غیبریلا بیٹریز سباتینی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

غیبریلا بیٹریز سباتینی(ہسپانوی تلفظ: [gaˈβɾjela saβaˈtini]) ارجنٹائن کی سابق پیشہ ور ٹینس کھلاڑی ہے جو 16 مئی 1970 میں پیدا ہوئیں۔ وہ 1980 کی دہائی کے وسط سے 1990 کی دہائی کے وسط تک سرکردہ کھلاڑیوں میں سے ایک تھیں جنہوں نے اکتالیس  مقابلے جیت کر اپنے نام کیے اور سنگلز اور ڈبلز دونوں میں کیریئر کی اعلیٰ درجہ بندی حاصل کی۔

ذاتی زندگی[ترمیم]

سباتینی 16 مئی 1970 کو بیونس آئرس، ارجنٹائن میں اوسوالڈو اور بیٹریز گاروفالو سباتینی کے گھر پیدا ہوئیں۔ اس کے والد جنرل موٹرز میں اہم عہدے پر فائز تھے[1]۔ اس کا بڑا بھائی اوسوالڈو ایک اداکار اور پروڈیوسر ہے۔[2]

کیریءر[ترمیم]

سنگلز میں، غیبریلا سباتینی نے 1990 میں یو ایس اوپن، 1988 اور 1994 میں ڈبلیو ٹی اے فائنلز جیتا۔ ومبلڈن 1991، 1988 یو ایس اوپن اور 1988 کے اولمپکس میں چاندی کا تمغا جیت کر دوسرے نمبر پر رہی۔ ڈبلز میں، اس نے اسٹیفی گراف کے ساتھ 1988 میں ومبلڈن جیتا اور تین مرتبہ وہ فرنچ اوپن کے فائنل میں پہنچیں۔ غیبریلا سباتینی نے عالمی نمبر ایک کی درجہ بندی کے حساب سے کھلاڑیوں کی فہرست میں سب سے زیادہ جیت حاصل کرنے کا ریکارڈ برقرار رکھا ہے(مارچ 2022)[3]۔ 2006 میں، اسے بین الاقوامی ٹینس ہال آف فیم میں شامل کیا گیا اور 2018 میں ٹینس میگزین نے اسے پچھلے پچاس سالوں کی بیسویں عظیم ترین کھلاڑی کے طور پر درجہ دیا۔

غیبریلا سباتینی نے چھ سال کی عمر میں ٹینس کھیلنا شروع کیا اور آٹھ سال کی عمر میں اپنا پہلا ٹورنامنٹ جیتا تھا۔ 1983 میں 13 سال کی عمر میں وہ میامی، فلوریڈا میں اورنج باؤل جیتنے والی اب تک کی سب سے کم عمر کھلاڑی بن گئیں۔ اس نے ساتھی ارجنٹائنی مرسڈیز پاز کے ساتھ 1984 کے فرنچ اوپن اور یو ایس اوپن گرلز ڈبلز میں لڑکیوں کے سنگلز جیتے تھے۔ غیبریلا سباتینی اسی سال جونیئر رینکنگ میں عالمی نمبر ایک پر پہنچ گئیں اور انہیں بین الاقوامی ٹینس فیڈریشن نے 1984 کا جونیئر عالمی چیمپیئن قرار دیا۔

غیبریلا سباتینی نے بتایا کہ وہ جان بوجھ کر اپنی جوانی میں میچ ہار گئی تھی تاکہ وہ میدان میں انٹرویو سے بچ سکیں اور وہ  میڈیا کی توجہ سے راہ فرار چاہتی تھیں۔ انھوں نے کہا کہ وہ میڈیا سے بہت  شرماتی تھیں اور اس نے سوچا کہ ٹورنامنٹ کے فائنل میں کھیلنے کے بعد اسے میدان میں  صحافیوں سے بات کرنی پڑے گی لہذاوہ سیمی فائنل میں ہار جائے گی۔[4][5][6]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Gabriela Sabatini اخذکردہ بتاریخ 3 ستمبر 2016
  2. "Osvaldo Sabatini". IMDb. اخذ شدہ بتاریخ 30 جون 2020. 
  3. "2020 WTA All Time Records" (PDF). اخذ شدہ بتاریخ 9 جولائی 2020. 
  4. "Gabriela Sabatini deliberately lost tennis matches to avoid reporters!". sports.ndtv. 19 اکتوبر 2013. 2 اپریل 2015 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 27 مارچ 2015. 
  5. "Sabatini lost matches on purpose to avoid reporters". sify. 19 اکتوبر 2013. 12 اگست 2015 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 27 مارچ 2015. 
  6. "Sabatini lost matches to avoid reporters". The Times of India. اخذ شدہ بتاریخ 27 مارچ 2015.