسی کہ بقولِ پیر نصیر الدین شاہ گیلانی : شاعر و فلسفی و شاہ و حکیم و قاضی حافظ و محتسب و میر و خطیب و قاری مطرب و ساقی و سلطان و گدا و صوفی مفتی و حاکم و استاد و ادیب و ہادی سب تیرے لطف و عنایات سے فرزانے ہیں​ تو اگر اِن سے بچھڑ جائے ،یہ دیوانے ہیں

اور

غالب و مومن و فردوسی و میر و سعدی حافظ و رومی و عطار و جنید و شبلی خسرو جامی و خیام و انیس و عرفی آدم و یونس و یحییٰ و نبی اور ولی اِ ن کی گفتار کی پرواز کی سرحد تو ہے غایتِ جنبشِ لب ہائے محمد تو ہے(ﷺ) غلام مصطفیٰ دائم (تبادلۂ خیالشراکتیں) 18:10، 23 نومبر 2018ء (م ع و)

اس تحریر کو لازمی پڑھیں غلام مصطفیٰ دائم (تبادلۂ خیالشراکتیں) 18:10، 23 نومبر 2018ء (م ع و)

اس تحریر کو لازمی پڑھیں غلام مصطفیٰ دائم (تبادلۂ خیالشراکتیں) 18:11، 23 نومبر 2018ء (م ع و)

شاعری نفسیاتی امراض کا بہترین علاج[ترمیم]

شاعری --- نفسیاتی امراض کا بہترین علاج

تحریر : غلام مصطفیٰ دائم اعوان



قبیلہ بنو طے کے ایک شاعر نے کہا تھا کہ : قَد کنتُ اجریه علیٰ وجھهٖ و اَکثرُ الصّدَّ عَنِ الجاھلٖ

یعنی میں شعر کو اس کے مناسب طریقہ پر جاری رکھتا تھا اور اکثر جاہل سے اِعراض کر لیا کرتا

اس شعر کا مفہوم یہ ہے کہ نہ میں نے کسی کی ہجو گوئی میں وقت کا ضیاع کیا اور نہ ہی اپنی مذمّت کروائی بلکہ شعر گوئی کے فن کو اس کے احسن طریقے پر ہی جاری رکھا

یہاں سے واضح ہوتا ہے کہ شعر دو طرح کا ہوتا ہے مناسب اور غیر مناسب

1-- شاعر کی سوچ جب ادراک کی سرحد پار کر کے تخیّلات کے بحرِ بیکراں سے گہر ہائے تابدار چن کر کلامِ منظوم میں پرولی لی جاتی ہے تو نظمیہ یا غزلیہ ایک شاہکار تخلیق پاتا ہے .. اگر اس میں محبّت و امن ، یکجہتی و یگانگت اور صلح و آشتی کا مضمون ہو تو شاعر کی نفسیات کے ساتھ ساتھ قاری یا سامِع کی طبیعت پر بھی خوشگوار اثر مرتّب ہوتا ہے

2-- اور اگر وہ مضامین ہجویہ ہوں اور نفرت و عداوت کی تُخم ریزی کا باعث ہوں تو وہ نہ صِرف دشمنی کو جنم دیتے ہیں بلکہ شاعِر کی طبعی کیفیت میں بھی ایک کرب اور مسلسل اضطرار پیدا کر لیتے ہیں اور اس طرح ایک نا سازگار ماحول اور بد مزہ فضا قائم ہو جاتی ہے جس میں سکون و اطمینان کی طنابیں اُکھڑتے زیادہ وقت نہیں لگتا

شاعری کے مثبت پہلُو کے حوالے سے دیکھا جائے تو دنیا میں اسے اب انسان کی ذہنی بالیدگی ، نشو و نما اور تعمیرِ ذات کے لیے بطور علاج (Therapy) استعمال کیا جاتا ہے اس سلسلے میں دنیا کے کئی ممالک میں پوئٹری تھراپی کے مراکز قائم ہو رہے ہیں .. ان میں سب سے سرگرم تنظیم (NAPT) ہے جو کہ امریکہ کے ایک شہر میں قائم کی گئی ہے ... اس تنظیم میں ہر ملک و زبان کے شعراء رکن بن رہے ہیں اور شاعری کو بطورِ علاج استعمال کرنے کا طریقہ کار سیکھ اور سمجھ رہے ہیں جس کا مقصد شاعِرانہ کاوشوں سے انسانی ذہن کو اعصابی تناؤ اور نفسیاتی الجھنوں جیسے مسائل سے نجات دلانا ہے

اس تنظیم میں ویسے تو ہر صنف کے لکھاریوں کو رُکنیت دی جاتی ہے مگر زیادہ زور شعراء پر ہے

