دھول کلاں

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search


دھول کلاں ایک گاؤں کا نام ہے۔

دریاؤں کے شاہ چناب کے کنارے جہاں کئی بستیاں آباد ہیں وہاں ایک عظیم تاریخی گاؤں موضع دھول کلاں بھی ہے جس کو کئی اعتبار سے تاریخی اہمیت حاصل ہے۔ یہ گاؤں علمی، ادبی، روحانی لحاظ سے بہت اہمیت کا حامل ہے۔ دریاؤں کے کنارے آباد کاری انسانی فطرت میں شامل ہے جس سے با آسانی خوراک اور پانی کا حصول ممکن ہے۔ پالتو جانوروں کے لیے دریا جیسی نعمت بہت اچھی ہے۔ مزید تفصیل سے قبل ہم دھول کلاں کے لفظ پر روشنی ڈالتے ہیں۔

لفظ دھول کلاں کے لغوی معنی[ترمیم]

دھول[ترمیم]

دھول لفظی اعتبار سے بہت سارے معنی و مطالب رکھتا ہے۔ جب دھول کے" دَ" پر زبرہو تو اس کے معنی کچھ اور ہوتے ہیں جب دھول کے "دُ" پر پیش ہو تو معنی بدل جاتے ہیں۔

دَھول مذکر"سنسکرت "

سنسکرت سے اردو میں داخل ہوا اور عربی رسم الخط میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ اور اردو میں "کلیاتِ سراج " 1739ء میں تحریرا ملتا ہے۔ تھپڑ، دھَپ، پورے ہاتھ کی شدید ضرب۔ تھَپّڑ، چانْٹا، دھَموکا، جھانْپَڑ، یہ معنی دھَول کے اردو لغت انسائکلو پیڈیا میں درج ہیں۔ مگر دھول کلاں گاؤں کے یہ معنی نہیں لگتے بلکہ دھول کے د پر پیش ہے۔

دُھول مؤنث" سنسکرت"

پیش والے دھول کے معنی ہیں گرد، خاک ، ریگ، ریت، راکھ وغیرہ۔" جامع نسیم اللغات اردو " دُھول کے یہ معنی عام طور پر اردو میں خاک اور اڑتی ہوئے گرد و غبار کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔

کلاں کے معنی

فارسی زبان سے ماخوذ اسم ہے۔ اردو میں اصل معنی و ساخت کے ساتھ بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔

1 - جسامت میں بڑا، بھاری، وزنی۔

خُرد اور کَلاں دراصل پاکستان اور انڈیا کے پنجاب میں چھوٹے اور بڑے دیہاتوں کے لیے سابقے کے طور پر استمعال کئے جاتے ہیں ۔ خُرد کا مطلب چھوٹا اور کلاں کا مطلب بڑا جو دیہات آپس میں ملے ہوتے ہیں اور ایک چھوٹا اور ایک بڑا ہوتا ہے تو ان میں چھوٹے کو خُرد اور بڑے کو کلاں کہا جاتا ہے۔

جیسے کے نام سے ظاہر ہے دھول کسی زمانے میں بہت بڑا گاؤں رہا ہو گا اسی لیے اس کے نام کے ساتھ دُھول کلاں کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ اب دُھول کلاں کے اس نام کی وجہ یا تو بہت زیادہ خاک یا مٹی کا ہونا ملتا ہے یعنی کچے مکان یا گرد و غبار دوسری جانب کسی بڑ ے ہندو جد کا نام بھی دھول ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ دھول جٹ اور واڑئچ قوم کی ایک گوت بھی ہے۔ تو ممکن ہے اس سے ماخوذ یہ نام رکھ لیا گیا ہو۔

محل وقوع[ترمیم]

دھول کلاں ہیڈ مرالہ روڈ پر بھاگوال کلاں سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر جنوب کی طرف آباد ہے دھول کے مغرب کی طرف چوپالہ اور نت شرقی اور مشرقی جانب خطار شریف اور شیخ چوغانی موجود ہیں۔ کچھ عرصہ قبل یعنی 2005 تک دھول کا جنگل بالکل صحیح سلامت تھا جس کو بعد ازاں گاؤں کے کچھ سیاسی لوگوں نے کاٹ کا غائب کر دیا۔ اسی طرح جنگل گاؤں کے شمال کی جانب اور جنوب کی جانب دریا بہتا ہے جو اس گاؤں کے حسن کو چار چاند لگا دیتا ہے۔

