کم میعادی حافظہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

کم میعادی حافظہ (انگریزی: Short-term memory) جسے کبھی کبھار ابتدائی حافظہ (انگریزی: Primary memory) اور فعال حافظہ (انگریزی: Active memory) بھی کہا جاتا ہے، ایک صلاحیت ہے جس کے ذریعے دماغ میں موجود مختصر معلومات کو بغیر کسی رد و بدل کے فوری دست یاب حالت میں کم وقت کے لیے محفوظ کیا جا سکتا ہے۔ کم میعادی حافظہ کی ایک مثال کسی کے دماغ میں اس فون نمبر کا تھوڑی سے دیر کے لیے یاد رکھنا ہے جس پر کہ ابھی ابھی بات کی گئی تھی۔ کم میعادی حافظے کا دورانیہ (جب کہ بہ طور خاص کسی بات کو دماغ میں محفوظ رکھنے کی دانستہ کوشش نہ کی گئی ہو)، چند سیکنڈوں پر مشتمل ہے۔ ایک عام طور سے حوالہ دی جانے والی صلاحیت جادوئی ہندسہ سات، جمع یا منہا دو ہے (جسے اکثر میلر کا قانون بھی کہا جاتا ہے)، باوجود اس کہ میلر نے خود یہ بیان کیا ہے کہ عدد کا مقصد "لطیفے سے کچھ زیادہ" (میلر، 1989ء، صفحہ 401) کا ارادہ تھا اور کوآن (2001ء) نے ایک اور زیادہ حقیقت پسندانہ عدد 4±1 اکائیاں پیش کر چکا ہے۔ اس کے بر عکس طویل میعادی حافظہ معلومات کو غیر معینہ حد تک تک محفوظ رکھ سکتا ہے۔

کم میعادی حافظے کو کار گزار حافظے ممتاز کیا جا سکتا ہے، جو ان ڈھانچوں اور طریقوں کا نام ہے جو عارضی طور پر معلومات کو محفوظ رکھتا ہے اور ان میں رد و بدل بھی کر سکتا ہے۔

علامات[ترمیم]

کم میعادی حافظے کی علامات میں مختصر مدت کے بعد حافظے سے کسی بات کا غائب ہونا، بات چیت اور سننے سمجھنے میں رکاوٹ آنا، مرکوزیت کی صلاحیت کا نہ ہونا، توجیہ اور فیصلہ سازی کی کمی اور کبھی بصارت کی تفہیم میں مسائل کا رو نما ہونا ہے۔[1]

تعمیلی صورتیں[ترمیم]

کسی سادہ الجبرائی مسئلے کو سلجھانے کے لیے بصارت کے ایک حصے کو کام میں لایا جاتا ہے— تاکہ علامات کا صحیح استعمال ہو — اور دماغ کے حصوں کو حساب کرنے اور کم میعادی حافظے میں مشغول کیا جاتا ہے۔[2]

وسعت کی گنجائش[ترمیم]

کم میعادی حافظے کو لمبی میعادی حافظے بننے کے لیے اس میں لمبی میعاد کے حافظے کی وسعت لانا ضروری ہے، یہ وہ طریقہ ہے جسے حافظے کی جمعبندی (انگریزی: memory consolidation) کہا جاتا ہے۔[3]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Deborah Sullivan Brennan, San Diego Union-Tribune, "New Alzheimer’s care center planned in San Marcos," 15 اگست 2019
  2. Quanta Magazine, "In Brain’s ‘Rich Club,’ Meetings of the Mind," 24 اکتوبر 2013
  3. Michael Greshko, National Geographic, "Human memory: How we make, remember, and forget memories," 4 مارچ 2019