ڈل جھیل

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

وادی کشمیر کی ایک جھیل۔ سری نگر کا شہر اسی کے کنارے آباد ہے۔ دنیا کی چند ممتاز سیرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔ چونکہ دریائے جہلم اس کے بیچ سے ہو کر نکلتا ہے اس لیے اس کا پانی شریں ہے۔


سرینگر شہر کے بیچ 25 مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلی اس جھیل میں دلہن کی طرح سجائی گئی ہاؤس بوٹس اور شکارے اس کی خوبصورتی کو چار چاند لگا دیتے ہیں۔

ڈل جھیل کو دنیا بھر میں اس خطے کی پہچان سمجھا جاتا ہے اور یہ عالمی شہرت یافتہ جھیل موسمِ گرما میں سیاحوں اور مقامی لوگوں کی چہل پہل سے کِھل اٹھتی تھی مگر اب ایک ماہ ہونے کو آیا ہے جھیل پر طاری خوفناک سناٹا ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا، ایسے میں دلکش جھیل ڈل بھی اداس معلوم ہوتی ہے۔

غیر ملکی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے بزرگ کا کہنا تھا کہ شام کے اوقات میں تو یہ جھیل ایک وسیع قبرستان کی مانند لگتی ہے اور اس میں موجود ہاؤس بوٹ ساکت قبروں کی طرح دکھائی دیتی ہیں۔

بزرگ شہری کا کہنا تھا کہ اسی جھیل کے شمال میں واقع اور حکومت کی زیر سرپرستی چلنے والا ہوٹل اور کانفرنس سینٹر ایس کے آئی سی سی میں ہند نواز رہنما مقید ہیں۔

ہری نواس اور چشمہ شاہی کے گیسٹ ہاؤس بھی جھیل ڈل کے مشرقی کنارے پر واقع زبرون پہاڑی سلسلے پر واقع ہیں اور اب ان مقامات کو سرکاری حکم نامے کے تحت سب جیل قرار دیا گیا ہے۔

ڈل جھیل میں ہاؤس بوٹ مالکان اور شکارا چلانے والوں کا کہنا ہے کہ یہ جھیل 2012ء میں سیاحوں، مقامی سیلانیوں اور بچوں کی موجودگی سے چہک رہی تھی تاہم سنہ 2013ء میں افضل گورو کی تہاڑ جیل میں پھانسی کے بعد حالات کشیدہ ہوئے

کشمیر میں ہاوس بوٹ نا صرف اس خوبصورت جھیل ڈل کا زیور ہیں بلکہ یہ کشمیر کی دستکاری کا بھی نمونہ ہیں۔ دیودار کی لکڑی سے بنا ہاوس بوٹ ایک چھوٹے بحری جہاز کی طرح ہوتا ہے جس میں ہوٹل کی طرح کمرے اور اوپر ایک دالان ہوتا ہے۔ لکڑی پر خوبصورت اور دلکش نقاشی کی جاتی ہے اور سیاح ہاؤس بوٹ میں رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

1880ء کی دہائی میں نارائن داس نامی ایک کشمیری تاجر کی دکان آگ سے تباہ ہو گئی تو ااس نے جھیل ڈل میں کشتی کو دکان کی شکل دے دی، جس میں وہ رہنے بھی لگے۔بعد میں جب اس وقت کے ڈوگرہ مہاراجہ نے غیر کشمیریوں کے وادی میں زمین یا مکان خریدنے پر پابندی عائد کردی تو انگریزوں کو مشکلات پیش آئیں۔نارائن داس نے اپنی کشتی ایک انگریز کو فروخت کر دی۔ اس طرح کشمیر کا پہلا ہاؤس بوٹ وجود میں آیا جس کا نام 'کشمیر پرنسیس ' رکھا گیا۔ نارائن داس کو جب لگا کہ یہ منافع بخش کام ہے تو اس نے ہاو¿س بوٹ بنوانے شروع کیے اور انگریز انہیں خریدتے گئے کیونکہ مہاراجا کے قانون کا اطلاق پانی پر نہیں ہو سکتا تھا۔ نارائن داس کشمیر میں 'ناﺅ نارائن ' کے نام سے مشہور ہو گئے۔ایک صدی سے زیادہ عرصے سے ہاؤس بوٹ عالمی شہرت یافتہ ڈل جھیل کے حسن اور دلکشی کی علامت بنے ہوئے ہیں

بیرونی روابط[ترمیم]