اس مشن کے حوالے سے چند نام مشہور ہیں : 1 -- ایرانی نژاد امریکی شاعرہ بہارہ آمدی 2 -- مشہور اداکار اور شاعرہ سمانتھ مورٹن 3 -- اور پوئٹری تھراپی کے ٹیچر جان فاکس

بہاہ آمدی ایک انٹرویو میں کہتی ہیں کہ : "پوئٹری تھراپی آج کی ایک حقیقت ہے .. اس میں شاعری اور الفاظ کے ساتھ مدھم موسیقی کا امتزاج استعمال کیا جاتا ہے .. جیسے آرٹ تھراپی میں رنگوں اور برش کا استعمال کر کے متاثرہ شخص کے احساسات کو جگایا اور تبدیل کیا جاتا ہے اسی طرح پوئٹری تھراپی میں جمالیاتی احساسات کو کام میں لاتے ہوئے علاج کیا جاتا ہے .. شاعری تھراپی کے ذریعے کسی بھی عمر کے انسان کی ذہنی صورتِ حال بہتر بنائی جا سکتی ہے یا اس حوالے سے ہم اس کی مدد کر سکتے ہیں"

شاعری کے مسیحائی پہلو سے متعلق تعلیم دینے والے استاد جان فاکس ایک مشہور پوئٹری تھراپسٹ ہیں ، اپنی ایک کتاب میں رقم طراز ہیں کہ : "شاعری میرے نزدیک لوگوں کی زندگی میں آسانی لانے ، انھیں سکون پہنچانے اور ذہنی و نفسیاتی عوارض سے نجات دلانے کے لیے بہت اہم ہے .. اصل مسئلہ یہ ہے کہ شاعری کا یہ استعمال کرنے والا خود جانتا ہو کہ کون سے الفاظ ، کون سی صنف سخن ، کن حالات میں کار آمد ثابت ہو سکتی ہے اور کس آدمی کے معاملے میں کس طرح کی تخلیقی شاعری استعمال کرنا چاہیے؟ اس کے لیے میں ایک مشہور محاورے میں تھوڑی تبدیلی کر کے اسے یوں پیش کرتا ہوں : Poetry is joy for everyone

اور یہ شاعرانہ لطف اور حَظ ہی ہے جو ہمیں ڈپریشن ، اعصابى تناؤ اور دیگر امراض سے باہر نکلنے میں مدد دیتا ہے"

نوٹ : مضمون کے دونوں حوالے روزنامہ 92 ، سنڈے میگزین 11 فروری 2018 صفحہ 4 اور 5 سے ماخوذ ہیں غلام مصطفیٰ دائم (تبادلۂ خیالشراکتیں) 18:16، 23 نومبر 2018ء (م ع و)

محمد معروف صدیقی چکیاہ مانسہرہ ہزارہ پاکستان[ترمیم]

محمد معروف صدیقی چکیاہ مانسہرہ ہزارہ پاکستان کچھ میرے قلم سے (تبادلۂ خیالشراکتیں) 17:20، 18 دسمبر 2018ء (م ع و)

Edit request on 20 فروری 2019[ترمیم]

تسامح کی تعریف معنی موضوع لہ کو غیر موضوع لہ میں استعمال کرنا بغیر کسی علاقے کے

تلاش انجن کی اصلاح Search Engine Optimization (SEO)[ترمیم]

تلاش انجن کی اصلاح (SEO)[1] ویب سائٹ کی نمائش کو متاثر کرنے یا تلاش کے انجن میں ایک ویب صفحہ پر اثر انداز کرنے اور سب سے اوپر تلاش پر نتیجہ فراہم کرنے کا عمل ہے. SEO کے استعمال سے ہم تلاش کے انجن کے صفحے پر اعلی درجہ بندی حاصل کرسکتے ہیں اور اس سے زیادہ کثرت سے ایک سائٹ ظاہر ہوتی ہے تلاش کے نتائج کی فہرست میں، مزید سیاحوں کو یہ تلاش کے انجن کے صارفین سے مل جائے گا. بہت سے احترام میں ویب سائٹس کے لئے یہ صرف معیار کا کنٹرول ہے. یہ کہا گیا ہے کہ، اگر کسی بھی ایسی ایسی ایسی صنعت موجود تھی جو بیرونی SEO کی طرف سے سمجھا جاتا تھا

