قاضی غلام نبی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے

قاضی غلام نبی چاولی سیال شریف کے روحانی پیشوا خواجہ شمس الدین سیالوی کے خلیفہ خاص تھے۔


قاضی غلام نبی چاولی
ذاتی
پیدائش(1230ھ بمطابق 1815ء)
چاولی چکوال
وفات(11 ربیع الاول 1343ھ)
چاولی چکوال
مذہباسلام
والدین
  • قاضی غلام مرتضی (والد)
سلسلہچشتیہ
مرتبہ
مقامچاولی چکوال
دورانیسویں بیسویں صدی
پیشروشمس العارفین

ولادت[ترمیم]

قاضی غلام نبی کی ولادت 1230ھ بمطابق 1815ء کو بمقام چاولی ضلع چکوال میں ہوئی۔ آپ کے والد محترم کا نام قاضی غلام مرتضی تھا جو اپنے دور کے جید عالم دین اور ولی کامل تھے۔ آپ کا تعلق قوم مغل کسر سے تھا۔

تعلیم[ترمیم]

قاضی غلام نبی نے دینی تعلیم اپنے والد ماجد اور دہلی میں مفتی صدر الدین آزردہ دہلوی سے حاصل کی۔ سند فراغت کے حصول کے بعد وطن مالوف چاولی تشریف لائے۔

درس و تدریس[ترمیم]

قاضی محمد عبد الباقی کے اصرار پر قاضی غلام نبی کرسال شریف میں مسند تدریس پر فائز ہوئے۔ آپ نے ساری زندگی کرسال شریف میں درس و تدریس کا سلسلہ جاری رکھا۔ قاضی محمد عبد الباقی کرسالوی کے وصال مبارک کے بعد بھی تاحین حیات کر سال میں قیام پذیر رہے۔ کرسال شریف کی غربی مسجد میں درس و تدریس کے دوران کثیر تعداد میں طلبہ آپ کی خدمت میں حاضر ہونے لگے۔ فلسفہ و معقول کی منتہی کتب مثلا حمد اللہ، قاضی مبارک، شمس بازغہ، شرح چغمینی، شرح اشارات اور صدر وغیرہ تک کتب پڑھائی جاتی تھیں۔ اس علاقہ کے بڑے بڑے فضلاء آپ کے درس سے فیض یاب ہوئے۔ علاوہ ازیں یاغستان، ہزارہ اور صوبہ سرحد کے طلباء زیادہ ہوتے تھے جو اپنے وقت کے جید عالم، مفتی اور مدرس ہو گزرے ہیں۔ ایک دو جنات کا بھی آپ سے پڑھنا ثابت ہے۔

تلامذه[ترمیم]

آپ کے تلاند ه میں مندرجہ ذیل حضرات بہت مشہور ہوئے۔

  1. مولانا غلام مصطفی ساکن مرجان تحصیل تلہ گنگ ضلع چکوال
  2. مولانا محمد ولی اللہ ساکن چک نمبر 10 جنوبی ضلع سرگودھا
  3. مولانا محمد جعفر چشتی گولڑوی ساکن چولی مدفون بھکی شریف ضلع گجرات
  4. مولانا احمد نور چشتی میروی ساکن چاولی ضلع چکوال
  5. مولانا عبد الرحمن ساکن جانگلہ تحصیل پنڈی گھیب ضلع اٹک
  6. مولانا احمد الدین ساکن جسیال تحصیل تلہ گنگ ضلع چکوال
  7. مولانا قاضی عبد الرحمن (بھتیجا قاضی غلام نبی چاولی)

بیعت و خلافت[ترمیم]

قاضی غلام نبی خواجہ شمس العارفین سیالوی کے حلقہ ارادت میں داخل تھے۔ منازل سلوک طے کر کے خرقہ خلافت کی نعمت سے سرفراز ہوئے۔

شیخ سے عقیدت[ترمیم]

قاضی غلام نبی چاولی کو اپنے شیخ طریقت سے حد درجہ عشق اور محبت تھی۔ پیادہ سیال شریف حاضر ہوتے تھے۔ خواجہ سیالوی کی بھی آپ پر نظر شفقت تھی۔

حلیہ[ترمیم]

