چاند کا اک سفر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

{{خانہ معلومات فلم | name = چاند کا اک سفر | image = Voyage dans la lune title card.png | caption = عنوان | director = جارجز میلیز | producer = جارجز میلیز | writer = جارجز میلیز | based on = "فرام دا ارتھ ٹو دا مون" اور "اراؤنڈ دا مون" از جولیس ویمے  | starring = * جارجز میلیز

  • بلویٹ برنون
  • فرانکوئس لالمنٹ
  • ہنری ڈیلونی

| cinematography = * تھوفل مشالٹ

  • لیوسن ٹینگوئے

| studio = سٹار فلم کمپنی | released = 1 ستمبر 1902 (فرانس)  4 اکتوبر 1902 (امریکہ) | runtime = * 260 میٹر، 845 فٹ

  • 18 منٹ (12 فریم فی سیکنڈ)
  • 16 منٹ 14 فریم فی سیکنڈ)نقص حوالہ: Closing </ref> missing for <ref> tag

 ۔یہ فلم میلیز کی سینکڑوں فلموں میں سب سے بہترین قرار دی جاتی ہے خاص طور پر وہ لمحہ جب خلا بازوں کا کیپسول چاند پراترتا ہے۔ اس تصویر (جس میں یوں محسوس ہوتا ہے جیسے چاند ایک انسانی چہرہ ہو اور اس کی آنکھ میں کوئی چیز دھنس گئی ہو)  کو سینما اور خاص طور پر سائنس فکشن فلموں کے حوالے سے یادگار نشانی سمجھا جاتا ہے۔ اسے سائنس فکشن فلم کے زمرہ میں پہلی مثال لیا جاتا ہے اور کا شمار سینما کی تاریخ کی سب سے متاثر کن فلموں میں ہوتا ہے۔

پلاٹ[ترمیم]

"مین ان دا مون" ایک معروف تصویر

خلابازوں کے اجلاس کے دوران پروفیسر باربن فولیز چاند کے سفر کی تجویز پیش کرتا ہے جسے تھوڑی رد قدح کے بعد قبول کر لیا جاتا ہے۔پانچ دیگر خلاباز ناسٹرے ڈیمس، ایلکوفوریسبس، اومیگا، مائیکرومیگا اور پیرافیراگیرامس سفر پر جانے کے لیے متفق ہوتے ہیں۔ وہ ایک خلائی بندوق کی گولی کی شکل کا بہت بڑا خلائی کیپسول تیار کرتے ہیں  جسے ایک توپ کے ذریعے پھینکا جاتا ہے۔ یہ توپ "میرین" چلاتے ہیں جن کی اکثریت خواتین پر مشتمل ہوتی ہے۔ یہ دکھایا گیا ہے کہ چاند ایک بڑا سا انسانی چہرہ ہے۔ یہ کیپسول اس کی آنکھ میں جا کر لگتا ہے۔

چاند پر محفوظ طریقے سے اترنے کے  بعد خلا باز کیپسول سے باہر آتے ہیں (وہ خلائی لباس نہیں پہنتے)۔ اور چاند سے زمین کو طلوع ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ چونکہ وہ ایک طویل سفر سے تھک جاتے ہیں اس لیے اپنے بستر بچھاتے اور سو جاتے ہیں۔ایک دم دار ستارہ ان کے پاس سے گزرتا ہے۔ اس کے بعد سات ستاروں کا ایک جھنڈ آتا ہے جس میں سے بوڑھا مشتری کھڑکی کھولتا ہے اور چاند کی دیوی فوبیز باہر آتی ہے اور چاند پر برفباری کرتی ہے جس کی وجہ سے خلا باز جاگ جاتے ہیں اور پناہ کے لیے ایک غار میں گھس جاتے ہیں۔ یہاں انہیں ایک بہت بڑی کھمبی ملتی ہے۔وہ اس کی چھتری کھولتے ہیں تو اس کی اپنی جڑ بن جاتی ہے اور وہ  بھی ایک بہت بڑی کھمبی بن جاتی ہے۔

