لطیفہ

لطیفہ یا مطایبہ، جسے بھارت میں کبھی کبھی چُٹکُلا (انگریزی: Joke) بھی کہتے ہیں، مزاح کا ایک اظہار ہے جس میں الفاظ کو مخصوص اور خوش اسلوبی سے بیان ڈھانچے استعمال کیا جاتا ہے تا کہ لوگ ہنسیں اور اس بات کو سنجیدگی سے نہ لیں۔ اس کی شکل ایک کہانی کی اختیار کرتی ہے جس میں مکالمے بھی ہوتے اور ایک اختتام پر عمومًا ایک دم دار فقرہ ہوتا ہے۔یہی فقرہ ہی عوام کو اس بات سے باخبر کرتا ہے کہ کہانی میں دوسرا اور متضاد معنی بھی موجود ہے۔اس میں ذو معنی الفاظ یا ظرافت کا استعمال بھی ممکن ہے، جس میں منطقی غیر موزونیت، بے عقلی یا ذرائع کا استعمال ممکن ہے۔ مثلًا، اردو زبان میں لفظ دو کا استعمال جو عدد دو کی گنتی کا بھی اشارہ کرتا ہے اور کسی چیز کے دینے پر بھی۔ ایضًا لفظ سونا جو نینند اور ایک مخصوص دھات، دونوں کے معنے رکھتا ہے۔
مثالیں
[ترمیم]- بیوی نے شوہر سے سونے (زیور) کی گولیاں منگوائی مگر تفہیمی غلطی کی وجہ سے شوہر سونے (نیند) کی گولیاں لا دیتا ہے (ذو معنی الفاظ)۔
- اردو میں کچھ لطیفے قریب التلفظ حروف کے استعمال پر بھی ہیں، مثلًا تقریب اور تخریب۔
- لوگوں کی کم فہمی کے لطیفے بھی عام ہیں۔ مثلًا یہ لطیفہ کہ ایک صاحب سونے کی انگوٹھی سڑک پر ڈھونڈ رہے تھے جب کہ انگوٹھی گھر میں گری تھی۔ اور اس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ گھر پر اندھیرا ہے۔ اس سے لوگوں میں صحیح سوچ یا عقل کے صحیح استعمال کی کمی کی مثال کے طور پر بھی پیش کیا جاتا ہے۔
حکم
[ترمیم]اسلامی تعلیمات میں مزاح کے دوران کسی کا مذاق اُڑانا ناپسندیدہ عمل سمجھا جاتا ہے۔ خاص طور پر مقدس شخصیات اور دینی شعائر جیسے انبیا، صحابہ، دینی پیشوا، قرآن، مسجد، رمضان اور مزاراتِ اولیا کی توہین انتہائی سنگین جرم تصور کیا جاتا ہے۔ ایسے اقوال یا اعمال جو ان مقدس ہستیوں یا شعائر کی توہین پر مشتمل ہوں، کفر کے زُمرے میں آ سکتے ہیں، کیونکہ یہ دینِ اسلام کی بنیادی حرمتوں اور عقائد کی اہانت کے مترادف ہیں۔[1]
حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ مفتی احمد یار خان نعیمی، تفسیرِ نعیمی: جلد 1 (1363ھ / 1944ء) (لاہور: نعیمی کتب خانہ، 2009ء)، پارہ 1، سورت 2، فوائد 1 تا 5، صفحہ 183۔