سید جنید شاہ گردیزی چشتی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

سانچہ:Db-madeup

فائل:بابا پیر سید جنید شاہ قلندر ؒ.jpg
سرتاج ولایت ،فرید العصر ،ابدال اقلیم پیر سید جنید شاہ رحمتہ اللہ خطہ کشمیر کے ایک عظیم صوفی بزرگ گزرے ہیں۔ ولادت: مصدقہ روایات کے مطابق آپ ؒ زمانہ قحط جو 1860تا1862 ء تک رہا میں راولاکوٹ کےایک گاوںکوٹیڑی سیداں میں پیدا ہوئے ۔اور مصدقہ روایات کے مطابق آپ کا سن ولادت 1860 ء بنتا ہے۔ ہ کشمیر کے اس پہاڑی کے ہزاروں افراد لقمہ اجل بن گئے اور سیکڑوں گھرانوں نے خطہ پوٹھوار کی طرف ہجرت کی۔ پیر سید جنید شاہ رح کے والدین نے بھی ہجرت کی اور راولپنڈی کی تحصیل کہوٹہ کے گائوں بھکرال میں قیام اختیار کیا۔آپ ؒ کے والد محترم کا نام سید بیر شاہ تھا۔ جواللہ تعالی کے برگزیدہ بندے تھے۔آپؒ کا وصال مبارک 22 اگست 1962 ء بمطابق 20 ربیع الاول 1382 ہجری شب 12:16 منٹ پر آبائی گائوں کوٹیڑی سیداں میں ہوا۔ پیر سید جنید شاہ ؒ کی نماز جنازہ مولانا پیر سید ثناء اللہ شاہ ؒ خطیب جامع مسجد باغ نے پڑھائی اور غسل میں سردار عبدالقیوم خان سابق صدر و وزیر اعظم آزاد کشمیر ،سردار سیاب خالد ،پیر سید موسیٰ شاہ ؒ نے حصہ لیا۔ پیر سید جنید شاہ ؒ نے زندگی کے آخری ایام باغ مسجد م یں گزارے وصال سے چند ایام قبل اپنے بھتیجے سید سلیمان شاہ کے گھر کوٹیڑی سیداں تشریف لائے ۔آپؒ نے اس دنیا فانی میں 102 ایام گزارے۔ شجرہ نسب: پیر سید جنید شاہ ؒ کا شجرہ نسب پینتیس پشتوں کے بعد مولائے کائنات سیدنا علی المرتضی شیر خدا کرم اللہ وجہہ سے ملتا ہے علی شیر خدا کرم اللہ وجہہ۔ امام حسین ؑ۔ امام زین العابدین ؑ۔ امام محمد باقرؑ۔ امام جعفر صادق، علی عریض ؒ. سید احمد شعرانیؒ۔ سید ابو شفاء یوعم ۔ سید حمزہ داعیؒ، سید عبداللہؒ ۔ سید موسیٰ ؒ۔ سید عیسیٰؒ۔ سید حسین قطعؒ۔ سید علیؒ ۔ سید احمد بغدادیؒ۔ سید ابو عبداللہؒ۔ سید شاہ قسور گردیزیؒ۔ سید ابو بکر ؒ ۔ سید شاہ یوسف گردیزیؒ، سید احمد شاہؒ ۔ سید عبدالصمدؒ۔ سید محمد ؒ۔ سید نور محمد ؒ۔ سید شاہ منور المعروف شاہ سچیارؒ۔ سید شاہ منصورؒ۔ سید مالک شاہ ؒ۔ سید رکن الدین شاہؒ۔ سید میر شاہؒ۔ سید مہر شاہؒ ۔ سید خواص علی شاہؒ۔ سید فتح شاہؒ ، سید فقیر شاہؒ ۔ سید قطب شاہؒ۔ سید بیر شاہ ؒ ۔ پیر سید جنید شاہ گردیزی ؒ. بچپن: پیر سدید جنید شاہ ۃؒ کا سارا بچپن تحصیل کہوٹہ ضلع راولپنڈی کے موضع بھکرال میں گزارا ۔1860 میں پڑنے والے قحط میں آپ کے والدین نے بھی دیگر لوگوں کی طرح ہجرت کی اور بھکرال میں قیام فرمایا۔ آپؒ اس وقت شیر خوار بچے تھے ۔اس وقت آپؒ کے بڑے بھائی سید محمد شاہؒ کی عمر20 سال کے لگ بھگ تھی اور ان سے ایک چھوٹی بہن تھی جو غالباً تین چار سال کی تھی۔ شیخ عبدالمجید مرحوم سکنہ کہوٹہ جو ننکاری بازار راولپنڈی میں تاجر تھے ، پیر صاحب ؒ کے خاص عقیدت مندتھے ۔ پیر صاحب سے بہت فیض حاصل کیا ۔ پیر صاحب ؒ کے وصال کے بعد خود جا کر عر س کے انتظامات میں حصہ لیتے اور تا دم آخر کے مزار شریف پر حاضری دیتے رہے شیخ صاحب کا وصال بھی پیر صاحب کے مزار شریف کے مسافر خانہ میں ہوا۔ پیر صاحب ؒ ابھی بچے ہی تھے کہ والد محترم کا سایہ سر سے اٹھ گیا ۔والدہ محترمہ اور آپ کی بہن کافی عرصہ تک زندہ رہے ۔ پیر صاحب ؒ کی بہن اور بھائی کی قبریں بھی بھکرال ہی میں یں ۔والدہ محترمہ کی قبر مبارک سوہاوہ شریف میںابتدائی تعلیم: پیر سید جنید شاہ ؒ نے ابتدائی تعلیم موضع بھکرال تحصیل کہوٹہ راولپنڈی ہی میں قاضی محمد حسین سے حاصل کی۔آپؒ نے پانچ سال کی عمر میں قرآن کریم ناظرہ اور سات سال کی عمر میں قرآن کریم کو حفظ کر لیا ۔اس کے بعد صرف و نحو ،فقہ و حدیث کی کتب بھی قاضی محمد حسن صاحبؒ سے پڑھیں۔ ایک رات آپؒ قاضی صاحب کی مسجد ہی میں عبادت میں مشغول تھے کہ اللہ رب العزت نے اپنا خصوصی کرم فرمایا اور لیلتہ القدر عطا فرمائی ۔اس واقعہ کے  بعد پیر سید جنید شاہ ؒ کی طبیعت یکسر بدل گئی ۔چہرے پر ایک جلال آ گیا ۔آپؒ ساری زندگی سفرمیں رہے مختلف جگہوں پر چلہ کشی کی ۔آپؒ نے راولپنڈی ،کہوٹہ ۔مزار امام بری سرکارؒ ، گولڑہ شریف ، سوہاوہ شریف کوٹیڑی سیداں اور دیگر مقامات پر چلہ کرتے رہے۔ پیر صاحب ؒ شریعت کی سختی سے پابندی کرتے اور اپنے چاہنے والوں کو بھی اس کی تلقین فرماتے ۔اور بے نمازی آدمی سے ملنا جلنا پسند نہ کرتے تھے۔آپؒ شرم و حیا کے پیکر تھے عورتوں سے بالکل ملاقات نہ کرتے ۔اپ تارک الدنیا تھے یہی وجہ ہے کہ آپؒ نے شادی نہیں کی ۔زندگی کے آخری ایام باغ آزاد کشمیر کی جامع مسجد میں مولانا پیر سید ثناء اللہ شاہ ؒ کے ساتھ گزارے۔آپؒ کی بے شامار دینی خدمات ہیں اور آپؒ صاحب کرامت بزرگ تھے۔باغ جامع مسجد کی توسیع وغیرہ کی بنیاد آپؒ نے رکھی اسی طرح پانیولہ بازار ،مسجد اور جھولاناڑہ مسجد کی بنیاد بھ آپؒ نے رکھی موجودہ مظفرآباد روڈ کی نشاندھی ب ہی آپؒ نے کی۔ وفات سے ایم ماہ قبل آپؒ اپنے بھتیجے سید سلیمان شاہ ؒ کے پاس تشریف لے آئے اور تادم مرگ یہی قیام فرمایا:آپؒ کی بے شمار کرامات مشہور ہیں۔ روایت ہے کہ آپؒ ایک وقت میں مختلف مقامات پر دیکھے جاتے تھے۔ زندگی کے 102 سال گزارنے کے بعد آخر کار یہ مرد قلندر 21 اگست 1962 کو اس دنیا فانی سے عالم بقا کی طرف کوچ کر گئے۔ان اللہ وانا الیہ راجعون۔آپؒ کی نماز جنازہ علامہ پیر سید ثناء اللہ شاہ ؒ خطیب جامع مسجد باغ ن ے پڑھای اور ہزار وں سوگواروںکی موجودگی میں زیارت بازار کے ساتھ سپرد خاک کر دیا گیا۔جہاں آج آپؒ کا خوبصورت مزار تعمیر ہے۔آپؒ کا مزار محکمہ اوقاف آزاد کشمیر کے زیر انتظام ہے۔عرس پاک کی تقریب سال میں دور بار ہوتی ہے ۔اگست میں محکمہ اوقاف اور اپریل کے پہلے ہفتہ میں صاحبزادہ سید گل بہار شاہ صاحب کے زیر انتظام آستانہ عالیہ پر منعقد ہوتی ہے۔آپؒ کے مزار پر فیض جاری و ساری ہے ہر وقت لوگوں کا ہجوم رہتا ہے اور لنگر تقسیم ہوتا رہتا ہے۔۔

