مسئلۂ فیثا غورث

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
مسئلۂ فیثا غورث۔ یہاں a قاعدہ ہے، b ارتفاع ہے اور c وتر ہے۔

ایسی مثلث جس کا ایک زاویہ عین 90 درجے کا ہو (یعنی زاویہ قائمہ ہو) اس ميں قاعدہ اور ارتفاع (یعنی اونچائی) کے مربع کا حاصل جمع اسكے وتر کے مربع کے برابر ہو گا۔ آسان الفاظ میں یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ کسی قائمۃ الزاویہ مثلث کے سب سے بڑے ضلع (یعنی وتر) کا مربع باقی دونوں ضلعوں کے مربعے کے حاصل جمع کے برابر ہوتا ہے۔ (انگریزی میں مربع اسکوائر کہلاتا ہے۔)
قائمۃ الزاویہ مثلث اس مثلث کو کہتے ہیں جس کا کوئی ایک زاویہ 90 درجے کا ہو۔ (کسی بھی مثلث کے نہ دو زاویے 90 درجے کے ہو سکتے ہیں اور نہ ہی تینوں زاویے 90 درجے کے ہو سکتے ہیں۔)

اگر کسی قائمۃ الزاویہ مثلث میں وتر پانچ فٹ لمبا ہے تو باقی دونوں ضلعے لازماً تین فٹ اور چار فٹ کے ہوں گے کیونکہ تین کا مربع (یعنی 9) اور چار کا مربع (یعنی 16) مل کر پانچ کا مربع (یعنی 25) بناتے ہیں۔

a^2 + b^2 = c^2\!\,

اسی طرح اگر ایک دیوار a تین فٹ لمبی ہے اور اس سے متصل دوسری دیوار b چار فٹ لمبی ہے اور دونوں دیواروں کے آخری سروں کے درمیانی فاصلہ c پورے پانچ فٹ کا ہے تو دونوں دیواریں a اور b ایک دوسرے سے 90 درجے کا زاویہ بناتی ہیں. راج مزدوروں کی زبان میں یہ دیواریں "گونیوں" میں ہیں یعنی قائمۃ الزاویہ ہیں۔

اس مسئلہ کا نام قدیم یونانی ریاضی دان فیثاغورث کے نام پر ہے جسے روایتاً اس مسئلے کو دریافت کرنے والا مانا جاتا ہے۔ اگرچہ اکثر یہ سوال بھی اٹھایا جاتا ہے کہ یہ مسئلہ اس سے پہلے کے لوگوں کو بھی معلوم تھا۔

حسابى طورپر[ترمیم]

اس مسئلہ کو حل کرنے کے 370 طریقے موجود ہیں۔

(قاعدہ)2 + (ارتقاع)2 = (وتر)2

(Base)^2+(Perpendicular)^2=(Hypotenuse)^2\,