ویب سائٹ کو SEO  کی ضرورت کیوں ہے؟

ویب ٹریفک کی اکثریت بڑی تجارتی تلاش کے انجن، گوگل، بنگ، اور یاہو کی جانب سے چلائی جاتی ہے. اگرچہ سماجی میڈیا اور ٹریفک کی دوسری اقسام آپ کی ویب سائٹ پر دورے پیدا کرسکتے ہیں، اگرچہ اکثر انجن صارفین کے لئے تلاش کے انجن نیوی گیشن کا بنیادی طریقہ ہے. یہ سچ ہے کہ آیا آپ کی سائٹ مواد، خدمات، مصنوعات، معلومات، یا صرف کسی اور کے بارے میں فراہم کرتی ہے. تلاش انجن منفرد ہیں کہ وہ ھدف شدہ ٹریفک فراہم کرتے ہیں جن لوگوں نے آپ کی پیشکش کی ہے وہ لوگ. تلاش کے انجن ایسے سڑک ہیں جو ایسا کرتے ہیں. اگر تلاش انجن آپ کی سائٹ نہیں مل سکی، یا اپنے مواد کو اپنے ڈیٹا بیس میں شامل کر سکیں تو، آپ کو اپنی ویب سائٹ پر ٹریفک کو چلانے کے ناقابل یقین مواقع پر یاد آتی ہے. تلاش کے سوالات - وہ الفاظ جو صارف تلاش باکس میں ٹائپ کرتے ہیں - غیر معمولی قیمت رکھتے ہیں. تجربے سے پتہ چلتا ہے کہ سرچ انجن ٹریفک ایک تنظیم کی کامیابی (یا توڑ) بنا سکتا ہے. ایک ویب سائٹ پر ھدف شدہ ٹریفک کی اشاعت، آمدنی، اور نمائش فراہم کی جاسکتی ہے، جیسے مارکیٹنگ کا کوئی چینل نہیں. SEO میں سرمایہ کاری دیگر اقسام کے مارکیٹنگ اور فروغ کے مقابلے میں واپسی کی ایک غیر معمولی شرح ہوسکتی ہے.

تلاش کے انجن SEO کے بغیر سائٹ کو کیوں معلوم نہیں کر سکتا؟


تلاش انجن ہوشیار ہیں، لیکن وہ اب بھی مدد کی ضرورت ہے. اہم انجن ہمیشہ ویب کی کرال کرنے کے لئے اپنی ٹیکنالوجی کو بہتر بنانے کے لئے کام کر رہے ہیں اور بہتر نتائج کو صارفین کو واپس لے جاتے ہیں. تاہم، تلاش کے انجن کیسے کام کرسکتے ہیں اس کی حد ہے. جبکہ صحیح SEO آپ کو ہزاروں زائرین اور توجہ مرکوز کر سکتے ہیں، غلط حرکتیں آپ کی ویب سائٹ کو تلاش کے نتائج میں گہری چھپا سکتے ہیں یا دفن کرسکتے ہیں جہاں کی نمائش کم از کم ہے. تلاش انجن کے لئے دستیاب مواد بنانے کے علاوہ SEO بھی درجہ بندی بڑھانے میں مدد ملتی ہے

مواد کو رکھا جائے گا جہاں تلاش کرنے والے کو آسانی سے اسے تلاش کریں گے. انٹرنیٹ تیزی سے مقابلہ کیا جا رہا ہے، اور SEO انجام دینے والے ان کمپنیوں کو زائرین میں فیصلہ کا فائدہ ہوگا

  1. اقسام کی SEO: جیسا کہ تلاش کے انجن کی اصلاح کے اقسام کے رنگوں کی تجویز ہے، سفید ٹوپی اور سیاہ ٹوپی کی تلاش کے انجن کے اصلاح کے نقطہ نظر اور طویل مدتی نتائج میں بہت بڑا فرق موجود ہیں. اگرچہ SEO کے دونوں قسم کے ان کے حامی ہیں، طویل مدتی، مستحکم، اور پائیدار مقاصد کے ساتھ زیادہ سے زیادہ کمپنیوں / ویب سائٹس کو سیاہ کالر کی قسم سے دور رہنا ہوگا.
   وائٹ ٹوپی SEO: کچھ سفید ٹوپی SEO کی تکنیک میں شامل ہے: اعلی معیار کے مواد کی ترقی، ویب سائٹ ایچ ٹی ایم ایل کی اصلاح اور دوبارہ تعمیر، اعلی معیار کے مواد اور دستی تحقیق اور رسائی کی طرف سے حمایت کی لنک حصول مہموں. وائٹ ٹوپی SEO ایک ویب سائٹ کے تلاش کے انجن کی درجہ بندی کو بہتر بنانے کے لئے تکنیک اور طریقوں کا استعمال کرتا ہے جو تلاش انجن (بنیادی طور پر Google) ہدایات کے افضل نہیں چلتا ہے.
   بلیک ٹوپی SEO: کچھ سیاہ ٹوپی SEO کی تکنیک میں شامل ہیں: لنکس سپیم، مطلوبہ الفاظ بھرنے، چھونے، پوشیدہ متن، اور پوشیدہ لنکس. بلیک ٹوپی SEO ایک ویب سائٹ کے لئے اعلی درجہ بندی حاصل کرنے کے لئے تلاش کے انجن الگورتھم میں کمزوریوں کا استحصال کرتا ہے. اس طرح کی تکنیک اور طریقوں کے تلاش کے انجن کی ہدایات کے ساتھ براہ راست تنازع میں ہیں.

