عقاب

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
عقاب

عقاب نامی پرندے کی کئی اقسام پائی جاتی ہیں جو لازمی نہیں کہ ایک دوسرے سے بالکل مماثل ہوں۔ افریقہ اور یوریشیا میں عقابوں کی 60 سے زیادہ اقسام پائی جاتی ہیں۔ دیگر علاقوں میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور کینیڈا میں محض دو اقسام پائی جاتی ہیں۔ وسطی اور جنوبی امریکہ میں مزید 9 اقسام جبکہ آسٹریلیا میں 3 اقسام ملتی ہیں۔
عقاب مسلمانوں کے نزدیک بہت اہمیت کا حامل پرنده ہے۔ مسلمان اس کی لپک جھپک، تیز نگاه، پروقار اور بارعب اڑان اور اونچی پرواز کی مثالیں دیتے اور عقاب جیسا بننے کی ترغیب دیتے ہیں۔
مسلمان شعراء باقاعدہ عقاب سے تشبیهی نظمیں تحریر کرتے ہیں۔ عقاب کی انوکھی صفت یہ ہے کہ یہ پرنده بهت جلد سکھانے سے سیکھ جاتا ہے۔ اور مالک سے مکمل وفاداری نبھاتا ہے۔ برصغیر کے مسلمانوں میں برطانوی سامراج کیخلاف مسلمانوں کو انکا حق آزادی حاصل کرنے کیلیۓ ابھارنے والے شاعر انقلاب ڈاکٹر علامه محمد اقبال نے جذبه آزادی ابھارنے کے لۓ مکمل عقاب کی زندگی کا سهارا لیا.
بالآخر 14 اگست, 1947ء آزاد اسلامی ملک پاکستان مل ہی گیا.
ایک اور مسلم پاکستانی شاعر کا ہمت پر ایک بهت ہی مقبول شعر به نسبت عقاب سے که;
تندئ بادمخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑنے کے لۓ

تفصیل[ترمیم]

اپنی جسامت، طاقت، بھاری سر اور چونچ سے دیگر شکاری پرندوں سےمختلف ہے۔ چھوٹے سے چھوٹے عقاب کے پروں کی لمبائی نسبتاً زیادہ ہوتی ہے اور چوڑے پر ہوتے ہیں۔ اس کی پرواز زیادہ سیدھی اور تیز ہوتی ہے۔ عقاب کی بعض نسلیں محض نصف کلو وزنی اور 16 انچ لمبی ہوتی ہیں جبکہ کچھ اقسام ساڑھے چھ کلو سے زیادہ وزنی اور 39 انچ لمبی ہوتی ہیں۔ دیگر شکاری پرندوں کی مانند اس کی چونچ مڑی ہوئی ہوتی ہے تاکہ شکار سے گوشت نوچنے میں آسانی ہو۔ ان کی ٹانگیں زیادہ مضبوط اور پنجے نوکیلے ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ عقاب کی انتہائی تیز نگاہ اسے بہت فاصلے سے بھی شکار کو دیکھنے میں مدد دیتی ہے۔

عقابوں کے گھونسلے عموماً بڑے درختوں پر یا اونچی چٹانوں پر ہوتے ہیں۔ اکثر اقسام دو انڈے دیتی ہیں۔ تاہم پہلے پیدا ہونے والے بچے عموماً دوسرے بچے کو پیدا ہوتے ہی مار دیتے ہیں۔ عموماً مادہ چوزہ نر سے بڑی ہوتی ہے۔ والدین چھوٹے بچے کو بچانے کی کوئی کوشش نہیں کرتے۔

بیرونی روابط[ترمیم]