اسی وقت ایک  سیلینائٹ (خلائی مخلوق کا مترادف لفظ جسے  چاند کی یونانی دیوی سیلنے کے نام سے اخذ کیا گیا)  ظاہر ہوتا ہے جسے خلاباز باآسانی مار دیتے ہیں لیکن سیلنائٹ میں یہ خاصیت ہوتی ہے کہ اگر اسے مارا جائے تو دھماکے سے پھٹ جاتا ہے۔دھماکے کی آواز سے بہت سے سیلینائٹ آجاتے ہیں جن کا مقابلہ کرنا خلابازوں کے لیے بہت مشکل ہوتا ہے اور وہ گھر جاتے ہیں۔ سیلینائٹ خلابازوں کو گرفتار کرکے اپنے بادشاہ کے دربار میں لے جاتے ہیں جہاں ایک خلاباز بادشاہ کو تخت سے اٹھا کر پٹخ دیتا ہےاور بادشاہ دھماکے سے پھٹ جاتا ہے۔

خلاباز وہاں سے بھاگتے ہیں اور اپنے کیپسول میں واپس آتے ہیں۔پانچ خلاباز کیپسول میں داخل ہوتے ہیں اور چھٹا یعنی پروفیسر باربن فولیز باہر رہتا ہے اور کیپسول کو چٹان کے کونے سے خلامیں دھکا دیتا ہے۔ سلینائٹ آخری لمحے تک انہیں روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔اسی کوشش میں ایک سیلینائٹ بھی چاند سے گر جاتا ہے۔ کیپسول اور سیلینائٹ سمندر میں گرتے ہیں جہاں ایک بحری جہاز کے ذریعے انہیں ساحل تک لایا جاتا ہے۔یہاں پہنچ کر فلم کا کچھ حصہ مکمل نہیں ہیں لیکن آخر میں یہ دکھایا جاتا ہے کہ خلابازوں کے لیے ایک تقریب منعقد کی گئی ہے جس میں اس سیلینائٹ کو بھی رکھا گیا ہے جو چاند سے آیا ہے۔ اور ان کا یادگاری مجسمہ بھی بنایا گیا ہے جس پر" محنت میں عظمت" کندہ تھا[ا]

کاسٹ[ترمیم]

Georges Méliès

جس زمانے میں یہ فلم بنائی گئی تھی اس وقت اداکاروں یا فلم میں کام کرنے والے دیگر افراد کی فہرست فلم کے شروع یا آخر میں دینے کا رواج نہیں تھا[2] یہی وجہ ہے کہ فلم میں فنکاروں کا کسی قسم کا تعارف موجود نہیں تھا۔ تاہم درج ذیل معلومات جو دیگر ذرائع ملی ہیں۔

  • پروفیسر باربن فولیز  کا کردار اداکرنے والے میلیز[2][2]   پہلے ہی ایک معروف فلمی شخصیت تھے۔ اس فلم سے پہلے انہوں نے 1899 میں سینڈریلا اور پھر 1900 میں جون آف آرک سے شہرت حاصل کی۔ ان کا شمار فرانسیسی فلمی صنعت کے بانیوں میں ہوتا ہے[2] ۔ وہ پیشے کے لحاظ سے شعبدہ باز تھے۔ وہ بیک وقت ہدایت کار، پیش کار، مصنف، ڈیزائنر، ٹیکنیشن، مدیر اور اداکار تھے.[2] ۔میلیز نے خود اپنی  تخلیقات کے بارے میں کہا "میرے خیالات سمجھنا مشکل تھا یہی وجہ تھی کہ میں نے اپنی بہت سی فلموں میں اہم کردار خود ادا کیے۔ میں ایک ستارہ تھا لیکن مجھے اس کا احساس نہیں تھا کیونکہ اس  وقت فلمی دنیا میں ستارے نہیں تھے[2] "۔ایک اندازے کے مطابق میلیز نے اپنی 520 فلموں میں سے 300 فلموں میں اداکاری کی[2]۔
  • بلویٹ بنونے بطور فوبے (چاند پر دیوی کے کردار میں)۔ میلیز نے انہیں 1890 کی دہائی میں اس وقت دریافت کیا جب وہ کبیرے لا اینفر میں بطور گلوکارہ کام کررہی تھیں۔ انہوں نے میلیز کے ساتھ فلم "سینڈریلا" میں بھی کام کیا تھا
    [2]
  • فرانکوئس لالمنٹ نے میرینز کے افسر کے طور پر کام کیا۔ وہ اصل میں سٹار فلم کمپنی نامی ادارے میں بطور کیمرا مین کام کرتے تھے
  • ہنری ڈلونی نے راکٹ کے کپتان کو کردار نبھایا
  • جولس یوجین  نے پریڈ لیڈر کا کردار ادا کیا۔ وہ میلیز کے ساتھ بطور شعبدہ باز کرم کرتے تھے[2]
  • وکٹر آندرے، ڈیلپیری، فارجاکس، کلم اور برونٹ نے بطور خلاباز کام کیا۔ آندرے تھیٹر ڈی کلونی میں کام کرتے تھے جبکہ دیگر گلوکار تھے.[3]
  • تھیٹر ڈی شارلے کے بیلے نے بطور ستارہ کام کیا۔ اور  انہی نے توپ چلانے والے عملے کا کردار بھی نبھایا۔[2]
  • فولیس برجرے کے شعبدہ بازوں نے سیلینائٹ کے طور پر کام کیا

