فرمان الحمرا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ہسپانوی کنیسہ  میں بہن ہگاداہ  ایک دعائیہ تقریب میں "فرمان الحمرا  ہسپانوی یہودیت کو ختم کر دیگا".( 1350ء).

فرمان الحمرا  (جسے اخراج کے فتوی کے طور پر بھی جانا جاتا ; ہسپانوی: دیکریٹو  ڈی لا الحمبرا , ایڈیکٹو ڈی گرینادا) ایک شاہی فرمان اور فتوی تھا جو 31 مارچ 1492ء , سپین کے  کیتھولک فرمانرواہوں (قشتالہ کی اضابیلا  اول اور  آرآگؤن کے فرڈیننڈ  دوم ) کی طرف سے مشترکہ طور پہ جاری ہوا - جس کے مطابق یہودیت پر عمل پیرا یہود کو  قشتالہاور آراگؤن  کی ریاستوں  اور  مفتوحہ علاقوں سے اس سال 31 جولائی تک بیدخل کیا جائے .[1] اس فرمان کا بنیادی مقصد سپین کی  بہت بڑی نو مسیح آبادی پر یہود کے اثر و رسوخ کو ختم کرنا تھا اس بات کو یقینی بنانا کہ وہ دوبارہ یہودیت اختیار نہیں کریں گے،.1391 ء کے  مذہبی ظلم و ستم ، پروگروم اور منظم قتل عام کے تحت نصف سے زائد ہسپانوی یہودیوں کے مذہب کو تبدیل کر دیا گیا تھا .[2] 50,000 مزید  درج بالا مظالم کے بعد بھی جاری حملوں کے نتیجے میں 1415 تک مذہب تبدیل  کر چکے تھے .[3] مسیحی مظالم سے بچ جانے والے یہود  نے   جلاوطنی کے خوف سے مسیحیت قبول کیا . اس فرمان الحمرا کے نتیجے میں ہونے والی ظلم و ستم سے پہلے سالوںمیں 200,000 یہود کو کیتھولک مسیحیوں میں تبدیل کیا گیا جبکہ  40,000 سے ایک لاکھ  یہود کو ملک بدر کیا گیا ، جلاوطنی کے بعد آنے والے سالوں میں ایک غیر متعین تعداد کی سپین واپسی ہوئی.[4]:17

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "The Edict of Expulsion of the Jews - 1492 Spain"۔ www.sephardicstudies.org۔ اخذ شدہ بتاریخ 2017-06-27۔
  2. Perez (2012, p. 17)
  3. Jane Gerber۔ The Jews of Spain: A History of the Sephardic Experience۔ New York: The Free Press۔ صفحات 1–144۔ آئی ایس بی این 978-0029115749۔
  4. Joseph Pérez۔ History of a Tragedy: The Expulsion of the Jews from Spain (انگریزی زبان میں)۔ ترجمہ از Lysa Hochroth۔ University of Illinois Press۔ آئی ایس بی این 9780252031410۔