صارف:IMAM QASIM SAQI

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
imam qasim Saqi
پیدائش 15 مئی 1972ء
پلمنیر، آندھرا پردیش، انڈیا
رہائش چنا منڈیم
اسمائے دیگر ساقیؔ
پیشہ ٹیچر،ادب سے وابستگی،
وجہِ شہرت شاعری
کارہائے نمایاں آبشارِسخن، فکروفن کے پھول، تاسیس
مذہب اسلام
شریک حیات شیخ ۔ دلشاد بیگم
اولاد شیخ ۔ عشرت عنبریں
Flag of بھارتیہ صارف ایک
بھارتی ویکیپیڈین
ہے
Flag of بھارت

میری پیدائش پندرہ مئی ۱۹۷۲ کو پلمنیر میں ہوئی ۔ میں اپنی ملازمت کے سلسلہ میں کڈپہ آیا اور یہیں کا ہو کر رہ گیا ۔ میرا پیشہ درس و تدریس کا ہے ۔ میں انگریزی معلم ہوں اور بحیثیت شاعر ساقی کے قلمی نام سے معروف ہوں ۔ میری اب تک تین مجموعے کلام منظر عام پر آچکی ہیں ۔ جن کے نام یہ ہیں 1۔ آبشارِ سخن ، غزلوں کا مجموعہ 2۔ فکر و فن کے پھول، دوہوں پر مشتمل ہے 3۔ تاسیس ،تحقیقی و تنقیدی مضامین کا مجموعہ

پیشہ ورانہ سفر[ترمیم]

	سنہ 1996 ؁ء تا 2009 ؁ء اردو مدرس کی حیثیت سے خدمات انجام دی۔ 2009 ؁ ء سے انگریزی مدرس ہائی اسکول میں اپنی خدمات انجام دے رہا ہوں۔

ادبی سفر[ترمیم]

بچپن ہی سے شاعری کا شوق رہا ، باقاعدہ شاعری کا آغاز سنہ 2000 ؁ ء سے ہوا


اہم شخصیات سے رابطہ[ترمیم]

علامہ شارق جمال ناگپوری (مرحوم) ، حضرت عتیق احمد عتیق (مرحوم) ، اثر صدیقی مالیگاوں ، ڈاکٹر فراز حامدی جئے پور، گلزار دہلوی (ان کے ساتھ تصاویر موجود ہیں)،نواز دیوبندی، ماجد دیوبندی، پروفیسر مضفر شہمیری، ڈاکٹر ستار ساحر، نثاراحمد نثار(مدن پلی) ڈاکٹر راہی فدائی،ڈاکٹر ساحر شیوی ،ڈاکٹر وصی اللہ بختیاری عمری قاسمی، وغیرہ

ادبی خدمات[ترمیم]

سرکاری ملازمت کے علاوہ کڈپہ اتساوالو، کلچرل لٹیریری پروگرام ، وغیرہ


انجمن ترقی اردو[ترمیم]

مشاعرے: مقامی ، کریاستی ، قومی مشاعروں کے علاوہ ڈی۔ڈی سپتگری کے منعقدہ اور میسور کے مشاعرے نشر ہوچکے ہیں

سیمینار[ترمیم]

تامل ناڈو ، کیرلا کے کئی سیمناروں اور ورک شاپ میں حصہ لے چکا ہوں ، میرے کل بارہ نظمیں کیرلا کے نصاب میں شامل ہیں

سماجی خدمات[ترمیم]

پلس پولیو اور دیگر خدمات میں حصہ لے چکا ہوں

==تصانیف ==

fikr o fun ke phool (dohon ka majmua)
سنہ 2006 ؁ء کو ’’ آبشارِ سخن‘‘ (غزلوں کامجموعہ)۔، سنہ 2009 ؁ء میں ’’فکر و فن کے پھول ‘‘ کے نام سے ایک دوہوں کا مجموعہ ، 2014 ؁ء میں ’’تاسیس ‘‘ کے نام سے ایک تحقیقی و تنقیدی مضامین کا مجموعہ منظر عام پر آچکا ہے ۔ اس میں پہلے دو کتابوں کو کتابی انعامات بھی مل چکے ہیں

نمونہ کلام ( ایک غزل)[ترمیم]