دھول کا کل رقبہ 2001 ایکڑ ہے625 ایکڑ رقبہ میں جنگل ہے1351 ایکڑ رقبہ دریا برد ہو چکا ہے جبکہ قابل کاشت رقبہ 125 ایکڑ ہے۔

دھول کلاں ہیڈ مرالہ روڈ پر بھاگوال کلاں سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر جنوب کی طرف آباد ہے دھول کے مغرب کی طرف چوپالہ اور نت شرقی اور مشرقی جانب خطار شریف اور شیخ چوغانی موجود ہیں۔ کچھ عرصہ قبل یعنی 2005 تک دھول کا جنگل بالکل صحیح سلامت تھا جس کو بعد ازاں گاؤں کے کچھ سیاسی لوگوں نے کاٹ کا غائب کر دیا۔ اسی طرح جنگل گاؤں کے شمال کی جانب اور جنوب کی جانب دریا بہتا ہے جو اس گاؤں کے حسن کو چار چاند لگا دیتا ہے۔ دھول کا کل رقبہ 2001 ایکڑ ہے625 ایکڑ رقبہ میں جنگل ہے1351 ایکڑ رقبہ دریا برد ہو چکا ہے جبکہ قابل کاشت رقبہ 125 ایکڑ ہے۔

تاریخی پس منظر[ترمیم]

دریاؤں کے کنارے قدیم بستیوں سے کھودائی کے دوران، برتن،سکے،مورتیاں اور دوسری انسان کے استعمال میں آنے والی چیزیں شامل ہیں۔ دھول کلاں جو وسیع رقبے پر مشتمل ایک گاؤں تھا جس کا زیادہ تر حصہ دریا برد ہو گیا اس کی وجہ سے بہت ساری قدیم تہذیب فنا ہو گئی۔ دھول کلاں کو عام طور دھول چوپالہ بھی کہا جاتا ہے کیونکہ چوپالہ دھول کا ہمسایہ گاؤں ہے۔

ماضی میں دھول سے دریائے چناب تقریباً ایک میل کے فاصلے پر تھا دیہات کے باسی دریا پر جانے کے لیے ایک لمبا سفر طے کرتے تھے۔ قیام ِ پاکستان سے قبل دھول میں بہت بڑا بازار اور ہندوؤں کے دو سے تین منزلہ مکان ہوتے تھے بہت سارے مندر موجود تھے جو دریا کی نظر ہو چکے ہیں لیکن اب بھی ایک دو ہندوؤں اور سکھوں کی دکانیں موجود ہیں۔

کچھ عرصہ قبل مٹی کے برتنوں میں کچھ چاندی کے سکے ملے تھے جن میں اکبر بادشاہ اور دوسرے بادشاہوں کے سکے کسی نے دفن کر رکھے تھے جن کو اہل دہیہ نے زرگروں کے آگے فروحت کر دیا تھا۔ اگر وہ مخفوظ رہ جاتے تو یقیننا دھول کی تاریخ جاننا کوئی مشکل کام نہیں تھا۔

اس کے علاوہ دھول کلاں میں آٹھ کے قریب مساجد تھیں جو بلند مقامات پر بنائی گئیں تھیں جن میں سے زیادہ تر آج بھی موجود ہیں ایک جامع مسجد دریا کی نظر ہو رہی تھی لیکن گاؤں کے لوگوں نے بند باندھ کر اس کو مخفوظ کر لیا ہے۔

محکمہ مال کی مثل حقیقت پہلا بندوبست 1891ء دوسرا بندوبست 1911 میں ہوا جس میں ہر ضلع کی تاریخ اور اہل دیہہ کا شجرہ نسب درج کیا گیا اس کے مطابق 1858ء میں موسی وعیسی دو نامی اشخاص جو مورثِ اعلیٰ ہیں نے دھولانوالے نزد مناور کشمیر سے آ کر اس علاقے کو دھول کا نام دیا۔ جبکہ ممکن ہے کہ پہلے اس علاقے کا کچھ اور نام رہا ہو کیونکہ دوھول میں آبادی 1858ء سے قبل بھی موجود تھی۔ اس کے علاوہ چند سال قبل مجھے اپنی پرانی دستاویزات میں سے ایک شجرہ نسب لکھا ہوا ملا جس میں دھول کسی شخص کو لکھا گیا تھا یعنی اول یہاں کون سا شخص آیا جس نے یہ گاؤں آباد کیا وہ کچھ یوں تھا۔

