حکیم موسیٰ امرتسری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
حکیم موسیٰ امرتسری
ادیب
پیدائشی ناممحمد موسیٰ
عرفیتحکیم اہلسنت
قلمی نامحکیم موسیٰ امرتسری
ولادت27، اگست 1927ء امرتسر
ابتداامرتسر، بھارت
وفات17،نومبر1999ء لاہور (پنجاب)
اصناف ادبشاعری
ذیلی اصنافغزل، نعت
ویب سائٹ/ آفیشل ویب سائٹ

حکیم محمد موسیٰ چشتی امرتسری انہیں حکیم اہلسنت کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔

نام[ترمیم]

اولاً نام غلام مصطفے ٰ ثانیا محمد موسیٰ تھا ان کی قوم جاٹ مان تھی۔ایک علمی اور اور طبیب خاندان سے تھے

ولادت[ترمیم]

حکیم موسی امرتسری کی پیدائش 27 اگست 1927ء بمطابق 28 صفر 1346ھ امرتسرمشرقی پنجاب ہندوستان میں ہوئی ان کے والد کا نام حکیم فقیر محمد چشتی امرتسری تھا

القاب[ترمیم]

محقق عصر، محسن ملت، صوفی بزرگ طبیب کامل حکیم اہل سنت کا لقب ضیاءالدین مدنی نے عطا کیا

تعلیم[ترمیم]

آپ نے قرآن مجید ناظرہ قاری کریم بخش سے پڑھا۔ کتب فارسی مفتی عبدالرحمان ہزاروی مدرس مدرسہ نعمانیہ امرتسر سے پڑھیں۔ نیز علامہ مولانا محمد عالم آسی سے علمی استفادہ کیا۔ کتب طب اور مثنوی مولانا رومی کے پہلے دو دفتر والد گرامی سے پڑھے۔ علم ریاضی کی باقاعدہ تحصیل کی اور بھی کھاتے کا حساب محمد شفیع پاندے سے حاصل کیا۔

بیعت و خلافت[ترمیم]

روحانی علم حاصل کرنے کے لیے بیعت و خلافت سلسلہ چشتیہ نظامیہ میں خواجہ علی محمد چشتی سجادہ نشین بسی شریف (ضلع ہوشیار پور‘ بھارت) سے کی ۔ یہ سلسلہ عالیہ چشتیہ نظامیہ نصیریہ فخریہ ہے۔ آپ کے والد گرامی بھی قبلہ میاں صاحب سے بیعت تھے۔ گویا آپ اپنے والد گرامی کے روحانی پیر بھائی بھی ہیں۔

طب و حکمت[ترمیم]

12/ اگست 1947ء میں امر تسر سے پاکستان تشریف لائے، چھ ماہ تک سر گودھا میں اور پھر اپنے والد گرامی کی طلب پر لاہور چلے گئے۔ لاہور پہنچ کر والد صاحب کے ساتھ لوہاری دروازہ کے باہر مطب شروع کیا، 1949ء میں رام گلی میں علاحدہ مطب کیا۔ آپ 55ریلوے روڈ لاہور میں مطب چلاتے رہے۔ حکیم اہلِ سنت نے زندگی بھر طبابت کی۔یہی ان کا پاکیزہ ذریعہ معاش تھا۔ طبابت کرتے تھے مگر اخلاص پیشہ کہلاتے تھے، وہ کار مطب عبادت سمجھ کر انجام دیتے تھے۔ وہ حسن کے پیکر اور خدمت خلق کے خوگر تھے، تلاش رزق سے زیادہ رضائے مولٰی کے متلاشی رہتے تھے۔ خاندانی طبیب تھے فن طب میں اعلٰی مقام رکھتے تھے، وہ سچ مچ مسیحائے قوم تھے ان کا مطب جسمانی اور روحانی بیماریوں کا شفا خانہ اور دین و دانش کا مرکز ِفیضان تھا۔ان کا مطب طبی مرکز سے زیادہ علم و ادب اور تہذیب و ثقافت کا مرکز ہے۔

بانی[ترمیم]

مجلس ضیائی اور مجلس رضا کے بانی ارکان میں شامل ہیں 1968ءمیں ’’مرکزی مجلس رضا‘‘ کی بنیاد رکھ دی۔ جس کا بنیادی مقصد امام احمد رضا اور فکر رضا کا تعارف تھا، مسلک ِاعلٰی حضرت کو عام کرنا تھا۔

تصنیفات[ترمیم]

آپ نہایت بلند پایہ ادیب اور علم و حکمت کا قیمتی ذخیرہ ہیں۔ آپ کی تصانیف میں

  1. تذکرہ علما امرتسر
  2. مولانا غلام محمد ترنم
  3. مولانا نور احمد امرتسری
  4. ذکر مغفور (تذکرہ سید مغفور القادری)
  5. اذکار جمیل (تذکرہ سید برکت علی شاہ خلیجانوی) بہت ہی مشہور ہوئیں۔
  • آپ نے کئی علمی کتابوں پر زور دار دیبا چے لکھے۔ مقدمہ ’’کشف المحجوب‘‘ مقدمہ ’’مکتوبات مجدد الف ثانی ‘‘ اور مقدمہ ’’عبادالرحمٰن‘‘ اہل علم کی توجہ کا مرکز بن گئے۔۔ [1]

وفات[ترمیم]

حکیم موسی کی وفات 17 نومبر 1999ء 8شعبان 1420ھ لاہور میں ہوئی۔ مقابر چشتیاں، قبرستان نتھے شاہ، جوار میاں میر قادری میں مدفون ہیں۔[2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ماہنامہ جہان رضا، مئی 1993ء، ص 14۔
  2. ماہنامہ بہار اسلام شعبان المعظم 1433ھ انجمن بہار اسلام لاہور