ملنسار

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

ملنساری ایک ایسا وصف ہے اگر انسان اس کوسیکھ لے اور اپنی زندگی میں شامل کر لے تو وہ اپنی زندگی کو دوسرں کے لیے خوشگوار یاد کے طور پر چھوڑ سکتا ہے اور خود اس کی زندگی خوشیوں بھری گزرسکتی ہے اللہ ہمیں یہ وصف عطا فرماءے۔ یہ وصف پیارے آقا ﷺ میں کیسا تھا کہ حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے ایک جملے میں اس کی عکاسی کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ کَانَ خُلُقُہُ الْقُرْآنَ یعنی تعلیمات قرآن پر پورا پورا عمل یہی آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے اخلاق تھے۔ حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اپنی ازواجِ مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنھن اپنے احباب، اپنے اصحاب رضی اللہ تعالیٰ عنہم،اپنے رشتے داروں،اپنے پڑوسیوں ہر ایک کے ساتھ اتنی خوش اخلاقی اورملنساری کا برتاؤ فرماتے تھے کہ ان میں سے ہر ایک آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے اخلاقِ حسنہ کا گرویدہ اور مداح تھا،خادم خاص حضرت انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کابیان ہے کہ میں نے دس برس تک سفر و وطن میں حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت کا شرف حاصل کیا مگر کبھی بھی حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے نہ مجھے ڈانٹا نہ جھڑکا اور نہ کبھی یہ فرمایا کہ تو نے فلاں کام کیوں کیا اور فلاں کام کیوں نہیں کیا؟ (1)(زرقانی جلد4 ص266) عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کہتی ہیں کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے زیادہ کوئی خوش اخلاق نہیں تھا۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ تعالیٰ عنہم یا آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے گھر والوں میں سے جو کوئی بھی آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو پکارتا تو آپ لبیک کہہ کر جواب دیتے۔ حضرت جریر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ ارشاد فرماتے ہیں کہ میں جب سے مسلمان ہوا کبھی بھی حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے مجھے پاس آنے سے نہیں روکا اور جس وقت بھی مجھے دیکھتے تو مسکرا دیتے اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اپنے اصحاب رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے خوش طبعی بھی فرماتے اور سب کے ساتھ مل جل کر رہتے اور ہر ایک سے گفتگو فرماتے اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے بچوں سے بھی خوش طبعی فرماتے اور ان بچوں کو اپنی مقدس گود میں بٹھا لیتے اور آزاد نیز لونڈی غلام اور مسکین سب کی دعوتیں قبول فرماتے اور مدینہ کے انتہائی حصہ میں رہنے والے مریضوں کی بیمار پرسی کے لیے تشریف لے جاتے۔ 1۔۔۔۔۔۔ المواہب اللدنیۃمع شرح الزرقانی ،الفصل الثانی فیما اکرمہ اللہ۔..الخ، ج6، ص 42،43