"خُانوبن دُھول بن لوح بن کرم بن سورج بن راجا جہگ بن رئنیس بن ڈلچی رکسین "

اس شجرہ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ خانو نامی شخص نے اول اس سر زمین پر قدم رکھا جس کے باپ کا نام دھول تھا اس نے اپنے باپ ہی کے نام پر اس علاقے کا نام دھول رکھا جو بعد ازاں دھول کلاں سے یاد کیا جانے لگا۔ اور انہی اشخاص سے اس گاؤں کی ہندو آبادی بڑھی۔ اسی بدولت گاؤں میں آج بھی بہت ساری قومیں آباد ہیں لیکن ہندو آبدکار اب یہاں سے ہجرت کر چکے ہیں سو فیصد مسلمان آبادی ہے سکھوں کی دوکانیں ہیں مگر وہ بھی یہ گاؤں چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔ دھول کلاں کسی زمانے میں اپنے کنوؤں کی بدولت مشہور ہوا کرتا تھا ایک راویت کے مطابق یہاں سو کے قریب کنویں تھے جہاں سے کھیتوں کو سیراب کیا جاتا تھا۔ ان کنوؤں کے باقیات آج بھی موجود ہیں لیکن وہ استعمال کے قابل نہیں ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر کنویں بند ہو چکے ہیں کچھ دریا کی نظر ہو چکے ہیں۔ دریا نے گاؤں کا بہت بڑا حصہ اپنے اندر سمو لیا ہے۔ تقریباً ایک صدی قبل جب دریا گاؤں سے ایک دو میل دور تھا تب دریا سے قریب ہی سیالکوٹ تھا جو اب کافی دور ہو گیا ہے کیونکہ دریا کا رخ شمال کی جانب بہت عرصہ رہا ہے۔ دھول سے متصل گاؤں چوپالہ ہے جو اب دریا برد ہو چکا ہے جو بہت بڑا قصبہ تھا اور ہندو آبادی پر مشتمل تھا مکانات پختہ اور اچھی ساخت کے تھے میرے والد نے پرانا چوپالہ دیکھا تھا جو دریا کی نظر ہو گیا ہے اب دریا سے ذرا ہٹ کر چوپالہ کی نئی آبادکاری کی گئی ہے۔ چوپالہ سے سونے کی دو مورتیاں اس وقت برآمد ہوئیں جب دریا نے گاؤں کو توڑا۔ میرے جد امجد سید ابراہیم بخاری جب مہدیاں سے دین کی تبلیغ کی خاطر اس سر زمین پر تشریف لائے تو اس وقت یہاں ہندوؤں کی تعداد بہت زیادہ تھی ان کے ہمراہ ان کے خاندان والے بھی تقریباً 1600 ء صدی میں یہاں تشریف لائے اس وقت گاؤں کا زیادہ تر حصہ ابھی موجود تھا۔ اس گاؤں میں دینی اور روحانی اعتبار سے آلِ سید ابراہیم بخاری کا کردار بہت اہم رہا ہے۔

روحانی اور ادبی پس منظر[ترمیم]

موضع دھول کلاں ادبی ،روحانی اور علمی لحاظ سے مالا مال رہا ہے دھول کی سر زمین پر صدیوں ہندو مسلم ایک ساتھ رہے اور ولی بھی ان کے ساتھ یہاں بسے رہے۔

آلِ سید ابراہیم بخاریؒ ساداتِ دھول کلاں

سید ابراہیم بخاری جو قصبہ مہدیاں سے دھول کلاں تشریف لائے تھے ان کا اہم مقصد یہاں اسلام کی تبلیغ تھا انہوں نے اور ان کی آل نے اس مقصد کے لیے بہت اہم کردار ادا کیا جنابِ سید ابراہیم کا مرقد مبارک دریا کی نظر ہو گیا لیکن ان کی آل میں سے بہت سے ولی ِ کامل ہو گزرے ہیں۔ جن میں اکثر کے مزارگجرات میں موجود ہیں۔

خیر الاتقیاء ولیٰ کامل سید محمد تقی بخاری دھولی

سید محمد تقی بخاری دھولویؒ ولی ِکامل سید نقی بخاری عاشق حق سید حسن بخاری المعروف قاضی صاحب سید فقیر اللہ

