مقابیس المجالس

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

مقابیس المجالس تصوف و سلوک میں مبارک ملفوظات کے مجموعے پر مشتمل ایک اہم کتاب ہے

کتاب کا نام[ترمیم]

ملفوظات خواجہ غلام فرید کا مکمل و مستند مجموعے کا نام ہے جسے اشارات فریدی کے نام سے بھی موسوم کیا جاتا ہے۔

جمع و ترتیب[ترمیم]

مقابیس المجالس کو مولانا رکن الدین نے خواجہ غلام فرید کی حیات مبارکہ کے آخری دس سال میں پانچ جلدوں میں جمع فرمایا مولانا رکن الدین خواجہ غلام فرید کے مرید و خلیفہ تھے

تحقیق و ترجمہ[ترمیم]

مقابیس المجالس کی پہلی تین جلدیں خواجہ صاحب کی وفات کے بعد بزبان فارسی 1902ء میں آگرہ میں طبع ہوئی اور چوتھی جلد 1942ء میں لاہور میں طبع ہوئی آخری جلد ابھی تک غیر مطبوعہ تھی اس کے چند قلمی نسخے قدردان حضرات کے نجی کتب خانوں کی زینت تھے مولانا الحاج کپتان واحد بخش سیال چشتی صابری نے سالہاسال کی انتھک محنت سے تمام پانچ جلدوں کو مختلف مقامات سے حاصل کرکے ان کا ترجمہ کیا اور بزم اتحاد المسلمین کی مساعی جمیلہ سے زیور طبع سے آراستہ ہوکر آچکی ہے اس کتاب کے حصہ اول میں احوال و مقامات خواجہ غلام فرید کے نام سے ایک تعارفی مقالہ بھی شامل کیا گیا ہے جس میں ان مقامات کی نشان دہی ہے جو آپ کی ولایت کے خصوصیات ہیں نیز سماع، وحدت الوجود اور وحدت الشہود۔ زیارت قبور، عرس ،فاتحہ نذر و نیاز جیسے اختلافی مسائل کو قرآن و سنت کی روشنی میں حل کیا گیا ہے۔

مقابیس کے معنی[ترمیم]

مقابیس کے معنی آگ کا شعلہ لینے ی علم حاصل کرنے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے مقابیس المجالس کے معنی ہوں گے خواجہ غلام فرید کی مجالس سے حاصل کردہ علم اس کتاب میں ہرمجلس کے احوال کے لیے مقبوس استعمال کیا اور 73 مقبوس پوری کتاب میں ہیں [1]

  1. مقابیس المجالس: الفیصل ناشران و تاجران کتب، اردو بازار لاہور