مہسا امینی کی موت پر احتجاج

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے

مہسا امینی کی موت پر احتجاج (انگریزی: Mahsa Amini protests) ایران میں اخلاقی پولیس گشت ارشاد کی جانب سے خواتین پر جبری حجاب کے نفاذ کے طور پر دیکھا گیا ہے، جو 2022ء میں دیکھنے میں آیا۔ ایران میں اخلاقی پولیس کی حراست میں نوجوان خاتون مہسا امینی کی موت کے خلاف ہونے والے مظاہروں کے دوران پھنسے ہوئے درجنوں بچے ہلاک اور سینکڑوں کو حراست میں لیا گیا جن میں سے کچھ کو ’نفسیاتی مراکز‘ میں رکھا گیا ہے۔ ان مظاہروں سے نمٹ رہے ایران نے جہاں نوجوانوں کی بڑی تعداد خصوصاً خواتین مہسا امینی کی موت کے بعد ملک میں لباس کے حوالے سے رائج سخت قوانین کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ اٹلانٹک کونسل تھنک ٹینک میں ایرانی ماہر ہولی ڈیگریس نے جمعے کو اپنی ٹویٹ میں لکھا: ’ایرانی نوجوان جمود سے مایوس اور ناراض ہیں اور اس کا آن لائن اظہار کرنے اور حکومت کی سرخ لکیر عبور کرنے سے نہیں ڈر رہے۔‘[1]

ان مظاہروں کے دوران تشدد کے واقعات میں کم از کم 92 افراد مارے گئے ہیں۔مہسا امینی کی ہلاکت پر عرب نیوز کے مطابق ناروے میں قائم ایران کی انسانی حقوق کی تنظیم (آئی ایچ آر) نے کہا ہے کہ ایرانی حکومت نے گزشتہ دو ہفتوں کے دوران مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن میں 92 شہریوں کو ہلاک کیا ہے۔ آئی ایچ آر کے ڈائریکٹر محمود امیری مغدم نے کہا کہ ’یہ عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایرانی حکومت کے ان جرائم کی تحقیقات کرائے اور اس کو شہریوں کے خلاف مزید جرائم کے ارتکاب سے روکے۔[2]

ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے کی نشریات کو کچھ دیر کیلئے نیوز بلیٹن کے دوران ہیک کرلیا گیا، اور اس دوران ناظرین کی ٹی وی اسکرینز خامنہ ای مخالف نعروں اور حکومت مخالف احتجاج میں ماری گئی خواتین کی تصاویر دکھانے لگیں۔ ایران کے مقامی وقت کے مطابق شام چھ بجے ایک ماسک والی اسکرین پر نظر آئی اور جس کے بعد ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی شعلوں میں لپٹی ٹارگٹ زدہ تصویر دکھائی گئی۔ اس کے نیچے ”عدالت علی“ نامی مبینہ ہیکر نے لکھا، ”ہمارے ساتھ شامل ہو جاؤ اور اٹھو، ہمارے نوجوانوں کا خون تمہارے پنجوں سے ٹپک رہا ہے۔“[3]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]