"توہین رسالت قانون (معترضین کے دلائل)" کے نسخوں کے درمیان فرق

Jump to navigation Jump to search
جبکہ فقہائے احناف کے بیان کردہ طریقے کے مطابق اگر آرڈیننس میں "عفو و درگذر اور توبہ" کا دروازہ کھلا ہو، اور پہلی مرتبہ میں ہی "فوراً" ہی قتل نہ کر دیا جائے، تو پھر یہ سقم خود بخود دور ہو جائیں گے اور کوئی شریر انسان انکو اپنی ذاتی دشمنیاں نکالنے کے لیے ہرگز استعمال نہیں کر سکے گا۔ نہ کسی بے گناہ کو قتل کیا جائے گا، اور نہ محمد رحمت اللعالمین (ص) کا دین بدنام ہو گا۔
بہت ضروری ہے کہ فقہائے احناف کی ان پیش کردہ صحیح تعبیرات کو موجودہ آرڈیننس کا حصہ بنایا جائے تاکہ موجودہ دور کے علماء حضرات نے جو غلط تعبیرات عدالتوں کے حوالے کی ہوئی ہیں، انکا خاتمہ ہو سکے اور کسی بے گناہ کو سزا نہ ہونے پائے۔
 
==وہ واقعات جن میں قتل کی وجہ صرف گستاخی رسول نہ تھی==
 
ان واقعات پر نظر ڈالیں تو اس سے یہ سبق ملے گا کہ:۔
 
# ان کفار کے قتل کی بنیادی وجہ ایک آدھ مرتبہ کی جانے والی گستاخی نہ تھی۔
# بلکہ وہ اس سے زبانی کلامی "ہجو" سے بڑھ کر "عملی" طور پر مسلمانوں کے لیے خطرناک سازشیں کر رہے تھے اور دیگر کفار اور قبائل کو مسلمانوں کے خلاف اکساتے تھے۔
 
بہت اہم سوال یہ ہے کہ مکہ اور طائف اور خیبر وغیرہ میں ہزاروں نہیں تب بھی سینکڑوں ایسے کفار تھے جنہوں نے رسول اللہ (ص) کی معاذ اللہ ہجو کی اور جواب میں شاعر رسول حسان بن ثابت بھی اشعار کے ذریعے ان لوگوں کو جواب دیتے تھے۔ مگر جب خیبر و مکہ و طائف وغیرہ فتح ہوئے تو رسول اللہ (ص) نے ایسے تمام کے تمام لوگوں کے قتل عام کا حکم نہیں دیا کہ جنہوں نے انکی ہجو کی تھی، بلکہ چُن کر کُل پانچ افراد کو قتل کیا گیا۔
 
==کعب بن اشرف یہودی کا واقعہ ==
144

ترامیم

فہرست رہنمائی