حدائق الحنفیہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

حدائق الحنفیہ مولانا فقیر محمد جہلمی کی تصانیف سے ایک تصنیف ہے۔

  • یہ کتاب سب سے زیادہ مشہور و مقبول ہوئی۔ غیر مقلدین نے علمائے کرام خصوصاً فقہائے حنفیہ بالخصوص امام اعظم کی حد درجہ تحقیر و توہین کرتے تھے چنانچہ مولانا فقیر محمدجہلمی نے علمائے کرام کے تراجم و حالات لکھنے کا قصد کیا اور تین سال کی کامل محنت سے 1297ھ میں مکمل کیا اور ’’حدائق الحنفیہ‘‘ نام رکھا، کتاب کو تیرہ(13) حدائق میں تقسیم کیا گیا ہے۔
  • مقدمہ کتاب میں فقہ و فقہا کرام کی فضیلت اور ان کے طبقات کا بیان ہے۔ حدیقۂ اول چار خیابان پر مشتمل ہے، پہلے خیابان میں امام اعظم کے حالات، دوسرے میں آپ کا رسول اللہ ﷺ کی بشارت ہونا، تیسرے میں علمائے کرام کے اقوال سے امام اعظم کے مناقب اور چوتھے میں معترضین کے اعتراضات ومطاعن کا جواب دیا گیا ہے۔
  • حدیقۂ دوم میں دوسری صدی کے فقہا و علما کے حالات، حدیقۂ سوم میں تیسری صدی اور یونہی بالترتیب حدیقۂ سیزدہم میں تیرہویں صدی کے فقہا و علما کے حالات درج ہیں ۔
  • مطبع نامی نول کشور سے شائع ہوئی۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]