تیاری[ترمیم]

  1. Frazer 1979، صفحہ۔ 98
  2. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج چ ح خ [[#CITEREF|]]
  3. [[#CITEREF|]]: "I remember that in "Trip to the Moon," the Moon (the woman in a crescent,) was Bleuette Bernon, music hall singer, the Stars were ballet girls, from theatre du Châtelet—and the men (principal ones) Victor André, of Cluny theatre, Delpierre, Farjaux—Kelm—Brunnet, music-hall singers, and myself—the Sélenites were acrobats from Folies Bergère."

تحریک[ترمیم]

جیکوئس آفن بیچ کی تیار کردہ"چاند کا اک سفر" کی سٹیریو سکوپ تصویر

1930 میں میلیز سے بنیادی خیال کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ مرکزی خیال جولیس ویمے کے دو ناول "فرام دا ارتھ ٹو دا مون(1865)" اور "اراؤنڈ دا مون(1870)" سے لیا گیا۔ فلمی تاریخ دان اور فرانسیسی مصنف جاجرز سیڈول کے مطابق کچھ حصہ ایچ جی ویلز کے "دا فرسٹ مین ان دا مون (1901)" سے بھی لیا گیا جس کا فرانسیسی ترجمہ فلم کی نمائش سے چند ماہ پہلے ہی شائع ہوا تھا۔۔ سیڈول کے مطابق فلم کا پہلا آدھا حصہ جس میں کیپسول کو توپ کے ذریعے چھوڑا جاتا ہے ویمے کے ناولوں کا ہے جبکہ چاند پر پیش آنے والے واقعات ویلز کی کہانی سے متاثر ہیں۔[1]

فلمی نقادوں کے مطابق میلیز کو کئی تحریروں سے تحریک ملی جس میں ویمے کے ناولوں کے علاوہ آفن بیچ کے "لی وائج ڈانز لا لیون (چاند کی جانب ایک سفر) اور "اے ٹرپ ٹو دا مون ایٹریکشن (1901)" پیش کردہ "پان امریکن ایکسپوزیشن" بیفلو نیویارک اہم ہیں[1][1] ۔ایک اور فرانسیسی فلمی مؤرخ تھیری لیفیب ور کے مطابق بھی میلیز کا کام کئی جگہوں سے لیا گیا تھا جن میں "اے ٹرپ ٹو دا مون، مون لینڈنگ، این انکاؤنٹر ودھ ایکسٹرا ٹریشیلز، این انڈرگراؤنڈ ٹریک، این انٹرویو ودھ دا مین ان مون اور بروٹل ریٹرن ٹو رئیلٹی بیک آن ارتھ" وغیرہ شامل ہیں۔بہت سی چیزیں  "اے ٹرپ ٹو دا مون ایٹریکشن " سے لی گئی ہیں جنہیں دیگر ذرائع سے حاصل کردہ کہانیوں سے جوڑا گیا ہے جن میں چھ خلابازوں کا سفر جن کے نیم سائنسی نام، توپ کا تصور جس کے ذریعے کیپسول کو چاند کی جانب پھینکا گیا اور چاند میں انسانی شکل، چاند پر برفانی طوفان، زمین کا طلوع ہونا اور جناتی کھمبی جو آفن بیچ کے اوپریٹا کی ہیں.[1]

فلم[ترمیم]

