نجمی ہوا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
اس تصویر میں ستارے ایل ایل جوزا سے نکلنے والی صدماتی خم (روشن کمان) اس وقت دیکھی جا سکتی ہے جب وہ اپنے پیچھے موجود کسی چیز سے ٹکراتی ہے

نجمی ہوا ستارے کے بالائی کرۂ فضائی سے گیس کے نکلنے والے بہاؤ کو کہتے ہیں۔ اس کو دو قطبی بہاؤ جو ایک نوجوان ستارے کی کم متوازن خصلت ہوتی ہے اس سے الگ سمجھا جاتا ہے، اگرچہ نجمی ہوائیں عام طور پر کروی متشاکل نہیں ہوتیں۔

مختلف قسم کے ستاروں کی مختلف قسم کی نجمی ہوائیں ہوتی ہیں۔

مابعد اہم سلسلے کے ستارے اپنی عمر کے اختتام کے قریب اکثر بڑی تعداد میں سست رفتار ہواؤں کی صورت میں کمیت کا اخراج کرتے ہیں۔ اس میں سرخ دیو اور فوق دیو اور متقاربی دیو شاخوں کے ستارے شامل ہیں۔ یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ ہوائیں اس وقت پیدا ہوتی ہیں جب ستاروں کے بالائی کرۂ فضائی میں تکثیف دھول میں تابکاری دباؤ بناتی ہے۔[1]

 O اور B قسم کے ضخیم ستاروں میں نجمی ہوائیں کم کمیت اور کم کھونے کی شرح سے  تاہم بلند سمتی رفتار سے چلتی ہیں ۔ یہ ہوائیں بھاری عناصر جیسے کاربن اور نائٹروجن کی گمکی جذبی خطوط پر پڑنے والے تابکاری کے دباؤ سے پیدا ہوتی ہیں۔[2] یہ بلند توانائی کی نجمی ہوائیں  نجمی ہوائی بلبلوں کو اڑا دیتی ہیں۔

سیاروی سحابیہ NGC 6565 طاقتور  نجمی ہوا کے بعد ستارے سے ایک گیس کا بادل  نکال رہا ہے۔[3]

جی قسم کے ستارے جیسا کہ زمین کا سورج ہے ان کی ہوائیں ان کے گرم مقناطیسی غلاف کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔ سورج کی ہواؤں کو شمسی ہوا کہتے ہیں۔  یہ ہوائیں زیادہ تر بلند توانائی کے الیکٹران اور پروٹون  پر مشتمل ہوتی ہیں  جو غلاف کے  بلند درجہ حرارت کی وجہ سے  ستارے کی  قوّت ثقل سے فرار ہونے کے قابل ہوتی ہے ۔

اہم سلسلے کے ستاروں کی نجمی ہوائیں کم کمیت کے ستاروں جیسا کہ سورج ہے، کے ارتقا پر زیادہ اثر انداز نہیں ہوتیں۔ بہرحال ضخیم  O قسم کے ستاروں کے لیے کمیت میں کمی ستارے کی کمیت کو اہم سلسلے کے دوران  50 فیصد تک کم  کر سکتا ہے اور اس عمل کی ستاروں کے بعد میں ارتقا پر زبردست اثر ہوتا ہے۔ اس اثر کو درمیانی کمیت کے ستاروں پر زیادہ بہتر طور پر دیکھا جاسکتا ہے جو اپنی عمر کے اختتام تک  بجائے نوتارا بن کر پھٹنے کے سفید بونے بنتے ہیں اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ وہ اپنی کافی کمیت اپنی ہواؤں کی صورت میں کھو دیتے ہیں۔   

مزید دیکھیے [ترمیم]

حوالہ جات [ترمیم]

  1. "دھول کے غلاف"۔ نجمی طبیعیات۔ ایسٹرو فزیکل انسٹی ٹیوٹ پوٹس ڈیم۔ حاصل کردہ 7 اپریل 2014ء
  2. کیسٹر، جے؛ ایبٹ، ڈی سی؛ کلین، آر آئی (1975ء)۔ "O ستاروں میں تابکاری سے پیدا ہونے والی ہوائیں"۔ ایسٹرو فز جے 195: 157–174. Bibcode:1975ApJ...195..157C. doi:10.1086/153315
  3. "لمبا خدا حافظ"۔ حاصل کردہ 27 جولائی 2015ء