Shoeb S Shaikh (تبادلۂ خیالشراکتیں)

[2]

قبرستان دل[ترمیم]

ساون کی رت آئی اور آسمان نے بادلوں کی ردا اوڑ ھ لی ۔ہواکی خنکی نے پیاسی زمین کو پیام زندگی بھیجا اورابر رحمت نے برسنا شروع کر دیا۔تپتی ہوئی دھرتی کا آنچل تر ہو گیا۔نرم زمین کا سینہ شق کر کے کونپلیں پھوٹنے لگیں ۔ پھریہ مٹیالا آنچل سبز ہو گیا۔مردہ زمین زندہ ہوگئی ۔ وہ کہتا ہے کہ میں ایسے ہی ایک روز ہر مردہ کو زندہ کر دوں گا۔ پھرہرنفس کے ایک ایک لمحہ زندگی کا حساب کروں گا۔وہ غلط نہیں کہتا۔ جو مردہ زمین کو زندہ کرسکتا ہے ، وہ مردہ انسانوں کو بھی اٹھا سکتا ہے ۔جو بارش کے ہر قطرہ اور درخت کے ہر پتے کو گن سکتا ہے ، وہ زندگی کے ہر لمحہ کا حساب بھی کرسکتا ہے ۔ بندے نے سر سبز زمین کو دیکھا، نظر اٹھائی اور کہا، ’’ تجھے معلوم ہے کہ مردے صرف زمین ہی میں دفن نہیں ہوتے ۔ ایک قبرستان اور بھی ہوتا ہے ۔ یہ خواہشوں کا قبرستان ہے جو بندۂمومن کے سینے میں جنم لیتا ہے ۔ اس قبرستان میں کتنی امنگیں ، کتنی خواہشیں ، کتنے خواب اور کتنی رنگینیاں صرف تیرے لیے دفن کی جاتی ہیں ۔کیا تو اُس دن اِن کو بھی زندہ کرے گا؟‘‘ ’’تمھارے سینے کی ہر خلش کو ہم کھینچ لیں گے ‘‘(الاعراف٤٣:٧)۔ آسمان کی جگہ قرآن نے جواب دیا۔ کیونکہ اب قیامت تک قرآن ہی نے بولنا ہے ۔شیطان نے دیکھا کہ بات بن رہی ہے تو وہ بات بگاڑ نے آ گیا۔سوالات کا ایک انبار اس کے سامنے رکھ دیا۔بندہ پھر بندہ ہے ۔ سوالات کے طوفان میں اس کی کشتی ڈولنے لگی۔وہ سوچنے لگا کہ اس کی جنت خدا بنائے گا۔ بہت خوب بنائے گا، مگر اپنی خواہش اور اپنی مرضی سے بنائے گا۔ تو پھر میری مرضی اور میری خواہش کا کیا ہو گا۔ دیر تک جواب نہ ملا تو خاموشی سے سر جھکا کر آگے بڑ ھ گیا۔ ’’مگر اسی لمحے ایک جھونکا آیا اور اپنے نرم لمس میں یہ پیغام چھوڑ گیا ۔ جنت ہماری ہو گی ، مگر مرضی تمھاری ہو گی۔ ہمیں اپنے بندوں کو نہ کہنے کی عادت نہیں ۔ اور ہماری راہ میں کسی اگر اور مگر کی دیوار بھی نہیں آ سکتی ۔وہاں جو تمھارا جی چاہے گا، ملے گا اور جو مانگو گے ، پاؤ گے ‘‘۔(٢٩:٨٩,٣٢:٤١)۔

بندے نے سنا اوردل کے قبرستان میں مزید قبریں بنانے کا حوصلہ پیدا ہو گیا۔ Usmanchoudhary780 (تبادلۂ خیالشراکتیں) 14:31، 24 اپریل 2019ء (م ع و)

  1. https://en.wikipedia.org/wiki/Search_engine_optimization
  2. https://cybereak.com/blog/marketing/seo/2019/01/12/seo.html