گلدستۂ تحریر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
گلدستۂ تحریر
(چینی میں: 論語 خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں عنوان (P1476) ویکی ڈیٹا پر
Rongo Analects 02.jpg 

مصنف کنفیوشس کے شاگرد
اصل زبان کلاسیکی چینی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں کام یا نام کی زبان (P407) ویکی ڈیٹا پر
تاریخ اشاعت صدی 5 ق م  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ اشاعت (P577) ویکی ڈیٹا پر

اقوالِ کنفیوشس جو اردو میں گلدستۂ تحریر کے نام سے بھی مشہور ہے، کنفیوشس کے اقوال پر مشتمل کتاب ہے جس کو اس کے شاگردوں نے اس کی موت کے بعد جمع کر کے مرتب کیا۔ یہ کتاب اس وقت قدیم چینی زبان میں لکھی گئی تھی لیکن اب تک دنیا کی تمام زبانوں میں اس کے تراجم ہو چکے ہیں۔ یہ کتاب کنفیوشس مت کے پیروکاروں کے لیے ایک صحیفہ کی مانند ہے۔

کنفیوشس[ترمیم]

کنفیوشس کا سنہ پیدائش 551 قبل مسیح ہے۔ اس کی پیدائش ایک گاؤں میں ہوئی جو موجودہ چین کے صوبے شان ننگ میں واقع ہے۔ کنفیوشس کا والد ایک بہادر سپاہی تھا۔ اس کی عمر تین برس تھی جب اس کے والد کا انتقال ہو گیا۔ اس کا حسب و نسب قدیم شاہی خاندان سے جا ملتا ہے۔ کنفیوشس کی جب عمر19 برس کی تھی اس وقت اس کی شادی ہو گئی۔ اس شادی کے نتیجے میں وہ ایک بیٹے اور دو بیٹوں کا باپ بنا۔ اپنی شادی کے زمانے میں وہ غلے اور اناج کے سرکاری گوداموں اور مویشیوں کا انچارج تھا۔ اس کی عمر تیس برس کے لگ بھگ تھی جب اس نے اپنی تعلیمات کا آغاز کیا۔ پھر یہی اس کی عمر کی سب سے اہم مصروفیت ٹهری۔ اس کی دانش کی شہرت جلد ہی پورے چین میں پھیل گئی۔ اس کے شاگرد اور مانے والوں کا ایک وسیع حلقہ بھی قائم ہو گیا۔ ہر شخص اس کا احترام کرنے لگا۔ نہ صرف اس کے اپنے صو بے کے حکمران اور بادشاہ بلکہ دوسرے صوبوں کے حکمران بھی مشوروں کے لیے اس کی طرف رجوع کرنے لگے۔ 501 قبل مسیح میں ڈیوک لو نے کنفیوشس کو چک تو شہر کا گورنر مقرر کر دیا۔ یہاں اس کی تعلیمات نے عملی جامہ پہنا تو صوبے کی ترقی میں معجزانہ تبدیلیاں ہوئی۔ ایک برس کے بعد اسے وزیر تعلیمات مقرر کیا گیا۔ اس کے بعد اسے جرائم کے شعبے کا وزیر بنایا گیا۔ تین برسوں تک وہ اپنی تعلیمات اور اصلاحات کی وجہ سے عوام کی آنکھوں کا تارہ بنا رہا۔ وہ جس صوبے میں بھی ہوتا وہ صوبہ انقلابی تبدیلیوں کے بعد خوش حال ہوجاتا۔ اس کی ان کامیابیوں نے حاسدوں کو پیدا کیا جو دوسرے صوبوں کے حکمران تھے اور کنفیوشس کی بے مثل خدمات اوران کے نتائج سے جلنے لگے کیونکہ وہ اپنے صوبوں میں ایسی تبدیلیوں اور خوش حالی لانے میں نا کام رہے تھے۔ حاسدوں نے ڈیوک لو کے کان بھرنے شروع کیے جس کی وجہ سے کنفیوشس اور ڈیوک لو کے درمیان میں اختلافات پیدا ہوتے چلے گئے۔ 497 قبل مسیح میں کنفیوشس اپنی سرکاری اور انتظامی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہو گیا۔ اس زمانے میں جو سرکاری ذمہ داریوں سے آزادی کا زمانہ تھا کنفیوشس نے اپنے صوبے کی تاریخ قلم بند کی جو 722 قبل مسیح سے 481 قبل مسیح کا احاطہ کرتی تھی۔ اسی زمانے میں کنفیوشس نے چین کا دورہ کیا۔ وہ ہر جگہ اپنی تعینات کا درس دیتا رہا۔ یوں اس کی تعلیمات اس کی زندگی میں ہی پورے چین تک پہنچ گئی اور بہت بڑے حلقے اس سے متاثر ہو حلقہ بگوش ہوئے۔ نئے ڈیوک نے اس کو پھر سے انتظامی ذمہ داریاں سونپنے کی کوشش کی لیکن کنفیوشس کو اب ان سے کوئی دل چسپی باقی نہ رہی تھی۔ اس نے اپنی زندگی کے آخری برس اپنی تعلیمات کے درس او چینی موسیقی کی تشکیل نو پر صرف کیے۔ اس نے 478 قبل مسیح میں وفات پائی۔

اقوالِ کنفیوشس[ترمیم]

