مولانا سلطان محمود

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

مولانا سلطان محمود سدوالی سیال شریف کے روحانی پیشوا خواجہ شمس الدین سیالوی کے خلیفہ خاص تھے۔


مولانا سلطان محمود سدوالی
ذاتی
پیدائش(1230ھ بمطابق 1815ء)
وفات(جمعرات 29 ربیع الثانی 1317ھ بمطابق 6 ستمبر 1899ء)
مذہباسلام
والدین
  • حافظ اللہ یار قادری (والد)
سلسلہچشتیہ
مرتبہ
مقامسدوال چکوال
دورانیسویں صدی
پیشروشمس العارفین
جانشینمولانا غلام رسول

ولادت[ترمیم]

مولانا سلطان محمود کی ولادت 1230ھ بمطابق 1815ء کو موضع سدوال ضلع چکوال میں ہوئی۔ والد ماجد کا نام حافظ اللہ یار قادری تھا۔

سلسلہ نسب[ترمیم]

مولانا سلطان محمود سدوالی کا تعلق راجپوت (چھبر موہیال) قوم سے تھا۔ آپ کا سلسلہ نسب شاہ سلیمان قادری سے ہوتا ہوا باواپرگا (بانی کریالہ <چکوال>) سے جا ملتا ہے۔ سلسلہ نسب اس طرح ہے۔

  • سلطان محمود بن حفظ اللہ یار بن شیخ بلند بن مبارک بن حبيب الله بن حمزه بن محمد آفتاب بن تاج محمود بن شخ سخی محمد سلیمان نوری حضوری قادری بن باوا چرن سنگھ بن گربخش سنگھ بن دیوان صاحب چند بن دیوان لکھی داس بن دوارکا داس بن باواپرا گا

والد ماجد[ترمیم]

سلطان محمود کے والد ماجد حافظ اللہ یار قادری بہت بڑے عالم اور مفتی تھے۔ خدا رسیدہ اور صاحب کرامت بزرگ تھے ۔ آپ کے دست مبارک کی لکھی ہوئی کتب اب بھی ان کے کتب خانہ میں موجود ہیں۔ یہ کتابیں حدیث شریف، تفسیر، سیرت، فقہ، تصوف اور تاریخ پر مشتمل ہیں۔

تعیلم[ترمیم]

سلطان محمود نے علوم متداولہ اور حدیث شریف کی تعلیم اپنے والد ماجد حافظ اللہ یار قادری سے حاصل کی۔

بیعت و خلافت[ترمیم]

مولانا سلطان محمود نے غالبا 1275ھ بمطابق 1858ء میں حضرت خواجہ شمس الحارقین سیالوی کی خدمت معلی میں حاضری دی اور شرف بیعت حاصل کیا۔ آپ زیادہ عرصہ سیال شریف میں مقیم رہے۔ ریاضت و مجاہدہ میں مصروف رہ کر سلوک کی منزلیں طے کیں اور خرقہ خلافت حاصل کیا۔

شیخ سے ارادت[ترمیم]

مولانا سلطان محمود کو اپنے شیخ طریقت سے بہت محبت تھی۔ اکثر سیال شریف حاضر ہوتے تھے اور یہ حاضری پاپیادہ ہوتی تھی۔ خواجہ سیالوی بھی آپ پر بہت مہربان تھے۔

درس وتدریس[ترمیم]

مولانا سلطان محمود نے خرقہ خلافت حاصل کرنے کے بعد اپنے شیخ طریقت کے ارشاد کے مطابق درس و تدریس اور تبلیغ و ارشاد کا سلسلہ شروع کیا۔ مقامی لوگوں کے علاوہ علاقہ چھچھ، پوٹھوار اور راولپنڈی کے کئی لوگ آپ کے علم سے مستفید ہوئے۔ آپ جملہ علوم درسیہ کی تعلیم دیتے تھے۔

تلامذه[ترمیم]

مولانا محمود کے تلامذہ کی ایک کثیر تعداد تھی جن میں چند کے نام درج ذیل ہیں۔

  1. مولانا غلام رسول (پسر)
  2. مولانا محمد نور (پسر)
  3. مولانا سید رسول موضع موہڑہ قاضی ضلع چکوال
  4. مولانا عبد العزيز موضع بھون ضلع چکوال

حلیہ و لباس[ترمیم]

مولانا سلطان محمود کا قد میانہ تھا۔ چہرہ سفید اور نورانی تھا۔ پیشانی کشادہ سر کے بال گنجان، گھنگھریالے اور لمبے تھے۔ داڑھی گھنی اور شرع کے مطابق تھی۔ سفید لباس زیب تن فرماتے جو چادر کرتے اور عمامہ مع ٹوپی پر مشتمل ہوتا تھا۔

