جل تھلی انسان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
جل تھلی انسان
مصنف الیگزانڈر بیلایوف
اصل عنوان Человек-амфибия
زبان روسی
صنف سائنسی مفروضہ
تاریخ اشاعت
1928

جل تھلی انسان، سائنسی مفروضہ طرز کا ایک ناول ہے جو متحدہ سوویت کے مصنف الیگزانڈر بیلایوف کی تخلیق ہے، یہ 1928ء میں شائع ہوا

کہانی[ترمیم]

ارجنٹائن کاسائنسدان، ڈاکٹرسالواتور، اپنے بیٹے اختیاندر کی جان بچانے کے لیے ایک آپریشن کے ذریعہ شارک مچھلی کے گلپھڑوں کو  اس کے نظام تنفس میں جوڑ دیتا ہے۔ آپریشن تو کامیاب رہتا ہے، مگر اختیاندر کی مجبوری بن جاتی ہے کہ اس کو ساری زندگی کے لیے سمندری ماحول سے دور کی دنیا سے ناتا توڑنا پڑتا ہے۔ اس بات کا علم پیڈرو سوریتا نامی مقامی موتی اکٹھے کرنے والے کو ہوجاتا ہے۔ جس سے وہ اختیاندر کی غوطہ لگانے کی غیر معمولی صلاحیت سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا ہے۔

بیلایوف، کی دیگر کہانیوں کی طرح یہ ناول بھی، شدید ماحول میں جسمانی بقاءاور سائنسی تجربات میں اخلاقی قیود کے گرد گھومتا ہے اور دنیا کے غریبوں کی حالت زار کو بہتر بنانے کے سوشلسٹ خیالات کی ترجمانی کرتا ہے۔

دیگر ابلاغ[ترمیم]

1962ء میں ولادیمر شیبوتاریوف نے اس ناول پر مبنی فلم کی ھدایتکاری سر انجام دی فلم کا نام "شیلویک ایمفبیہ "ناول کے عنوان سے ہی تھا۔ یہ متحدہ سویت کی مقبول ترین فلم بن گئی تھی، کہتے ہیں کہ اس فلم کی 6 کروڑ 50 لاکھ ٹکٹیں فروخت ہوئیں۔ اس کی فلمبندی باکو اور کریمیہ کے ساحلوں پر کی گئی تھی۔ اس میں گانے اور رقص بھی شامل کیا گیا تھا۔ اس فلم میں شامل ایک گانا "سمندری شیطان" 1990 ء کی دہائی تک روس میں زبان زد عام رہا۔

2004ء میں روسی ٹیلی ویژن قسط وار سریل "سمندری شیطان" نشر کی گئی،  جو  کم و بیش  اسی ناول پر مبنی تھی۔

تراجم[ترمیم]

  • غیر ملکی زبانوں کااشاعت گھر، ماسکو
  • اردو زبان میں ڈاکٹر نجم السحر بٹ، لاہور

ثقافتی اثرات[ترمیم]

  • "اختیاند رپراجیکٹ" زیر آب مسکن
  • "ڈافنیلا اختیاندری" کسول
  • "کلوروفتھالمس اختیاندری" مچھلی

اور دیکھیں[ترمیم]

  • آبی انسان عرف اکواء مین
  • 1928ء میں سائنس فکشن

حوالہ جات[ترمیم]