سید غلام محمد شاہ بخاری

سید غلام محمد شاہ بخاری زاہدِکامل،شجاعت علیؑ سید محمد غضنفر بخاری شاعر ،استاد،حکیم اور شجرہ نویس

سید محمد تقی بخاریؒ[ترمیم]

جو سید ابراہیم بخاری کے پوتے اور سید ہاشم بخاری کے صاحبزادے تھے وہ روحانی اور دینی بہت بڑی ہستی ہیں ان کا مرقد مبارک تحصیل بھمبر ضلع میر پور آزاد کشمیرمیں ہے۔ اپنے مریدین کی خاطر آپ وہاں تشریف لے گئے آپ کا تفصیلا ذکر آگے موجود ہے۔

سید نقی بخاریؒ[ترمیم]

سید محمدتقی بخاریؒ کے صاحبزادے ہیں آپ کا مزار والد کے مزار سے تقریباً 6 کلومیٹر دور مشرق کی جانب پہاڑ پر موجود ہے آپؒ سے منسوب بہت ساری کرامتیں ہیں آپ لا ولد رہے اور حق کے تشنہ انسانوں کی پیاس بھجاتے رہے۔ ان دونوں مزاروں پر سالانہ عرس جناب سید محمد انور شاہ ولد گلزار حسین شاہ آف میراں پنڈی کرواتے ہیں۔

سید حسن بخاریؒ المعروف قاضی[ترمیم]

صاحب آپ سید محمد تقی بخآری کے پوتے اور سید فقیر اللہ کے فرزند تھے آپ بھی اپنے چچا کی طرح لاولد تھے اور دھول کلاں میں دین و حق کی شمع روشن کی آپ اپنی فیصلہ گوئی کی وجہ سے مشہور ہوئے اور قاضی کا لقب عطاء ہوا۔ آپ کے والد بھی بہت کرامتوں والے تھے ۔

سید فقیر اللہ بخاریؒ[ترمیم]

آپ سید قاضی صاحب کے والد ماجد تھے اور روحانی مقام رکھتے تھے زہدو عبادت میں کامل تھے اسی لیے آپ کے خاندان سے منسوب ایک مسجد بھی اس گاؤں میں موجود ہے۔ آستانہ سید قاضی صاحب کے سجادہ نشین سید بشیر حسین شاہ ہیں جو جناب قاضی صاحبؒ سے نویں پشت میں ملتے ہیں او رہر سال 10 رسوج کو عرس منقد کیا جاتا ہے جس پر دور دو ر سے لوگ شرکت کرنے تشریف لاتے ہیں۔

سید غلام محمد شاہ بخاری[ترمیم]

آپ اپنی شجاعت اور زہدو عبادت کی وجہ سے مشہور ہوئے رات مسجد میں گزارتے تھے اور علم و حکمت میں ایک نام رکھتے تھے آپ جناب سید محمد غضنفر بخاری کے داد تھے۔ آپ کا مرقد مبارک مشرقی قبرستان میں موجود ہے۔

سید محمد غضنفر شاہ بخاری[ترمیم]

حکیم ،شاعر،سنئیر ہیڈ ماسٹر اور شجرہ نویس آلِ سید ابراہیم بخاری کے علم و حکمت کی معراج آپ تھے جنابِ استاد ِ محترم کا نام پورے گجرات میں محکمہ تعلیم سر فہرست تھا۔ آپ حکمت میں گولٹ میڈلسٹ اور تعلیمی اعتبار سے جدید اور قدیم ہر قسم کی تعلیم کے ماہر تھے۔ آپ کا زہد اور سلوک سید فرید الدین بخاری ؒ سے ملتا تھا۔ آپ کا مرقد مبارک مغربی قبرستان دھول کلاں میں موجود ہے۔

آلِ سید ابراہیم بخاری کے علاوہ روحانی شخصیات[ترمیم]