وادیِ غم میں جو برسات رواں ہوتی ہے

وہ یقیناًمری تاثیرِفغاں ہوتی ہے

آگ تنہائی کی دیکھو تو کہاں تک پہنچی

خواب میں بھی ملاقات کہاں ہوتی ہے

میرے دشمن کا یہ الزام صداقت سمجھو

میرے الفاظ میں شمشیر نہاں ہوتی ہے

سرد پانی میں بھی ہم آگ لگا سکتے ہیں

اپنی طبیعت میں شراروں کی زباں ہوتی ہے

ساحلِ شوق پہ بیٹھا ہے یہ ساقیؔ کب سے

علم کی کشتی یہیں سے ہی رواں ہوتی ہے

ایک نظم[ترمیم]

قلم می گوید

مسندِ قرطاس پر میری

سیاہی کا ہے راج

ایک نقطہ کے حکم پر

برپا کرتا ہوں فساد

منتظر ہیں

سِفر کے اسفار بھی

مجھ سے ہی قائم ہیں ابمعجزاتِ لفظ لفظ

مجھ میں پنہاں ہیں زمانے کا

حقیقی ژیغ ژیغ

سادہ لوح یہ سوچتے ہیں

میرے بن ممکن ہے سب

میں ہوں تحریرِ سخن

میں ہوں افکارِ چمن

چند دہے[ترمیم]

ہنستے چہرے دیکھ کے‘ ملتے ہیں انسان

دل کے اندر جھانکئے‘ بیٹھا ہے شیطان

فن کو پانا ہے اگر‘ رکھو دل میں درد

فن کی خاطر زندگی‘ غزلیں ہو یا فرد

تاریکی کو بانٹ کر خوش ہے آدم زاد

دوبھر ہے اب روشنی‘ کس سے ہو فریاد

تو بھی میرا میت ہے‘ جگ بھی میرا میت

دونوں کے ہی میل سے‘ حاصل ہوگی جیت

دیشب امشب کہہ گئی‘ ماضی کی ہر بات

کیسے ہوگی حال سے‘ فردا کی پرداخت

دوہا غزل[ترمیم]

{{|اقتباس|چاہے تو بھی اوڑھ لے‘ مسکانوں کے ہار دل کی نیت آنکھ سے‘ ظاہر ہوگی یار}}

سورج ضدی ہوگیا‘ ضدی ہے یہ چھاؤں

سر پر سایہ باندھ کر‘ چلتی ہے دیوار

جیسے آنکھیں موند کر‘ بلّی پیوے دودھ

ویسے میرے دیس میں‘ جنتا کی سرکار

دل کی کائنات میں جذبے کی پرواز

دل کے پردے کھول کر‘ آنکھیں کرلے چار

ا

نسانوں کے درمیاں کب ہے کوئی بھید

ذاتوں کی یہ بھاونہ‘ میٹو میرے یار

دوہا نظم[ترمیم]

چاند

بکھری زلفیں رات کی مسکایا جو چاند صحرا‘ دریا‘ وادیاں روشن ہے ہر دھام سورج سے لیکر ضیا چندا دیتا چھاؤں اجلی اجلی چھاؤں میں لگیں سہانے گاؤں چندا رہبر کی طرح کرتا ہے تو کام تبھی تو چندا میں تجھے کرتا ہوں پرنام


نعت ۳[ترمیم]

آغازِسخن رب سے ہو اور اس کی بڑائی

رب نے ہی مرے ذہن میں تاثیر بٹھائی

تعریف میں آقا کی ہوئے میری رسائی

نعتوں کو لکھوں اور کروں نغمہ سرائی

ہے عرشِ بریں تک بھی محمد کی رسائی

کرتا ہے خدا خود بھی محمد کی بڑائی

تھا گرم وہ بستر شبِ معراج میں کیونکہ

آقا کی چٹائی ہے وہ آقا کی چٹائی

آجاتا ہے جب گنبدِ خضریٰ کا تصور

کرتی ہے مری روح یہاں ناصیہ سائی

آمد سے محمد کے بجھی آگ، گرے بت

ہے نورِ مجسّم میں وہ قدرت کی خدائی

روشن ہیں ترے رُخ سے یہ چاند ستارے

صدقے میں ترے نور کے، ہے ان کی بڑائی

اسلام کے دشمن کو بھی سینے سے لگا کر

سرکارِ دو عالم نے کی دشمن کی رہائی

سننے کے لئے حسّان سے نعتوں کو نبی نے

منبر بھی عطا کردیا ،کملی بھی اڑائی

یا

حسّان سے نعتوں کی سماعت کے لئے آقا

منبر بھی عطا کردیا کملی بھی اڑائی

گر پوچھے خدا حشر میں ،تو کہدے اے ساقیؔ

سرکار کی توصیف ہے بس میری کمائی


ہائیکو اور تنکا[ترمیم]

