Jump to content

"توہین رسالت قانون (معترضین کے دلائل)" کے نسخوں کے درمیان فرق

 
2۔ اس آرڈیننس کے تحت عفو و درگذر اور توبہ کی کوئی گنجائش نہیں۔ اگر کسی سے بھولے سے بھی کوئی غلطی ہو گئی ہے تو موجودہ آرڈیننس کے تحت آپ کو توبہ کا کوئی موقع نہیں ملے گا اور ہر حال میں قتل کی سزا ملے گی۔
 
== عذر: رسول (ص) کے علاوہ کوئی معافی نہیں دے سکتا ==
 
رسول اللہ (ص) کی ثابت شدہ سنت سے یہ بات بالکل عیاں ہے کہ آپ نے اپنی توہین کرنے والوں کو معاف کیا اور خیبر، مکہ و طائف وغیرہ فتح ہو جانے کے باوجود ان تمام لوگوں کو قتل نہیں کیا جو آپ (ص) کی شان میں گستاخی کیا کرتے تھے۔
 
اس پر یہ عذر پیش کیا جاتا ہے کہ رسول اللہ (ص) کو حق حاصل تھا کہ جو انکی شان میں گستاخی کرے اُسے معاف کر دیں، مگر ہمارے پاس آج یہ حق نہیں ، چنانچہ کسی بھی چھوٹے بڑے توہین کے واقعے کے بعد قتل کی سزا ہر حال میں پوری کی جائے گی۔ مگر یہ عذر بھی لغو ہے کیونکہ :
 
 
# رسول (ص) سے براہ راست ایسا کوئی اصول بیان نہیں ہوا ہے، بلکہ یہ موجودہ توہین رسالت قانون کے حمایتیوں کی "اپنی طرف" سے گھڑا گیا ایک "نیا بدعتی قیاس" ہے
# اللہ نے سورۃ آل عمران ، آیت 186 میں صرف رسول (ص) کو ہی نہیں بلکہ تمام مسلمانوں کو صبر وتحمل کرنے کا حکم دیا ہے۔۔
# اور جب حضرت ابوہریرہ کی والدہ نے رسول اللہ (ص) کی شان میں گستاخی کی تو حضرت ابو ہریرہ اس پر شدید رنجیدہ ہوئے، مگر آپ نے انکی اس گستاخی پر عفو و درگذر سے کام لیا، نہ کہ فوراً انکو قتل کر ڈالا۔معاف کرنے کا حق فقط رسول (ص) کا تھا اور ابو ہریرہ کے پاس یہ حق نہیں تھا تو پھر تو جناب ابو ہریرہ کو فی الفور اپنی والدہ کو قتل کر دینا چاہیے تھا جب انہوں نے توہین رسال کی۔ مگر نہیں، وہ یہ حق نہ ہوتے ہوئے بھی اپنی والدہ کو قتل نہیں کرتے، اور پھر رسول (ص) کے پاس حاضر ہو کر بھی قتل کی بات نہیں کر رہے، بلکہ اللہ کے رسول (ص) سے اپنی والدہ کی ہدایت کی دعا کرنے کی بات کر رہے ہیں۔
# بلکہ موجودہ آرڈیننس کے حامی حضرات کی اپنی پیش کردہ نابینا صحابی اور یہودیہ عورت والی روایات کو بھی مان لیا جائے تب بھی ان سب سے یہ ہی ثابت ہوتا ہے کہ پہلا قدم عفو و درگذر اور صبر و تحمل اور نیک نصیحت کا ہے، اور یہ عفو و درگذر فقط رسول (ص) تک محدود نہیں بلکہ وہ نابینا صحابی پہلے قدم میں عفو و درگذر کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔
اس روایت میں صاف صاف، بہت صاف طور پر موجود ہے کہ وہ کنیز باندی مسلسل اور بار بار رسول (ص) کی توہین کیا کرتی تھی۔۔۔ اور وہ صحابی معاف کرنے کا حق نہ ہونے کے باوجود اس کنیز باندی کو قتل نہیں کرتے تھے، بلکہ صبر و تحمل کے ساتھ فقط نیک نصیحت کرتے تھے۔ چنانچہ بذات خود یہ روایت ثابت کر رہی ہے کہ یہ رسول (ص) کے حق کا عذر بنانا ایک "نیا بدعتی" اپنی طرف سے گھڑا گیا بہانہ ہے جسکا ذکر نہ رسول (ص) نے کبھی کیا اور نہ صحابہ کو علم تھا۔
 
== ہمارے معاشرے کی صورتحال ==
144

ترامیم