لیبیا میں فوجی مداخلت، 2011ء

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

طرابلس ... لیبیا کے دار الحکومت طرابلس میں اتحادی افواج کے تازہ حملوں میں متعدد افراد ہلاک ہو گئے۔ معمر قذافی کے گھر کے باہر بھی دھماکے سنے گئے۔ ایک اطلاع کے مطابق معمرقذافی کا بیٹا خمیس قذافی ہلاک ہو گیا۔ اقوام متحدہ نے سلامتی کونسل کا خصوصی اجلاس بلانے کے لیے لیبیا کی درخواست مسترد کردی ہے۔ طرابلس میں اتحادی افواج نے کئی مقامات پر حملے کیے۔ معمر قذافی کی رہائش گاہ کے باہر بھی دھماکے سنے گئے سرکاری ترجمان نے بتایا کہ اتحادی افواج نے پیر کی شام لیبیا کی بندرگاہوں اور نیول بیس کے علاوہ سرت کے ایئرپورٹ پر بھی بمباری کی، ترجمان کے مطابق حملے میں متعدد افراد جاں بحق ہوئے۔ عرب ٹی وی کے مطابق اتحادی افواج نے بنغازی کے مشرق میں دو مقامات پر رڈار تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ لیبیائی فوج کی جانب سے مکمل جنگ بندی کے اعلان کے باوجود مصراتہ اور بنغازی میں مخالفین پر حملے کیے گئے، جس میں چالیس سے زاید افراد مارے گئے ہیں۔ سرکاری ترجمان نے دعویٰ کیا کہ مصراتہ شہر باغیوں سے آزاد کرالیا گیا ہے۔ امریکی صدر بارک اوباما نے ایک بار پھر کہا ہے کہ معمر قذافی کو اقتدار چھوڑنا پڑے گا،برطونوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا کہ لیبیا کو قذافی سے چھٹکارا حاصل کرنا ہوگا تاہم ان کا کہنا تھا کہ لیبیائی عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنا ہے۔ قاہرہ میں مصری ہم منصب نبیل الرابی کے ساتھ پریس کانفرنس میں روسی وزیر خارجہ سرگئی لیفروف نے لیبیا پر حملوں کو باعث تشویش قرار دیا اور کہا کہ غیر فوجی اہداف پر حملے بند کیے جائیں۔ غیر ملکی خبرایجنسی نے بتایا ہے کہ لیبیائی رہنما کا32سالہ بیٹا خمیس ہفتے کو کرنل معمرقذافی کی رہائشگاہ پر مبینہ حملے میں زخمی ہو کر انتقال کرگیا،خبر ایجنسی کے مطابق لیبیائی ایئر فورس کے پائلٹ نے مبینہ طور پراپنا طیارہ قذافی کی رہائشگاہ پر گرادیا تھا۔ سلامتی کونسل کا خصوصی اجلاس بلانے کے لیے لیبیا کی درخواست مسترد کردی گئی ہے تاہم جمعرات کو کونسل کے اجلاس میں نو فلائی زون سے متعلق قرارداد پر عملدرآمد کے بارے میں بریفنگ دی جائے گی۔

http://search.jang.com.pk/update_details.asp?nid=113874

نگار خانہ[ترمیم]