پائیدار ترقی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
2015ء میں منائے جانے والے اوزون دن کا مقصد اوزون پرت کو ہورہی صنعتی آلودگی سے نقصان کی جانب دنیا کی توجہ کو مرکوز کرنا ہے۔

2015پائیدار ترقی (انگریزی: Sustanable development) کا تصور میں یہ بات مضمر ہے کہ اس سے ماحولیات کو کوئی نقصان نہ ہو ۔ ماحولیات کا تحفظ بنا رہے۔ اسکے لئے لوگوں میں بے داری اور لوگوں کی نفسیاتی ذمیدار ہے ۔ ترقی کے نام پر کوئی سرگرمی ایسی نہ ہو ، جس سے ماحولیات کو کوئی نقصاان پہنچے ۔صنعت کاروں کے ذریعے ماحولیات کو کوئی ضرر نہ ہو اسکا بھی دھیان رکھنا ہوگا ۔ اسکے لئے ضروری ہے کہ لوگوں کی سوچ بدلے ۔ فکری انقلاب میں جو عوامل معاون ہو نگے ، وہ ہیں:

انسانی وسائل کی ترقی سے جڑی سرگرمیوں کو فعال کرتے وقت ان عوامل پر خاص توجہ کی ضرورت ہے ۔ ضرورت ہے کہ ترقی کے ساتھ سماج کے ڈھانچے کو متوازن رکھا جائے ۔

بھارت کی صورت حال[ترمیم]

چونکہ دو تہائی فیصد بھارت کی آبادی آج بھی زراعت پر مائل ہے ۔ اس لیے پائیدار ترقی کے لئے یہ ضروری ہے کہ جو قدرتی وسائل کم ہو رہے ہیں ان کے اضافے یا بازیابی کی کوشش ہو اور قدرتی وسائل اپنی وہبی صفات سے قائم رہیں ۔ اسکے علاوہ یہ بھی ضروری ہے کہ جہاں قدرتی وسائل پرکم مقدار میں پائے جاتے ہیں وہاں مقامی قدرتی وسائل کا استعمال کیا جائے اور حسب موقع روایتی طریقوں کا کا بھرپور فائدہ اٹھایا جائے ۔

ماحولیات اورترقی کے بیچ اٹوٹ رشتہ ہے ۔ ماحولیات کے اور وسائل کے لگاتار کم ہونے کی صورت حال میں ترقی جاری نہیں رہ سکتی اوراگر ترقی کے دوران ماحولیات کے مسائل کو اَن دیکھا کیا گیا تو ماحولیات کا تحفظ نہیں ہوگا ۔ ماحولیات کے مناسب انتظام اور ترقی کو دائمی بنائے رکھنے کی ناکامی سے انسانی وجود کو خطرہ ہو گیا ہے[1] ۔ یہی وجہ ہے گنگا جیسی مقدس مانے جانے والی ندی کا پانی اب پینے لائق نہیں ہے۔ اس طرح سے بھارت کے کئی جنگلات اور آبی وسائل اب مفقود ہوچکے ہیں۔

غیر روایتی ذرائع پر زور[ترمیم]

حال کے سالوں میں بھارت سرکار توانائی اور زراعت کے شعبوں میں غیر روایتی ذرائع کے استعمال پر زور دیتے آئی ہے۔[2]

پاکستان میں پائیدار ترقی کا منصوبہ[ترمیم]

اسلام آباد میں قائم ادارہ برائے پائیدار ترقی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر عابد سلہری کا اکتوبر 2015ء میں کہنا تھا کہ سیاسی عزم کی کمی، اقتصادی عدم استحکام، امن وامان کی خراب صورتحال وہ بڑی وجوہات ہیں جن کی وجہ سے پاکستان میں اقوام متحدہ کے ہزاریہ اہداف برائے پائیدار ترقی پر عمل نہیں کیا جا سکا۔ انہوں نے کہا کہ اب سیاسی استحکام کی وجہ سےملک اپنی ترقی کے ایجنڈے پر چل رہا ہے۔اس سلسلے میں اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد زیادہ تر معمالات اب صوبوں کے ہاتھوں میں چلے گئے ہیں تو سب سے اہم یہ ہو گا کہ وفاق پائیدار ترقی کے منصوبوں کے نفاذ کے لیے صوبوں کو ساتھ لے کر چلتا ہے۔[3]

اقوام متحدہ کا موقف[ترمیم]

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کئی اہداف کے حصول میں پیشرفت کے باوجود کم ترقی یافتہ ممالک، ساحل سمندر نہ رکھنے والے ترقی پزیر ممالک اور چھوٹے جزائر پر مشتمل ممالک سمیت ترقی پزیر ممالک کو مشکل حالات کا شکار ہونے ہوئے ہیں، جس کے لیے خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔[4]

حوالہ جات[ترمیم]