گھریلو معاشیات

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
گھریلو معاشیات کی ایک معلمہ مظاہرہ کرتے ہوئے۔ سیئٹل، 1953
وٹگینسٹین ریفینسٹین اسکولوں میں 1985 کی تربیتی کلاس

گھریلو معاشیات یا فیملی اینڈ کنزیومر سائنسز، آج انسانی ترقی، ذاتی اور خاندانی مالیات، ہاؤسنگ، اندرونی تزئین، غذائی علوم اوراس کی تیاری، غذائیت اور تندرستی، ٹیکسٹائل اور ملبوسات، اور صارفین کے مسائل سے متعلق ایک شعبہ علم ہے۔ [1]

گھریلومعاشیات 'ہوم اکنامکس' کورسز پوری دنیا میں اور متعدد تعلیمی سطحوں پر پیش کیے جاتے ہیں۔ تاریخی طور پر ان کورسز کا ہدف گھریلو کام کاج کوفنی مہارت سے انجام دینا، خواتین کے لیے تدبر و تفکر کی راہیں کھولنا، اور معاشرے میں "خواتین کے کام" کی اہمیت و افادیت کی طرف توجہ دلانا اور انہیں جنسوں کے روایتی کرداروں کے لیے تیار کرنا تھا۔

اصطلاحات[ترمیم]

تاریخ[ترمیم]

کینیڈا[ترمیم]

جرمنی[ترمیم]

آفلیڈن میں باغبانی، 1898

انڈیا[ترمیم]

انڈونیشیا[ترمیم]

آئرلینڈ[ترمیم]

اٹلی[ترمیم]

جنوبی کوریا[ترمیم]

سویڈن[ترمیم]

متحدہ سلطنت یونائیٹڈ کنگڈم[ترمیم]

ریاستہائے متحدہ[ترمیم]

انیسویں صدی[ترمیم]

کیتھرین بیچر، امریکی ماہر تعلیم

بیسویں صدی[ترمیم]

اکیسویں صدی[ترمیم]

یہ بھی دیکھیں[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

مزید مطالعہ[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]

معاشرے اور انجمنیں۔
حوالہ جات
  1. "FAQ". American Association of Family and Consumer Sciences. 11 جنوری 2015 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 11 جنوری 2015.