معمولات زندگی[ترمیم]

سلطان محمود سدوالی کا درس و تدریس کے علاوہ تلاوت قرآن پاک نوافل اور اوراد و وظائف چشتیہ میں اکثر وقت گزرتا تھا۔ اکثر روزہ رکھتے تھے۔ شریعت مطہرہ پر سختی سے پابندی فرماتے تھے۔ آپ کم گو، شیریں کلام اور عاجزی و انکساری کا پیکر تھے۔ اپنے مرشد کامل کے قدم بقدم چلنے والے تھے۔ شہرت پسندی سے نفرت تھی۔ اپنے احوال کو پوشیدہ رکھتے تھے۔ طلبہ، مساکین اور مسافرین سے بہت پیار کرتے تھے اور ان کی حاجت پوری فرماتے تھے۔ فارغ اوقات میں دینی کتب اپنے دست مبارک سے لکھتے تھے۔ بہت خوش نویس تھے۔ قلی نسخہ جات ہنوز درست حالت میں موجود ہیں جن کی تفصیل حسب ذیل ہے۔

  1. وظائف چشتیہ (قلمی) مکتوب 1290ھ
  2. مرقع شريف (قلمی) مکتوب 1292ھ
  3. کشکول شریف (قلمی) مکتوب 1303ھ

کرامات[ترمیم]

مولانا سلطان محمود سدوالی صاحب کرامت بزرگ تھے۔ آپ کی کرامات کی تعداد کثیر ہے چند ایک کا ذکر درج ذیل ہے۔

  1. موضع سدوال کا ایک شخص مسمی محمد خان ولد جان خان شہون جہلم جیل میں تھا۔ اپنی رہائی کے لئے ایک بار مولانا سلطان محمود کو یاد کیا کہ اللہ کے مقبول بندے میرے لئے دعا کرو۔ دن کو یاد کیا اور دوسرے روز بری ہو گیا۔ جب گاؤں کے قریب پہنچا تو مولانا سلطان محمود اپنی زمین جو رقبہ چهبر کے نام سے موسوم ہے میں بیٹھے درس و تدریس میں مصروف تھے۔ حاضر خدمت ہوا اور ابھی کہنے والا تھا کہ آپ نے اشارے سے منع فرما دیا۔
  2. آپ کی زوجہ محترمہ اکثر رات کو آپ کے کمرہ میں روشنی اور گفتگو کی آواز سنا کرتی تھیں۔ روحانی حضرات کی آمد و رفت تمام رات رہتی۔ دریافت کرنے پر آپ اپنی زوجہ کو فرماتے کہ ان باتوں کو چھوڑو اور اللہ تعالی کو یاد کر کے سو جاؤ۔
  3. آپ کی زمین سے کوئی شخص رات کے وقت لکڑی اور گھاس وغیرہ نہیں کاٹ سکتا تھا۔ آپ کے گھر چنبیلی کا پودا تھا۔ رات کو جو شخص پھول توڑنے کے لئے آتا تو اندھا ہو جاتا تھا۔
  4. جب آپ کے وصال شریف کا وقت قریب آیا تینوں بڑے بیٹوں نے آپ سے عرض کیا کہ آپ تو ہم سے جدا ہو رہے ہیں ہماری تکلیف اور فریاد کون سنے گا؟ آپ نے جوابا فرمایا کہ آپ کو کوئی آدمی تکلیف نہیں دے سکے گا بشرطیکہ آپ اپنی زبان سے کچھ نہ بولنا۔ آگے میں جانوں اور وہ جانے۔

وصال[ترمیم]

مولانا سلطان محمود سدوالی کا وصال 29 ربیع الثانی 1317ھ بمطابق 6 ستمبر 1899ء کو بروز جمعرات ہوا۔ نماز جنازہ آپ کے پسر کلاں مولانا غلام رسول نے پڑھائی۔ مزار پر انوار موضع سدوال میں مرجع خلائق ہے۔ پختہ مزار بنا ہوا ہے

اولاد[ترمیم]

اللہ تعالی نے مولانا سلطان محمود کو چار فرزند اور دو صاجزادیاں عطا کیں جن کے اسمائے گرامی درج ذیل ہیں۔

  1. مولانا غلام رسول سدوالی (سجادہ نشین)
  2. مولانا محمد نور سدوالی
  3. مولاناسید رسول سدوالی
  4. مولانا مفتی غلام محمد سدوالی
  5. غلام فاطمہ
  6. جنت خاتون [1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. فوز المقال فی خلفائے پیر سیال جلد اول مولف حاجی محمد مرید احمد چشتی صفحہ 516 تا 520