ہونٹوں پر مسکان

چندا کالی رات کا ،

دیتا ہے پہچان

خود میں سب مصروف

پھر بھی کٹتی زندگی ،

لاکھوں ہیں معروف

میرا پیارا شہر

جنّت جیسا لگتا ہے

سب ہیں ماہ و مہر

اک سے اک بہروپ

رکھ کر آگے آئینہ

انساں بدلے روپ


اپنا اپنا ر رنگ

لے کر نکلے جنگ میں

اہلِ ادب کے سنگ ساقیؔ

تجھ پر اتنی دھول

میں نے کہا جب سنگ سے

اس نے کھلائے پھول

تجھ میں ہیں صد رنگ

تو ہے اک بنجر زمیں

پتھر تیرا انگ

لفظوں کی پہچان

کھو نہ جاے اے کوی

مت کر تو اپمان

اس کا ہر اک انگ

موتی جیسا روپ ہے

سیپ اس کے سنگ

سونا چاندی دھات

دھرتی کے اندر پڑے

کتنے ہیں سوغات ساقیؔ

رکھیں گے وشواس

گر چہ ہم سے دور ہے

چھولیں گے آکاش


میری ہے فریاد

ہندوستاں آزاد ہے !؟

کب ہوا آزاد؟!

ٹوٹ گئی ہے آج

ٹہنی اونچی شاخ سے

کھو کر اپنا راج


میرے تن کی چھاوں

حد سے جب بڑھ جاتی ہے

رک جاتے ہیں پاوں


تانترک اور ودھوان

گرچہ لالچ رکھیں گے

ہو جاویں اگنیان


بابا کا کشکول

دیتا ہم کو درس یہ

من کی آنکھیں کھول

تنکا[ترمیم]

ایک ادھورا خواب

اس پر سو تعبیر کیوں

قصے ہوے اسباب

شب کی ہی تو بات تھی

لفظوں کی سوغات

اپنی زباں تو کھول

الفت کے دو بول ہیں

بولی اس کے بول

پیار اسے سب کہتے ہیں

سب لوگ اس پر مرتے ہیں

جب بھی کیا کچھ کام

سچ کا دامن تھام کر

اچھا ہوا انجام

سچ کو نہیں ہے آنچ

سچ ہے سچ کو جانچ

مہکیں ہیں الفاظ

اور مرے قرطاس پر

چمکیں ہیں الفاظ

غزلیں ، رباعی نعت کی

ساقیؔ کی یہ سوغات تھی

اک اک کر کے آتے ہیں

جیسے ساون چار

آتے ہیں پھر ڈھل جاتے ہیں

دل کی باتیں کہہ جاتے ہیں

قطرہ قطرہ آب

مل جاے تو بحر ہے

ورنہ تو حباب

یکجہتی ا درس دو

خوشیاں بانٹو اور لو

دھبے والا چاند

دیکھ کے دھرتی خون میں

خود بھی پڑ گیا ماند

دھرتی ہو یا آسماں

فتنہ پرور ہ جہاں

تیرا کر کے ذکر

سوجاتا ہوں رات بھر

کھوجاتی ہے فکر

شب بھر تیرا روپ نگر

آجاتا ہے مجھ کو نظر

کیسے کیسے حرف

بکھرے چاروں اور جب

ہوجاتے ہیں برف

مل بیٹھیں تو بز م کہیں

جڑجاے تو نظم کہیں

ہم ہیں رشوت خور

لیتے ہیں ہم با وضو

کیسے ہوگا شور

جنتا کی سرکار ہے

نیتا کا بیوپار ہے

پروانوں کے ساتھ

جلتا جاوں رات بھر

کچھ مل جائے ہاتھ

چاند ستارے آسماں

امیدوں سے بھرا جہاں

کل یوگ ہے ،نادان

کیوں تو ہے یہ سوچتا

اپنے سب انسان

سب کے سب بے جان رے

اتنا تو پہچان لے

بس تیری تصویر

لیکر اپنے ہاتھ میں

لکھوں گا تقدیر

میری من کی پرچھائی تو

تو ہے میری جستجو

میں نے کیا محسوس

میرا سایہ میرا ہی

بنتا ہے جاسوس

آگے پیچھے چلتا ہے

میرے سنگ ہی رہتا ہے


اعزازات[ترمیم]

دو کتابوں پر کتابی انعامات اور بسٹ ٹیچر ایوارڈ مل چکے ہیں۔