جیالے

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

جیالا کی اصطلاح پیپلز پارٹی کے پرجوش حامیوں کے لیے استعمال کی جاتی ہے، جو "مذہبی" جنون کی حد تک پارٹی یا اس کے سربراہ کے حمایتی ہوں۔ چونکہ اس پارٹی کے بانی ذولفقار علی بھٹو نے اشتراکیت کے نظریات کو پارٹی کی بنیاد بنایا تھا، اس لیے یہ "جنونی" وابستگی سمجھ میں آتی ہے۔ مخالفین اس اصطلاح کو تضحیک کے طور بھی پارٹی کے حامیوں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ مگر یہ کہا جا سکتا ہے کہ پارٹی کے حامی اس اصطلاح کو اپنے لیے باعث افتخار سمجھتے ہیں۔ جیالا صرف چھوٹے درجے کے ارکان کے لیے مخصوص نہیں، بلکہ سرکردہ اشخاص بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر فاروق احمد خان لغاری جب اس پارٹی سے تعلق رکھتے تھے، تو بینظیر بھٹو کے جیالے کہے جاتے تھے۔ پیپلزبارٹی کے دورِ اقتدار میں سرکاری املاک اور اداروں کی لوٹ مار میں شریک جماعت کے خاص ارکان کو بھی 'جیالے' کہا جاتا ہے۔[1]

جیالوں کے کرتوت[ترمیم]

  • پیپلز پارٹی کی 2008ء انتخابات میں فتح میں مست جیالوں نے 7 اپریل 2008ء کو سندھ اسمبلی کے افتتاحی اجلاس میں سابق وزیر اعلی ارباب رحیم پر تشدد کیا اور اسمبلی کے اندر شرمناک نعرے لگائے۔[2]
  • نئ قومی اسمبلی کے اجلاس میں بھی جیالے گیلری میں گھس آئے اور نعرے بازی کی۔[3]
  • 2008 میں پاکستان ٹیلیوژن کی عمارت میں مقتول بینظیر بھٹو کی تصاویر لگانے پر ایک کڑور تیس لاکھ روپے ضائع کیے گئے۔ جیالوں کو اصرار ہے کہ ٹیلیوژن بینظیر کے نام کے ساتھ "شہید" کا سابقہ اور لاحقہ استعمال کیا کرے۔[4]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Jialas now out to ruin PSO"۔ روزنامہ نیشن۔ 14 جنوری 2010ء۔ Unknown parameter |seperator= ignored (معاونت)
  2. روزنامہ نیشن، 8 اپریل 2008ء، "Arbab Rahim given shoe-lashing"
  3. نیشن، 25 مارچ 2008ء، "Bridling the unbridled"
  4. روزنامہ ایکسپریس، لاہور، 25 جولائ 2008ء، "ہارون رشید:ناتمام:کیا یہ جمہوریت ہے؟"