میلیز(بائیں) سٹوڈیو میں جہاں "چاند کا اک سفر"کو فلمایا گیا تھا

سائنسی مصنف ران ملر کے مطابق یہ فلم میلیز کا سب سے پیچیدہ اور مشکل کام ہے۔ اس سلسلے میں میلیز نے اپنی تمام تر صلاحیتیں صرف کیں ہر وہ چیز جو اس نے سیکھی اور ایجاد کی اس فلم میں شامل کی [2]۔ یہ اس وقت کے لحاظ سے میلیز کی طویل ترین فلم تھی[ب] فلم بندی اور اس کی لاگت بھی اپنے وقت کے لحاظ سے شاہانہ تھی۔ اس وقت اس پر دس ہزار فرانک لاگت آئی تھی جبکہ یہ تین ماہ کے عرصے میں مکمل ہوئی تھی[1] [1] کیمرا مین تھیوفیلے میشالٹ اور لوسین ٹینگوئے سٹار فلم کمپنی کے تنخواہ دار ملازم تھے یہ لوگ فلم کی عکس بندی کے علاوہ دیگر چھوٹے موٹے کام بھی کرتے تھے جن میں سیٹ بنانے سے لے کر فلم کی تدوین بھی شامل ہیں۔ فرانکوئس لالیمنٹ جنہوں نے فلم میں میرین افسر کا کردار بھی ادا کیا ایک کیمرا مین تھے[1] ۔میلیز نے مختلف جگہوں پر کام کرنے والے باصلاحیت افراد کو منتخب کیا اور انہیں دیگر کے مقابلے میں بہت عمدہ مراعات دیں جن میں مالی فواید کے علاوہ مفت کھانا بھی شامل تھا[1]

میلیز نے اپنا سٹوڈیو 1897 میں مونٹریل شین سینٹ ڈینس میں تعمیر کرایا تھا۔[1] یہ مکمل طور پر شیشے کی بنی ہوئی گرین ہاؤس کے طرز کی عمارت تھی تاکہ اس میں زیادہ سے زیادہ روشنی آسکے۔ ا1860 میں بننے والے فوٹوگرافی سٹوڈیوز ایسے ہی تعمیر کیے جا رہے تھے۔ اس کا حجم میلیز کے ہی تعمیر کردہ ای اور سٹوڈیو ٹھیٹر رابرٹ ہوڈن (13.5 ضرب 6.6 میٹر) رکھی گئی تھی[6] ۔فلم کی عکس بندی باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت دن اور شام کے اوقات میں کی گئی تاکہ حقیقت کے قریب چیزوں کو فلمایا جاسکے۔

ورکشاپ کا سیٹ جس میں شیشے کی چھت بھی اسٹوڈیو میں موجود ہے

کے مطابق Méliès کی یادیں ، بہت سے غیر معمولی قیمت کے لیے ایک سفر ، چاند کی وجہ سے تھا ، میکانکی آپریشن درشیاولی اور Selenite ملبوسات خاص طور پر بنایا گیا تھا جس میں فلم کے لیے استعمال گتے اور کنوس. Méliès خود sculpted prototypes کے لیے سر ، پاؤں اور kneecap کے ٹکڑے ٹکڑے میں مٹی cotta اور اس کے بعد پیدا پاستر سانچوں کے لیے ان کے. میں ایک ماہر ماسک بنانے کے استعمال کیا جاتا ہے ان سانچوں پیدا کرنے کے لیے گتے ورژن اداکاروں کے لیے پہننے کے لیے.نقص حوالہ: افتتاحی ٹیگ <ref> ناقص ہے یا پھر نام درست نہیں ایک کا بیک ڈراپ کے لیے فلم دکھا کے اندر گلاس-roofed ورکشاپ ہے جس میں خلائی کیپسول بنایا گیا ہے, پینٹ کیا گیا تھا کی طرح نظر کے لیے اصل گلاس-roofed سٹوڈیو جس میں فلم کے بنایا گیا تھا.نقص حوالہ: افتتاحی ٹیگ <ref> ناقص ہے یا پھر نام درست نہیں

سٹائل[ترمیم]

Uncropped production still from the film, showing the edges of the backdrop and the floor of the studio
The scene as it appears in the hand-colored print of the film

حوالہ جات[ترمیم]

نوٹ[ترمیم]

اقتباسات[ترمیم]


نقص حوالہ: "lower-alpha" نام کے حوالے کے لیے ٹیگ <ref> ہیں، لیکن مماثل ٹیگ <references group="lower-alpha"/> نہیں ملا یا پھر بند- ٹیگ </ref> ناموجود ہے

  1. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج چ ح نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ Ezra13 نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  2. Special Effects: An Introduction to Movie Magic
  3. ^ ا ب نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ fps نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  4. Cook 2004، صفحہ۔ 15
  5. Malthête & Mannoni 2008، صفحہ۔ 285
  6. [[#CITEREF|]]; dimensions from [[#CITEREF|]]