شجرہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

شجرہ سلاسل طریقت میں ترتیب نسبت بیان کرنے کو شجرہ کہا جاتا ہے

معانی[ترمیم]

1. درخت، شجر، پیڑ، ایک درخت۔ 2. نقشہ یا تحریر جس میں کسی خاندان کے سب سے بزرگ اور اس کی اولاد کا ترتیب وار نام اور بعض اوقات مختصر حالات بھی درج ہوں، نسب نامہ جو عموماً درخت کی شکل میں بھی بنایا جاتا ہے۔ وہ تحریر جس میں کسی سلسلۂ طریقت کے مشائخ کے نام سلسلہ وار درج (عموماً) ہر مرید کو بیعت ہونے کے بعد دیا جاتا ہے تاکہ بیعت ہونے والا پورے سلسلہ کے بزرگوں سے واقف ہو جائے اسے شَجَرۂِ نَسَب بھی کہا جاتا ہے[1]

شجرہ کی حقیقت[ترمیم]

رسول اللہﷺ کے مناصب جو اللہ تعالیٰ نے قُرآن میں بیان فر مائے ہیں چار ہیں۔ یعنی

  • قُرآن کی تلاوت سکھانا، قُرآن کی تلاوت کے شعبے کی ذمہ داری قرّا ءحضرات نے اٹھائی ۔
  • صحابہ کرام کا تزکیہ کرنا، تزکیہ کی صوفیا کرام نے اٹھائی
  • کتاب کی تعلیم دینا علم و حکمت کی علماءکرام نے اٹھائی
  • حکمت کی تعلیم دینا۔ علما کرام میں محدثین کرام نے احادیث شریفہ کو اُمت تک محفوظ طریقے سے پہنچانے کا بیڑا اٹھایا ہے۔

اس مقصد کے لیے وہ اپنی سندوں کی حفاظت کرتے ہیں اور اپنی سندوں کو اس ترتیب سے روایت کرتے ہیں جس ترتیب سے ان تک روایت پہنچی ہوتی ہے۔ بعینہ اسی طرح صوفیا کرام اپنی نسبت کو اسی ترتیب سے بیان کرتے ہیں جس ترتیب سے ان تک نسبت پہنچی ہوتی ہے۔ نسبت کی اسی ترتیب کا بیان شجرہ کہلاتا ہے۔[2]

شجرہ کے فوائد[ترمیم]

شجرہ حضورسیدعالم ﷺتک بندے کے اتصال کی سندہے جس طرح حدیث کی اسنادیں، امام عبد اﷲ بن مبارک جو اولیاء وعلماء ومحدثین وفقہاء سب کے امام ہیں فرماتے ہیں: لولاالاسناد لقال فی الدین من شاء ماشاء۔ اگراسناد نہ ہوتا توجس کاجودل چاہتادین میں کہہ دیتا۔[3] شجرہ خوانی سے متعدد فوائد ہیں:

  • اوّل رسول اﷲﷺ تک اپنے اتصال کی سند کاحفظ۔
  • دوم صالحین کاذکرکہ موجب نزول رحمت ہے۔
  • سوم نام بنام اپنے آقایان نعمت کو ایصال ثواب کہ ان کی بارگاہ سے موجب نظرعنایت ہے۔
  • چہارم جب یہ اوقات سلامت میں ان کانام لیوا رہے گا وہ اوقات مصیبت میں اس کے دستگیرہوں گے۔

رسول اﷲ ﷺفرماتے ہیں: تعرّف الی اﷲ فی الرخاء یعرفک فی الشدۃ۔ رواہ ابوالقاسم بن بشران فی امالیہ عن ابی ھریرۃ وغیرہ عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنھم بسند حسن۔۔[4] توخوشحالی میں اﷲ تعالٰی کوپہچان وہ مصیبت میں تجھ پرنظرکرم فرمائے گا۔ اس کو ابوالقاسم بن بشران نے امالی میں حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے اوراسی کے غیر نے حضرت ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے سندحسن کے ساتھ روایت کیا۔[5]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. اردو_لغت
  2. زبدۃ التصوف،سید شبیر احمد کاکاخیل،صفحہ 43،خانقاہ امدادیہ ویسٹریج راولپنڈی
  3. صحیح مسلم،مقدمۃ الکتاب،قدیمی کتب خانہ کراچی
  4. کنزالعمال،حدیث 3221،مؤسسۃ الرسالہ بیروت
  5. فتاویٰ رضویہ ،احمد رضا خان ،جلد26،صفحہ 590،591،رضا فاؤنڈیشن جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور