فاطمہ شاہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ڈاکٹر فاطمہ شاہ
پیدائش 1914ء
بھیرا، پنجاب، موجودہ پاکستان
وفات 12 اگست 2002(2002-08-12)ء
کراچی، پاکستان
قلمی نام فاطمہ شاہ
پیشہ ماہرِ تعلیم ، دانشور ، سوشل ورکر
زبان اردو
شہریت Flag of پاکستانپاکستانی
تعلیم ایم بی بی ایس
مادر علمی لیڈی ہارڈنگ میڈیکل کالج ، دہلی

ڈاکٹر فاطمہ شاہ پاکستان کی نامور گائناکالوجسٹ، ماہرِ تعلیم اور سماجی کارکن تھیں ۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

فاطمہ شاہ 1914 میں پنجاب کے شہر بھیرا، پنجاب، موجودہ پاکستان میں پیدا ہوئیں۔ انکا گھرانہ بہت پڑھا لکھا تھا۔ والد پروفیسر عبد المجید قریشی علی گڑھ یونیورسٹی میں شعبہ ریاضی کے چئیر مین تھے۔[1] فاطمہ شاہ نے 1928 میں چودہ سال کی عمر علی گڑھ یونیورسٹی کی زیر نگرانی میٹرک کے امتحان میں گولڈ میڈل حاصل کیا۔ اس کے بعد لیڈی ہارڈنگ میڈیکل کالج، دہلی سے فاطمہ شاہ نے ایم بی بی ایس کیا۔ یہاں بھی انہیں میکڈونلڈ اسکالر شپ ملا۔

کیرئیر کا اآغاز[ترمیم]

فاطمہ شاہ کو ڈاکٹر کی ڈگری پالینے کے بعد لکھنؤ کے ڈفرن ہسپتال میں ہاؤس سرجن کی نوکری مل گئی۔1937 میں ان کی شادی گورکھپور ہندوستان کی ایک مشہور شخصیت جواد علی شاہ سے ہو گئی۔ انہوں نے شادی کے بعد نوکری چھوڑ دی۔ قیامِ پاکستان کے وقت وہ اپنی دو بیٹیوں کے ساتھ گھریلو زندگی ہی بسر کر رہی تھیں۔ اسی زمانہ میں وہ کچھ دنوں کے لیے پاکستان گھر خریدنے آئیں تو آزادی کی تقریبات خصوصا قائد اعظم محمد علی جناح اور لیاقت علی خان کی حلف اٹھانے کی تقریب کے لیے رک گئیں۔ بدقسمتی سے اس کے بعد اتنے ہنگامے ہوئے کہ انہیں جانے کا موقع ہی نہیں مل پایا۔[2]

1947 کے بعد انہوں نے مہاجر خواتین کی صحت اور آباد کاری کے سلسلے میں خدمات انجام دینا شروع کیں۔ انہوں نے اپوا کے تحت کام کیا اور سول ہسپتال، کراچی میں کافی عرصہ تک خدمات انجام دیں۔ 1952 میں وہ اپنی آنکھوں میں الرجی اور موتیا کے باعث دونوں آنکھوں کی بینائی سے محروم ہو گئیں۔ حالانکہ فاطمہ اس وقت ڈاکٹر کے طور پر کام کر رہی تھیں۔ لیکن ایک دن صبح چار بجے ان کی آنکھ کھلی تو انہیں لگا کہ اب وہ کبھی نہیں دیکھ پائیں گی۔ بینائی سے محرومی کے صدمہ کی وجہ سے انہوں نے لوگوں سے ملنا چھوڑ دیا۔ اسی دوران ڈاکٹر فاطمہ شاہ سے ملنے ازبیلا گرانٹ نامی ایک 60 سالہ امریکی خاتون آئیں اور انہوں نے ڈاکٹر فاطمہ شاہ کو اس بات پر راضی کر لیا کہ انہیں پاکستان میں نابیناؤں کی اپنی ایک جماعت بنانی ہو گی ۔ اور اپنی مدد کے تحت کام کرنا ہو گا۔ اس جماعت کی لیڈر فاطمہ شاہ ہوں گی۔ جو نابینا افراد کے لیے سماجی کام ( سوشل ورک ) کریں گی۔ ڈاکٹر فاطمہ شاہ کو بچپن سے ہی سوشل ورک کا شوق تھا لہذا انہیں اپنی اس صلاحیت کو آزمانے کا موقع مل گیا۔ انہوں نے اس سلسلے میں نہ صرف ملکی سطح پر ناقابلِ فراموش خدمات سر انجام دیں بلکہ بہت سے بین الاقوامی سیمینارز اور کانفرنسز میں بھی شرکت کی۔ ڈاکٹر فاطمہ شاہ نے اپنے کسی بھی سفر کے دوران کسی گائیڈ کو ساتھ نہیں لیا ۔

نابینا افراد کی بہبود کے لیے سماجی خدمات[ترمیم]

  1. ڈاکٹر فاطمہ شاہ نے 1960 میں ملک میں پاکستان ایسویسی ایشن آف دی بلائنڈ ‘‘ قائم کی۔ اور 1984 تک اس کی سربراہ رہیں ۔
  2. وہ ’’ انٹرنیشنل فیڈریشن آف دی بلائنڈ، نیویارک، امریکا ‘‘ کی بانی رکن تھیں ۔
  3. انہوں نے ڈس ایبلڈ پپلز فیڈریشن آف پاکستان ( Disabled People’s Federation of Pakistan ) کو منظم کیا۔
  4. ان کی گراں قدر خدمات کے اعتراف میں انہیں ملکہ الزبتھ کی تاجپوشی کی موقع حکومتِ برطانیہ سے پر ایم بی ای (Member of the British Empire) کا اعزاز ملا۔
  5. وہ ’ ’ ورلڈ بلائنڈ یونین ‘‘ کے علاوہ ’’فیڈرل کونسل نیشنل پارلیمنٹ ‘‘کی ممبر بھی رہیں ۔
  6. حکومت نے انہیں تربیتی کورس کرنے کے لیے امریکا بھیجا ۔
  7. ڈاکٹر فاطمہ شاہ نے اپنی جدوجہد سے پاکستانی حکومت کا یہ قانون ختم کروا دیا جس کی وجہ سے باوجود صحت مندی، ذہانت اور قابلیت کے معذور لوگ کام نہیں کر سکتے۔
  8. ڈاکٹر فاطمہ شاہ نے تعلیمی اداروں میں بریل طریقہِ تعلیم شروع کروایا ۔
  9. اس کے علاوہ ملکی اور غیر ملکی سفر کرنے والے بینائی سے محروم افراد کے کرایوں میں پچاس فیصد رعایت کی پابندی بھی کروائی ۔
  10. ایک عالمی ادارے ورلڈ بلائنڈ یونین (World Blind Union )کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا ۔
  11. ڈاکٹر فاطمہ شاہ پاکستان کی پہلی رکن دستور ساز اسمبلی تھیں جو بصارت سے محروم تھیں۔

اعزازات[ترمیم]

  1. ان سماجی فلاحی کاموں کی وجہ سے انہیں بہت سارے انعامات ملے۔ جن میں سب سے اہم تمغاِ امتیاز ہے۔ جو حکومتِ پاکستان کی طرف سے پیش کیا گیا۔
  2. انہیں سویڈن سے تاکیو ایوا ہاشی ایوارڈ ( Takeo Iwahashi Award) بھی ملا۔

خود نوشت[ترمیم]

ڈاکٹر فاطمہ شاہ کی زندگی کی کہانی ان کی کتاب میں موجود ہے جو 1990 میں انگلش میں سن شائن اینڈ شیڈوز[3]اور اردو میں دھوپ چھاؤں[4] کے نام سے شائع ہوئی ہے ۔

وفات[ترمیم]

ڈاکٹر فاطمہ شاہ طویل علالت کے بعد 12 اکتوبر 2002 کو کراچی میں انتقال فرما گئیں۔ اور ڈیفنس کے قبرستان میں ان کی تدفین ہوئی ۔

حوالہ جات[ترمیم]