کنفیوشس کے اقوال اور تعلیمات کو کب اور کس نے جمع کر کے مرتب کیا اس بارے میں کوئی واضح رائے محققین اور مورخین نے نہیں دی اور نہ ہی یہ کہ کس سن میں لکھی گئی۔ البتہ مورخین اور محققین اس بات پر متفق ہے کہ یہ سب کنفیوشس کی وفات کے کچھ عرصہ بعد اس کے شاگردوں اور پیروکاروں نے سب کچھ جمع کر کے کتابی شکل دی۔ کنفیوشس کے اقوال جو قدیم چینی زبان میں مرتب ہوئے صدیوں سے دنیا کی ہر زبان میں منتقل ہوتے رہے ہیں۔ دنیا کی شاید ہی کوئی زبان ہو جو ان اقوال کو اپنے بولنے والوں تک نہ پہنچا سکی ہو۔ یہ اقوال کنفیوشس اب کنفیوشس مت مذہب میں ایک صحیفہ کا درجہ رکھتی ہے۔

منتخب اقوال[ترمیم]

یہ اقوال کتاب میں سے چند ہیں جن کو جیمز آرویر نے چینی سے انگریزی میں شائع کیے ہے اور بعد ازاں اردو میں ترجمہ ہوئے:

  1. جو چیز تم اپنے لیے پسند کرتے ہو وہی دوسروں کے لیے بھی پسند کرو۔ جو چیز تمہیں ناپسند ہو وہ کبھی دوسروں کے لیے موزوں نہ سمجھو۔
  2. دوسروں کو جان بوجھ کر متاثر کرنے والے آداب سے کوئی شخص بڑا آدمی نہیں بنتا۔
  3. جب کسی شخص کا باپ زندہ ہو تو اس شخص کے مقاصد کا مشاہدہ کرو۔ جب اس کا باپ مر جائے تو اس کے اعمال کا جائزہ لو۔ اگر وہ اپنے باپ کے تین برس بعد بھی اپنے اندر کوئی تبدیلی نہیں لاتا تو پھر وہ سچا آدمی ہے۔
  4. مجھے اس بات سے کوئی پروہ نہیں کہ کوئی شخص مجھے کیوں نہیں جانتا ، مجھے تو اس بات سے دلچسپی ہے کہ میں اسے کیوں نہیں جانتا۔
  5. جب آپ کسی اعلیٰ انتظامی عہدے پر فائز ہوں تو آپ کو شمالی ستارے کی طرح بن جانا چاہیے۔ یہ ستارہ ہمیشہ اپنی جگہ موجود رہتا ہے حرکت نہیں کرتا اور دوسرے ستارے اس کے گرد جھرمٹ ڈال دیتے ہیں۔
  6. جب تک آپ کے والدین زندہ ہیں اخلاقی آداب اور رسوم کے تحت ان کی خدمت کریں۔ جب وہ فوت ہو جائیں تو اخلاقی رسوم کے تحت ان کو دفن کریں اور ان کے بعد ان کی یاد میں اخلاقی روایات کے تحت نذرانے پیش کرتے رہیں۔
  7. بزدلی اصل میں یہ ہے کہ آپ حق کے لیے آواز نہ اٹھا سکیں۔
  8. میں کسی ایسے شخص کے ساتھ مذاکرات پسند نہیں کرتا جو اپنے بھدے اور پھٹے پرانے لباس پر شرمندہ ہو۔
  9. وہ شخص جو اپنے تمام اعمال کو صرف اپنے مقاصد اور مفاد کے لیے وقف کر دیتا ہے اس کے دشمنوں کی تعداد بڑھتی چلی جاتی ہے۔
  10. جب تک آپ کے والدین زندہ ہیں آپ کو مقدس مقامات کی زیارتوں کے لیے جانے کی ضرورت نہیں۔
  11. جو شخص اپنے ساتھ محکم اور سخت رویہ رکھتا ہو وہ کبھی نہیں گرتا۔
  12. گوشت کے بغیر سبزی کھانا پڑے، پینے کے لیے صرف پانی ملے، سونے کے لیے تکیہ نہ ہو بلکہ بازو کو ہی تکیہ بنانا پڑے۔ یہ حالت بہتر ہے اس دولت سے جو بے انصافی سے حاصل کی گئی ہو۔
  13. مطالعہ اس طرح کرو کہ تم علم پر کبھی حاوی نہ ہو سکو گے اور ہمیشہ اس خوف میں مبتلا ہو کہ تم نے جو پڑھا ہے وہ کہیں ضائع نہ کر دو۔
  14. بڑا آدمی وہ ہے جو اپنی خوبیاں دوسروں میں منتقل کرتا ہے اور اپنی برائیوں اور کوتاہیوں کو دوسروں سے دور رکھتا ہے۔
  15. بڑا آدمی تھوڑے الفاظ اور زیادہ کارناموں کا مالک ہوتا ہے۔
  16. بڑا آدمی نہ پریشان ہوتا ہے نہ خوفزدہ۔
  17. اگر آپ کسی چھوٹی چیز پر نظر لگائے بیٹھے ہیں تو بڑی چیز آپ کو کبھی نہیں ملے گی۔
  18. ہماری عادات ہمیں ایک دوسرے سے دور لے جاتی ہے وہ جن میں کبھی کوئی تبدیلی نہیں آتی، ولی ہوتے ہیں یا احمق۔ [1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. دنیا کی سو عظیم کتابیں مولف ستار طاہر صفحہ 57 تا 67