سرتاج ولایت ،فرید العصر ،ابدال اقلیم پیر سید جنید شاہ رحمتہ اللہ خطہ کشمیر کے ایک عظیم صوفی بزرگ گزرے ہیں۔ ولادت: مصدقہ روایات کے مطابق آپ ؒ زمانہ قحط جو 1860تا1862 ء تک رہا میں راولاکوٹ کے ایک گاوں کوٹیڑی سیداں میں پیدا ہوئے۔ اور مصدقہ روایات کے مطابق آپ کا سنہ ولادت 1860 ء بنتا ہے۔ ہ کشمیر کے اس پہاڑی کے ہزاروں افراد لقمہ اجل بن گئے اور سیکڑوں گھرانوں نے خطہ پوٹھوار کی طرف ہجرت کی۔ پیر سید جنید شاہ رح کے والدین نے بھی ہجرت کی اور راولپنڈی کی تحصیل کہوٹہ کے گائوں بھکرال میں قیام اختیار کیا۔ آپ ؒ کے والد محترم کا نام سید بیر شاہ تھا۔ جواللہ تعالی کے برگزیدہ بندے تھے۔ آپؒ کا وصال مبارک 22 اگست 1962 ء بمطابق 20 ربیع الاول 1382 ہجری شب 12:16 منٹ پر آبائی گائوں کوٹیڑی سیداں میں ہوا۔ پیر سید جنید شاہ ؒ کی نماز جنازہ مولانا پیر سید ثناء اللہ شاہ ؒ خطیب جامع مسجد باغ نے پڑھائی اور غسل میں سردار عبد القیوم خان سابق صدر و وزیر اعظم آزاد کشمیر ،سردار سیاب خالد ،پیر سید موسیٰ شاہ ؒ نے حصہ لیا۔ پیر سید جنید شاہ ؒ نے زندگی کے آخری ایام باغ مسجد م یں گزارے وصال سے چند ایام قبل اپنے بھتیجے سید سلیمان شاہ کے گھر کوٹیڑی سیداں تشریف لائے۔ آپؒ نے اس دنیا فانی میں 102 ایام گزارے۔ شجرہ نسب: پیر سید جنید شاہ ؒ کا شجرہ نسب پینتیس پشتوں کے بعد مولائے کائنات سیدنا علی المرتضی شیر خدا کرم اللہ وجہہ سے ملتا ہے علی شیر خدا کرم اللہ وجہہ۔ امام حسین ؑ۔ امام زین العابدین ؑ۔ امام محمد باقرؑ۔ امام جعفر صادق، علی عریض ؒ. سید احمد شعرانیؒ۔ سید ابو شفاء یوعم۔ سید حمزہ داعیؒ، سید عبد اللہؒ۔ سید موسیٰ ؒ۔ سید عیسیٰؒ۔ سید حسین قطعؒ۔ سید علیؒ۔ سید احمد بغدادیؒ۔ سید ابو عبد اللہؒ۔ سید شاہ قسور گردیزیؒ۔ سید ابو بکر ؒ۔ سید شاہ یوسف گردیزیؒ، سید احمد شاہؒ۔ سید عبد الصمدؒ۔ سید محمد ؒ۔ سید نور محمد ؒ۔ سید شاہ منور المعروف شاہ سچیارؒ۔ سید شاہ منصورؒ۔ سید مالک شاہ ؒ۔ سید رکن الدین شاہؒ۔ سید میر شاہؒ۔ سید مہر شاہؒ۔ سید خواص علی شاہؒ۔ سید فتح شاہؒ، سید فقیر شاہؒ۔ سید قطب شاہؒ۔ سید بیر شاہ ؒ۔ پیر سید جنید شاہ گردیزی ؒ. بچپن: پیر سدید جنید شاہ ۃؒ کا سارا بچپن تحصیل کہوٹہ ضلع راولپنڈی کے موضع بھکرال میں گزارا ۔1860 میں پڑنے والے قحط میں آپ کے والدین نے بھی دیگر لوگوں کی طرح ہجرت کی اور بھکرال میں قیام فرمایا۔ آپؒ اس وقت شیر خوار بچے تھے۔ اس وقت آپؒ کے بڑے بھائی سید محمد شاہؒ کی عمر20 سال کے لگ بھگ تھی اور ان سے ایک چھوٹی بہن تھی جو غالباً تین چار سال کی تھی۔ شیخ عبد المجید مرحوم سکنہ کہوٹہ جو ننکاری بازار راولپنڈی میں تاجر تھے، پیر صاحب ؒ کے خاص عقیدت مندتھے۔ پیر صاحب سے بہت فیض حاصل کیا۔ پیر صاحب ؒ کے وصال کے بعد خود جا کر عر س کے انتظامات میں حصہ لیتے اور تا دم آخر کے مزار شریف پر حاضری دیتے رہے شیخ صاحب کا وصال بھی پیر صاحب کے مزار شریف کے مسافر خانہ میں ہوا۔ پیر صاحب ؒ ابھی بچے ہی تھے کہ والد محترم کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔ والدہ محترمہ اور آپ کی بہن کافی عرصہ تک زندہ رہے۔ پیر صاحب ؒ کی بہن اور بھائی کی قبریں بھی بھکرال ہی میں یں۔ والدہ محترمہ کی قبر مبارک سوہاوہ شریف میں ابتدائی تعلیم: پیر سید جنید شاہ ؒ نے ابتدائی تعلیم موضع بھکرال تحصیل کہوٹہ راولپنڈی ہی میں قاضی محمد حسین سے حاصل کی۔ آپؒ نے پانچ سال کی عمر میں قرآن کریم ناظرہ اور سات سال کی عمر میں قرآن کریم کو حفظ کر لیا۔ اس کے بعد صرف و نحو ،فقہ و حدیث کی کتب بھی قاضی محمد حسن صاحبؒ سے پڑھیں۔ ایک رات آپؒ قاضی صاحب کی مسجد ہی میں عبادت میں مشغول تھے کہ اللہ رب العزت نے اپنا خصوصی کرم فرمایا اور لیلتہ القدر عطا فرمائی۔ اس واقعہ کے   بعد پیر سید جنید شاہ ؒ کی طبیعت یکسر بدل گئی۔ چہرے پر ایک جلال آ گیا۔ آپؒ ساری زندگی سفرمیں رہے مختلف جگہوں پر چلہ کشی کی۔ آپؒ نے راولپنڈی ،کہوٹہ۔ مزار امام بری سرکارؒ، گولڑہ شریف، سوہاوہ شریف کوٹیڑی سیداں اور دیگر مقامات پر چلہ کرتے رہے۔ پیر صاحب ؒ شریعت کی سختی سے پابندی کرتے اور اپنے چاہنے والوں کو بھی اس کی تلقین فرماتے۔ اور بے نمازی آدمی سے ملنا جلنا پسند نہ کرتے تھے۔ آپؒ شرم و حیا کے پیکر تھے عورتوں سے بالکل ملاقات نہ کرتے۔ اپ تارک الدنیا تھے یہی وجہ ہے کہ آپؒ نے شادی نہیں کی۔ زندگی کے آخری ایام باغ آزاد کشمیر کی جامع مسجد میں مولانا پیر سید ثناء اللہ شاہ ؒ کے ساتھ گزارے۔ آپؒ کی بے شامار دینی خدمات ہیں اور آپؒ صاحب کرامت بزرگ تھے۔ باغ جامع مسجد کی توسیع وغیرہ کی بنیاد آپؒ نے رکھی اسی طرح پانیولہ بازار ،مسجد اور جھولاناڑہ مسجد کی بنیاد بھ آپؒ نے رکھی موجودہ مظفرآباد روڈ کی نشاندھی ب ہی آپؒ نے کی۔

وفات سے ایم ماہ قبل آپؒ اپنے بھتیجے سید سلیمان شاہ ؒ کے پاس تشریف لے آئے اور تادم مرگ یہی قیام فرمایا:آپؒ کی بے شمار کرامات مشہور ہیں۔ روایت ہے کہ آپؒ ایک وقت میں مختلف مقامات پر دیکھے جاتے تھے۔

زندگی کے 102 سال گزارنے کے بعد آخر کار یہ مرد قلندر 21 اگست 1962 کو اس دنیا فانی سے عالم بقا کی طرف کوچ کر گئے۔ ان اللہ وانا الیہ راجعون۔ آپؒ کی نماز جنازہ علامہ پیر سید ثناء اللہ شاہ ؒ خطیب جامع مسجد باغ ن ے پڑھای اور ہزار وں سوگواروں کی موجودگی میں زیارت بازار کے ساتھ سپرد خاک کر دیا گیا۔ جہاں آج آپؒ کا خوبصورت مزار تعمیر ہے۔ آپؒ کا مزار محکمہ اوقاف آزاد کشمیر کے زیر انتظام ہے۔ عرس پاک کی تقریب سال میں دور بار ہوتی ہے۔ اگست میں محکمہ اوقاف اور اپریل کے پہلے ہفتہ میں صاحبزادہ سید گل بہار شاہ صاحب کے زیر انتظام آستانہ عالیہ پر منعقد ہوتی ہے۔ آپؒ کے مزار پر فیض جاری و ساری ہے ہر وقت لوگوں کا ہجوم رہتا ہے اور لنگر تقسیم ہوتا رہتا ہے۔۔