علامہ مولانا محمد عثمان غنی چشتی میروی آپ کا سراپا اس طرح بیان کرتے ہیں: دراز قد، گندم گوں رنگ اور چہرہ نورانی اور بارعب تھا۔

لباس و خوراک[ترمیم]

قاضی غلام نبی قمیض اور تہبند استعمال کرتے تھے جو معمولی ہلدی مائل رنگ کا ہوتا تھا۔ سر پر سفید ٹوپی اور اوپر سبز رنگ کی چادر ہوتی تھی۔ پاؤں میں سادہ جوتا پہنتے تھے۔ آپ کی خوراک بہت معمولی اور سادہ ہوتی تھی۔

سیرت[ترمیم]

قاضی غلام نبی چاولی حسن اخلاق کا مجسمہ تھے۔ غریب پرور اور طلبہ کے از حد خیر خواہ تھے۔ ساری عمر قرآن و سنت کی تعلیمات پر عمل پیرا رہے۔ اپنے احوال کو پوشیدہ رکھتے تھے۔ اپنے شیخ سے و الہانہ لگاؤ تھا۔ اپنے شیخ طریقت کے قدم بقدم چلنے والے تھے۔ بڑے عابد و زاہد اور مرتاض تھے۔ مجرد زندگی بسر کی۔ زمین یا ان کی آمدنی سے قطع تعلق کیا۔ زندگی میں سب منقولہ و غیر منقولہ جائیداد اپنے چھوٹے بھائی غلام حسن کو دے دی۔ جمعتہ المبارک کو کرسال شریف سے چاولی اپنے بھائی اور ان کی اولاد کو ملنے کی خاطر جایا کرتے تھے۔ آپ کا بھتیجا قاضی عبد الرحمن بہت ہی خوش الحان واعظ تھا۔ مگر عفوان شباب میں لاولد فوت ہو گیا۔ اپنے پیچھے بیوہ چھوڑ گیا۔ قاضی عبد الرحمن کی وفات کے بعد غلام حسن نے قاضی غلام نبی سے التجا کی کہ زمین میں اپنے بھانجوں کو دینا چاہتا ہوں۔ آپ نے سخت تنبیہ کی کہ میاں! یہ زمین میرے اور تیرے بعد وارثوں کی ہے۔ ان کے حقوق ضائع کرنے کا میں تمہیں مشورہ نہیں دیتا۔ جس پر غلام حسین اس ارادے سے باز آ گیا۔

وصال[ترمیم]

قاضی غلام نبی مسجد کے جس حجرہ میں ساری عمر درس و تدریس کا مشغلہ رکھا۔ اس میں 11 ربیع الاول 1343ھ کو وفات ہوئی۔ کرسال شریف اور چاولی ہر دو گاؤں والوں کا اصرار تھا کہ آپ کا مزار شریف ہمارے پاس ہو۔ اس پر سخت جھگڑا ہوا بلکہ لوگ لڑنے پر تیار ہوگئے۔ آخر کار آبائی گاؤں چاولی والوں کے حق میں فیصلہ ہو گیا۔ جنازہ میں علاقہ کی کثیر تعداد اور خصوصا چاولی کرسال کا کوئی بالغ مرد نہ رہا جو شامل جنازہ نہ ہوا ہو۔ عینی شاہد مولانا محمد عثمان غنی چاولی خطیب جامع مسجد پھاٹک والی چکوال جو آپ کے خاندان کے ایک فرد اور آپ کے بالواسطہ شاگرد ہیں کا بیان ہے: میں جنازہ میں شامل تھا۔ جب گھر سے چار پائی اٹھائی گئی ابھی دو فرلانگ فاصلے پر ہی چارپائی گئی تھی کہ یک لخت بادل اٹھا اور قبرستان جانے سے پہلے موسلا دھار بارش شروع ہوگئی۔ لوگوں کے کپڑے بھیگ گئے۔ بارش کے نزول میں ہی نماز جنازہ پڑھی گئی۔ آپ کی ملکیت کا چار بیگھے کا ایک کڑا جو قبرستان کے بالکل متصل تھا وہ آپ کی آخری آرامگاه بنی۔ آپ کا مزار چاولی چکوال میں مرجع خلائق ہے۔ [1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. فوز المقال فی خلفائے پیر سیال جلد اول مولف حاجی محمد مرید احمد چشتی صفحہ 506 تا 509