حضرت شاہ کبیر آپ کے مزار کے مجاور محمد شریف ہیں اس کے علاو ہ دھول کی آبی گزر گاہ میں پیر ہرا کا مزار بھی ہے جن کا اصل نام کچھ اور ہے لیکن یہ نام ان کی کرامتوں کی وجہ سے مشہور ہوا ہے۔ یہ مزار پختہ تعمیر کیا گیا ہے اس کی مجاور دو خواتین ہیں اس مزار کے پاس شیشم کے درخت تھے۔ سید مہر علی شاہ آپ کا مزار بھی دھول جنگل میں مغربی قبرستان میں ہے اور آپ کی نسل بھی دھول کلاں میں موجود ہے۔ آپ بھی ولی حق ہو گزرے ہیں۔ بابا ظاہر ولی اور بابا شاہ کبیر جیسے بزرگوں کے مزار بھی دھول کلاں میں موجود ہیں۔

ادبی پہلو[ترمیم]

ادبی لحاظ سے بھی دھول کلاں کا ذکر کرنا ضروری ہے اس سر زمین پر شاعر ،ادیب اور بہت سارے صوفی بزرگ ہو گزرے ہیں ان میں سے اہم نام قطب الدین کا ہے جو 1858 میں کرم دین کے گھر پیدا ہوئے آپ نے مرزا صاحباں کو اپنی زبان میں لکھا آپ کی لکھی ہوئی مرزاں صاحباں ابھی اشاعت میں آئی ہے اور میرے پاس موجود ہے۔ اس کتاب میں جناب قطب الدین کے ساتھ سید چراغ شاہ کا بھی ذکر ہے۔ سید چراغ شاہ نے قطب الدین کو مرزاں صاحباں لکھنے کو کہا تھا۔ یہ سید چراغ شاہ سید فقیر اللہ کی اولاد سید غلام رسول کی اولاد میں سے ہیں ۔ اس کے علاوہ بہت سارے استاد ،حکیم اور علما اس دھول کی دھرتی سے ہو گزرے ہیں جو بعد ازاں یہاں سے ہجرت کر گئے کیونکہ زیادہ تر رہائشی علاقہ دریا کی نظر ہو گیا تھا۔

دھول کلاں کا جنگل[ترمیم]

یہ دھول کلاں جنگل کی 2005 کی تصویر ہے جب ابھی اسے کاٹا نہیں گیا تھا
دھول کلاں کا جنگل کٹائی کے بعد 2013 میں

دھول کلاں کے شمال کی جانب 635 ایکڑ رقبہ پر پھیلا جنگل ہے جس کو حکومت برطنیہ نے نشنیل ریزرو فاریسٹ قرار دیا تھاجس کو بعد ازاں ایندھن کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ اہل دہیہ نے بھی اس جنگل کو جس کا زیادہ حصہ کیکر کے درخت پر مشتمل تھا خود کاشت کیا تھا۔ آہستہ آہستہ اس جنگل کو کاٹ لیا گیا جس میں مختلف قسم کے جنگلی جانور،سور ،گیدڑ ،لومڑی اور بہت سارے چرند پرند رہتے تھے جو اب یہاں سے نقل مکانی کر چکے ہیں۔ اگلے صفحہ پر دھول کلا ں کے جنگل کی گوگل ارتھ سے لی گئی تصویر جس میں یہ واضع ہو رہا ہے کہ کس طرح جنگل کو کاٹ لیا گیا ہے۔ پہلی تصویر 2005 کی ہے جبکہ دوسری تصویر 2013 کی ہے جس میں جنگل کو کاٹ کر غائب کر دیا گیا تھا۔ ہیڈ مرالہ روڈ سے جیسے ہی اندر دھول کلاں والی روڈ پر چڑھتے ہیں تو جنگل کی حدود شروع ہو جاتی تھی جنگل کی یہ حدود تقریباً 5 میل لمبی تھی جس سے گزر کا دھول کلاں آتا تھا۔ جنگل پانچ میل لمبا اور ایک دو میل چوڑا تھا۔ جنگل میں مغربی اور مشرقی دو قبرستان ہیں جن میں گاؤں کی عظیم ہستیاں دفن ہیں۔ جنگل میں زیادہ تر کیکر،شیشم،برگد اور بوہڑ جیسے بڑے درخت شامل تھے اس کے علاوہ بہکڑ بہت زیادہ پائی جاتی تھی۔ اب بہکڑ اور کیکر کی جگہ گھاس نے لے لی ہے۔ اور جنگلی جانور بھی نقل مکانی پر مجبور ہر گئے ہیں۔ اس جنگل کی لکڑی نصف صدی سے زیادہ اہل دیہہ کے لیے ایندھن کا کام دے رہی تھی مگر اب جلانے کے لکڑی خریدی جا رہی ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]